بھارت کا منفی رویہ

بھارت کی یہ فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ وہ پاکستان کی ہر اچھی بات کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش کی تھیوری تلاش کر لیتا ہے۔

بھارت کی یہ فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ وہ پاکستان کی ہر اچھی بات کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش کی تھیوری تلاش کر لیتا ہے۔ فوٹو:فائل

پاکستان کی طرف سے بھارت کو کرتار پور کی راہداری کھولنے کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ سکھ یاتری پاکستان کے علاقے نارووال میں واقع گوردوارہ کرتارپور صاحب کی یاترا کے لیے آ جا سکیں۔ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کے اس اقدام کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تا کہ دونوں متحارب ملکوں میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ لیکن بھارت کی طرف سے پاکستان کے اس اقدام کو سیاست بازی کی نذر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارت کی یہ فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ وہ پاکستان کی ہر اچھی بات کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش کی تھیوری تلاش کر لیتا ہے۔ پاکستان نے کرتار پور بارڈر کھول کر بھارت کو تعلقات کی مزید بحالی کے لیے مذاکرات کی دعوت دی مگر بھارت مرغی کی ''ایک ٹانگ'' کے مصداق مثبت جواب دینے کے بجائے اگر مگر سے کام لے رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت پاکستان کی طرف سے اس خیرسگالی کی پیشکش کا مثبت جواب دیتا مگر بھارت نے حسب عادت اس پیشکش میں بھی منفی پہلو نکال لیے اور غیرسنجیدہ الزامات عائد کرنے کا طومار باندھ دیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے دوران تمام عرصہ پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر جمود کی گہری برف جمی رہی۔ دونوں ملکوں میں جامع مذاکرات کا سلسلہ منجمد رہا اور بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات لگاتا رہا اور اس بے معنی الزام کے بہانے بات چیت کرنے سے انکار کرتا رہا۔


بھارت کی بڑی مجبوری یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی نے پچھلا الیکشن پاکستان دشمنی کا الاؤ جلا کر جیتا اور اب چونکہ اگلا جنرل الیکشن عین سر پر ہے لہٰذا بھارت اس موقعے پر کوئی نرمی دکھانے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان دشمنی کی فضا ہموار کر رکھی ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ مودی کی بی جے پی پانچ ریاستی الیکشنز میں بری طرح پٹ چکی ہے لہٰذا مودی کو پاکستان دشمنی کا راگ اور زیادہ زور سے الاپنا پڑے گا کیونکہ بھاری نیتاؤں کو خطے میں قیام امن یا اپنے خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے عوام کی بہتری کی کوئی آرزو نہیں ہے اور اپنی انتخابی فتح کے لیے بھارت پاکستان دشمنی اور مسلم دشمنی کے لیے جس قدر ڈرامے بازی چاہے کرتی رہے گی۔ تاہم کرتار پور کوریڈور بھارت کو ایک ایسا سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ از سرنو تعلقات کی بحالی کا آغاز کر سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں کو فرانس اور جرمنی کی مثال سے سبق سیکھنا چاہیے۔ کرتار پور بارڈر مذہبی سیاحت کی راہ بھی استوار کرے گا اور کروڑوں سکھوں کے دل کی مراد بر آئے گی جن کے تمام مقدس مقامات پاکستان میں ہیں اور پاکستان انھیں خوش آمدید کہنے پر ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

پاکستان کے بزرگ صوفیوں کے مزارات بھی بھارت میں ہیں جہاں پاکستان عقیدت مند جاتے رہتے ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی کا مزار اجمیر میں اور نظام الدین اولیا کا مزار دہلی میں ہے جہاں پاکستان کے مسلمان ہمیشہ جاتے ہیں لیکن موجودہ وقت میں ویزا حاصل کرنا جان جوکھوں کا کام ہے حالانکہ ویزے کا حصول آسان بنانا چاہیے۔
Load Next Story