اے پی سی کیلیے حکومت ہوم ورک ہی مکمل نہیں کرسکی شاہ محمود

دہشتگردوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے حوالے سے حکومتی پالیسی جلد سامنے آئیگی، وقاص اکرم۔

ڈرون اور انرجی بحران پر نئی حکومت کو نئی بات نہیں کر سکی، مولا بخش چانڈیو، تکرار میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یہ بات حقیقت ہے کہ حکومت ابھی اے پی سی کے حوالے سے اپنا ہوم ورک پورا نہیں کرسکی۔

ہم اے پی سی میں اپنا ان پٹ دینے کو تیار ہیں ۔ایکسپریس نیو ز کے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انہوں نے کہا عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف کو درخواست کی تھی کہ اے پی سی کے علاوہ چند سینئر حضرات کی ملاقات کا اہتمام کیا جائے،جس میں بڑی سیاسی قیادت فوج اور دیگر اداروں کے اعلیٰ حکام موجود ہوں،ہم آپس میں سیر حاصل گفتگو کرلیں کیونکہ یہ ایک اہم حساس معاملہ ہے اس پر سرعام کھل کر بات نہیں ہوسکتی،عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بلاوجہ کسی پر انگلیاں نہیں اٹھانا چاہتے اس لیے اے پی سی کو مفید بنانے کے لیے پہلے خود ملاقات کی جائے لیکن تاحال اس تجویز پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔




خدشہ ہے کہ افغانستان سے امریکا کے جانے کے بعد حالات مذید خراب ہونگے اور ان کا اثر پاکستان پر پڑے گا۔ہم اے پی سی بلانے کے حق میں ہیں پارلیمنٹ میں حکومت کی پالیسی پر بات چیت کے حق میں ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ کے پی کے کی حکومت کو آن بورڈ لیا جائے جب تک ملک میں امن نہیںہوگا ملک ترقی نہیں کر پائے گا۔ سندھ اور کراچی کے حالات بھی خراب ہیں ہم تو سندھ حکومت سے کہتے ہیں کہ اگر ان کو وفاق کی کسی مدد کی ضرورت ہے تو ان سے مانگیں، مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے کہاکہ اے پی سی کا مقصد یہ تھا کہ قومی سلامتی کے بارے میں حکومت جو پالیسی مرتب کرے وہ سب سیاسی جماعتوں کو قبول ہو اور وہ اپنے اپنے صوبوں میںاس پر عملدرآمد کریں،جہاں جہاں مسائل ہیں وہاں وہاں ایکشن لینا ضروری ہے دہشتگردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے ہی نمٹنا چاہیے، اس حوالے سے حکومت کی پالیسی جلد سامنے آئیگی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ جب ہماری حکومت تھی تو ایسا لگتا تھا کہ اگر یہ حکومت میں آگئے تو یہ ڈرون مار گرائیںگے یہ تو کہتے تھے کہ ہم صلاح الدین کی تلواریں لے کر آجائیں گے لیکن اب حکومت میں آنے کے بعد یہ بھی وہی باتیں کررہے ہیں جو ہم کرتے تھے۔ انرجی کے بحران پر وزیراعظم آج وہ باتیں نہیں کررہے جو وہ الیکشن سے قبل کیا کرتے تھے۔جس مسئلے پر ساری قوم پریشان ہے اس کے بارے میں ابھی تک حکومت طے نہیں کرپائی کہ کیا کرنا ہے۔کراچی میں امن کا مسئلہ نہیں وہاں امن کا بحران ہے کراچی میں امن کے قیام کے لیے سب کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا،سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ کراچی میں بدامنی کی ذمے دار سیاسی پارٹیاں ہیں۔
Load Next Story