سائبرکرائمز موثر قانون سازی کی ضرورت
سائبرکرائم ایکٹ کے تحت چالیس افراد کو فراڈ،دھوکا دہی اور دیگر الزامات کے تحت گرفتارکیا گیا۔
سائبرکرائم ایکٹ کے تحت چالیس افراد کو فراڈ،دھوکا دہی اور دیگر الزامات کے تحت گرفتارکیا گیا۔ فوٹو: فائل
ملک بھر میں سوشل میڈیا اورانٹرنیٹ کرائمز میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے،ایف آئی اے سائبرکرائم سیل لاہور ریجن کوگزشتہ ایک برس کے دوران چارہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جن میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی ایک ہزار درخواستیں بھی شامل ہیں، جن کے مطابق دوستی اور شادی کا جھانسہ دیکر تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں جس سے ان کی شادی یا نکاح ختم ہوگئے۔
سائبرکرائم ایکٹ کے تحت چالیس افراد کو فراڈ،دھوکا دہی اور دیگر الزامات کے تحت گرفتارکیا گیا اوران کے قبضے سے سیکڑوں انٹرنیٹ ڈیوائسز، کریڈٹ پاز مشین بٹ اور ون کوائن سمیت ڈیجیٹل کرنسیاں اور دیگر آلات برآمد کیے گئے۔
دراصل ہمارے یہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ نئی ٹیکنالوجی آنے کے کیا، کیا نقصانات ہوسکتے ہیں ۔اس وقت پورے ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تین کروڑ سے تجاوز ہو چکی ہے۔ اسمارٹ فونزکے ذریعے وڈیو بنانا اور اس کوکسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کرنا آسان اورسستا ہوگیا ہے۔
اس کے لیے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی ضرورت بھی نہیں رہی ۔ مختلف ممالک میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پرکسی کو بدنام کرنے یا بلیک میل کرنے پر ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری ایکشن لیا جاتا ہے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسی شکایات کو سرد خانے کی نذرکردیا جاتا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ موبائل فون کی غیرقانونی سموں کا پھیلاؤ ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے جرم کرنے والا شخص اگر اپنے نام کی رجسٹرڈ سِم کے ذریعے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا مشکل کام نہیں، لیکن اگرکوئی شخص کسی دوسرے کے نام کی سم یا غیرقانونی طور پر حاصل کی گئی سم پرکوئی مجرمانہ حرکت کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔
اگر حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اس صورت حال پر توجہ نہ دی تو ملک میں سائبرکرائم کی وارداتیں خوف ناک حد تک بڑھ جائیں گی۔ والدین کو بھی اس حوالے سے پوری طرح چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔
سائبرکرائم ایکٹ کے تحت چالیس افراد کو فراڈ،دھوکا دہی اور دیگر الزامات کے تحت گرفتارکیا گیا اوران کے قبضے سے سیکڑوں انٹرنیٹ ڈیوائسز، کریڈٹ پاز مشین بٹ اور ون کوائن سمیت ڈیجیٹل کرنسیاں اور دیگر آلات برآمد کیے گئے۔
دراصل ہمارے یہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ نئی ٹیکنالوجی آنے کے کیا، کیا نقصانات ہوسکتے ہیں ۔اس وقت پورے ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تین کروڑ سے تجاوز ہو چکی ہے۔ اسمارٹ فونزکے ذریعے وڈیو بنانا اور اس کوکسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کرنا آسان اورسستا ہوگیا ہے۔
اس کے لیے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی ضرورت بھی نہیں رہی ۔ مختلف ممالک میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پرکسی کو بدنام کرنے یا بلیک میل کرنے پر ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری ایکشن لیا جاتا ہے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسی شکایات کو سرد خانے کی نذرکردیا جاتا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ موبائل فون کی غیرقانونی سموں کا پھیلاؤ ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے جرم کرنے والا شخص اگر اپنے نام کی رجسٹرڈ سِم کے ذریعے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا مشکل کام نہیں، لیکن اگرکوئی شخص کسی دوسرے کے نام کی سم یا غیرقانونی طور پر حاصل کی گئی سم پرکوئی مجرمانہ حرکت کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔
اگر حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اس صورت حال پر توجہ نہ دی تو ملک میں سائبرکرائم کی وارداتیں خوف ناک حد تک بڑھ جائیں گی۔ والدین کو بھی اس حوالے سے پوری طرح چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔