اسٹیل مل بجلی بحال نہ ہوئی 2دن میں 14 کروڑ کا نقصان
وزارت خزانہ ادائیگی کی یقین دہانی کرائے توبحالی ممکن ہے،کے ای ایس سی
وزارت خزانہ ادائیگی کی یقین دہانی کرائے توبحالی ممکن ہے،کے ای ایس سی فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
کے ای ایس سی اوراسٹیل مل کے مابین واجبات کاتنازعہ تیسرے روزبھی طے نہیں ہوسکا۔
جبکہ اسٹیل مل انتظامیہ کا کہناہے کہ بجلی کی عدم فراہمی کے سبب 14کروڑ روپے کانقصان ہواہے۔ واضح رہے کہ کے ای ایس سی نے بدھ کی شام 93کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پراسٹیل مل کی بجلی منقطع کردی تھی جبکہ جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اسٹیل مل نے رہائشی کالونی کی بجلی بحال کرنے کے عوض کے ای ایس سی کو25کروڑ روپے کی ادائیگی کردی تھی تاہم کے ای ایس سی نے مکمل طورپر بجلی کی فراہمی کے لیے کم ازکم 52کروڑ روپے کی ادائیگی کامطالبہ کیاتھا۔ جمعے کودونوں اداروں کے مابین ڈیڈلاک برقرار رہا۔
کے ای ایس سی ترجمان کے مطابق نصف واجبات کی ادائیگی تک اسٹیل کومکمل بجلی کی فراہمی نہیں کی جائے گی۔ اگراسٹیل مل کی جانب سے وزارت خزانہ آئندہ 2ہفتوں میںواجبات کی ادائیگی کی یقین دہانی کراتی ہے توبجلی کی بحالی ممکن ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے سی ای اوپاکستان اسٹیل میجرجنرل(ر) محمدجاوید کے استعفیٰ کے بعد چیئرمین ایکسپورٹ پراسیسنگ زون اتھارٹی(ایپزا) سعادت ایس چیمہ کواسٹیل مل کے سی ای اوکا اضافی چارج دے دیاہے۔ ترجمان پاک اسٹیل کے مطابق قائم مقام سی ای اوواصف محمودکو چارج سعادت ایس چیمہ کے حوالے کرنے کے احکام جاری کردیے گئے ہیں۔
ترجمان اسٹیل مل کے مطابق بجلی کی عدم فراہمی کے باعث کوائل کی تیاری کاکام مکمل طورپر بندہو چکاہے اوراس ضمن میںسیلز کی مدمیں ادارے کو 2روز میں 14کروڑ روپے کانقصان ہوچکا ہے۔ ترجمان نے بتایاکہ اسٹیل مل کے تھرمل پاورپلانٹ سے حاصل کردہ 20تا 24میگاواٹ کی مددسے بلاسٹ فرنس اور کوک اوون بیٹری میں پیداواری عمل کوجاری رکھا ہواہے اورحاصل کردہ بجلی سے اسٹیل کی تیاری کی جارہی ہے۔ ترجمان نے خدشہ ظاہر کیاکہ اگرکے ای ایس سی نے جلدبجلی بحال نہ کی اورادارے کاتھرمل پاورپلانٹ بیٹھ گیاتو ملزمیں پیداواری عمل مکمل طورپر بند ہوجائے گا اوردوبارہ مل چلانے میں 3ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔
کے ای ایس سی اوراسٹیل مل کے مابین واجبات کاتنازعہ تیسرے روزبھی طے نہیں ہوسکا۔
جبکہ اسٹیل مل انتظامیہ کا کہناہے کہ بجلی کی عدم فراہمی کے سبب 14کروڑ روپے کانقصان ہواہے۔ واضح رہے کہ کے ای ایس سی نے بدھ کی شام 93کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پراسٹیل مل کی بجلی منقطع کردی تھی جبکہ جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اسٹیل مل نے رہائشی کالونی کی بجلی بحال کرنے کے عوض کے ای ایس سی کو25کروڑ روپے کی ادائیگی کردی تھی تاہم کے ای ایس سی نے مکمل طورپر بجلی کی فراہمی کے لیے کم ازکم 52کروڑ روپے کی ادائیگی کامطالبہ کیاتھا۔ جمعے کودونوں اداروں کے مابین ڈیڈلاک برقرار رہا۔
کے ای ایس سی ترجمان کے مطابق نصف واجبات کی ادائیگی تک اسٹیل کومکمل بجلی کی فراہمی نہیں کی جائے گی۔ اگراسٹیل مل کی جانب سے وزارت خزانہ آئندہ 2ہفتوں میںواجبات کی ادائیگی کی یقین دہانی کراتی ہے توبجلی کی بحالی ممکن ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے سی ای اوپاکستان اسٹیل میجرجنرل(ر) محمدجاوید کے استعفیٰ کے بعد چیئرمین ایکسپورٹ پراسیسنگ زون اتھارٹی(ایپزا) سعادت ایس چیمہ کواسٹیل مل کے سی ای اوکا اضافی چارج دے دیاہے۔ ترجمان پاک اسٹیل کے مطابق قائم مقام سی ای اوواصف محمودکو چارج سعادت ایس چیمہ کے حوالے کرنے کے احکام جاری کردیے گئے ہیں۔
ترجمان اسٹیل مل کے مطابق بجلی کی عدم فراہمی کے باعث کوائل کی تیاری کاکام مکمل طورپر بندہو چکاہے اوراس ضمن میںسیلز کی مدمیں ادارے کو 2روز میں 14کروڑ روپے کانقصان ہوچکا ہے۔ ترجمان نے بتایاکہ اسٹیل مل کے تھرمل پاورپلانٹ سے حاصل کردہ 20تا 24میگاواٹ کی مددسے بلاسٹ فرنس اور کوک اوون بیٹری میں پیداواری عمل کوجاری رکھا ہواہے اورحاصل کردہ بجلی سے اسٹیل کی تیاری کی جارہی ہے۔ ترجمان نے خدشہ ظاہر کیاکہ اگرکے ای ایس سی نے جلدبجلی بحال نہ کی اورادارے کاتھرمل پاورپلانٹ بیٹھ گیاتو ملزمیں پیداواری عمل مکمل طورپر بند ہوجائے گا اوردوبارہ مل چلانے میں 3ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔