دہشت گردی کے خلاف اہم پیش رفت

ملک کے طول وعرض میں دہشت گرد جہاں اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں وہیں قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکار بھی...

پولیس اور حساس ادارے کے اہلکاروں نے بشیر لغاری اور اس کے 3 ساتھیوں کو گرفتار کرکے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا فوٹو: فائل

ملک کے طول وعرض میں دہشت گرد جہاں اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں وہیں قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکار بھی اب ان کے تعاقب میں ہیں اور انھیں گرفتارکرکے قانون کے مطابق سزا دلوانے میں بنیادی کردار ادا کررہے ہیں ۔یہ فعالیت ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا نکتہ عروج بھی ثابت ہوسکتی ہے بشرطیکہ ملکی سلامتی پر مامور حکام وطن عزیز کو درپیش دہشت گردی کے عفریت کی ہلاکت خیزیوں کا ہمہ جہتی ادراک کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔اسی حوالے سے ایک اہم ترین کامیابی کا انکشاف انٹیلی جنس بیورو نے کیا ہے کہ کالعدم تنظیم لشکرجھنگوی کے ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ اور جسٹس باقر پر بم حملے کے ماسٹر مائنڈمعصوم بااللہ کوگرفتارکر لیاگیاہے ، ملزم کی گرفتاری طویل خفیہ نگرانی کا نتیجہ ہے ۔موصولہ اہم خفیہ معلومات پر کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملزم کو گرفتار کیا گیا، بلاشبہ اسے ایک اہم کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے ۔

آئی بی کے اعلیٰ سطح کے بریفنگ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے ہدایت کی کہ ملک میں سلامتی اور امن کے اجتماعی مقصدکے حصول کے لیے دہشت گردوں،ان کے ساتھیوں اوردیگرجرائم پیشہ عناصرپرکڑی نگاہ رکھی جائے ، سیکیورٹی ایجنسیوں اورقانون نافذکرنے والے صوبائی اداروں کے اشتراک کے ذریعے ملک بھرمیں انٹیلی جنس نیٹ ورک میں اضافہ کیا جائے جس سے امن وامان کے قیام میں بڑی مددملے گی۔ وزیراعظم نوازشریف نے دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھنے اور سیکیورٹی اداروں کے باہمی ربط کے حوالے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ بطور وزیراعظم ان کی پہلی ترجیح ملک میں امن وامان کا قیام ہے اور وہ دہشت گردی کے خاتمہ اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی کی تشکیل میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں جو وقت کا تقاضا اور ملکی دفاع اور داخلی صورتحال کی بہتری کی سمت درست اقدام ہے ۔

اس سے ہی ملکی معیشت میں بہتری آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں آمرانہ حکومتوں کی غلط پالیسوں کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں، دہشت گردی کے عفریت نے ہزاروں جانیں نگل لی ہیں،دہشت گرد،خودکش بمبار اور ٹارگٹ کلرزکے کئی گروہ ملک بھر میں سرگرم عمل ہیں ۔جو انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں،یوں دیکھا جائے تو دہشت گرد گروہوں اور جرائم پیشہ مافیا کے درمیان بھی ہم آہنگی پیدا ہوچکی ہے کیونکہ دونوں کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ من مانی کرسکیں۔ کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اس میں گزشتہ کئی برسوں سے ٹارگٹ کلرز اور اغوا برائے تاوان کے گروہوں کا راج ہے ، قتل و غارت کا سلسلہ بھی جاری وساری ہے۔کراچی دہشت گردوں اور جرائم پیشہ مافیا کا برسوں سے ٹارگٹ ہے کیونکہ یہاں سے ہی پاکستان کی معاشی شہ رگ کو کاٹا جاسکتا ہے ۔گزشتہ روز شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کے 2 کارکنوں سمیت مزید 5 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہو گئے ۔


دوسری جانب مختلف جرائم پیشہ گروہ جنھیں بعض سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے وہ دکانداروں اور تاجروں کو بھتے کی پرچیاں بھی دے رہے ہیں اور بھتہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کے گھروں پر حملے بھی ہورہے ہیں ۔ جوکہ حکومتی رٹ کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ حد یہ ہے کہ لیاری سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن رینجرز اورپولیس کررہی ہے لیکن ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ آپریش کے دوران جن افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے ان پر دوران حراست بے جا تشدد کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ چند روز میں تین افراد کی ہلاکت کے واقعات ہوئے ہیں۔یہ ایسی صورتحال ہے جس پر کنٹرول کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے سیکیورٹی اداروں کی بدنامی ہوتی ہے اور ایسے واقعات خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے کی منفی سوچ کی نشاندہی بھی کرتے ہیں ۔ان ہلاکتوں سے جبر کا پہلو نکلتا ہے اور شہریوں کا اشتعال ایک ایسے شہر میں مناسب نہیں جہاں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا جنون کاروبار بن چکا ہو۔ارباب اختیار کو اس صورتحال پر لازمی کنٹرول کرنا چاہیے۔

حکومت بلوچستان کی مخدوش صورتحال پر بھی توجہ دے۔ رینجراہلکار کی فائرنگ کے نتیجے میں ٹیکسی ڈرائیور کے جاں بحق ہونے کا از خود نوٹس سپریم کورٹ لے چکی ہے اور اس مقدمے کی سماعت جاری ہے ۔وہیں گزشتہ روز رینجرز پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار ملزم کی دوران حراست ہلاکت اور رینجرز اور پولیس کا ایک دوسرے پر مدعا ڈالنا افسوس ناک امر ہے ۔اس طرح کے واقعات معاشرے منفی سوچ کو پروان چڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ بعض عناصر ان واقعات سے یہ تاثر ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قانون نافذکرنے والے ادارے ''ظالم'' ہیں ۔ جب کہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پاک فوج ،رینجرز اور پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے ہزاروں جوانوں اور اہلکاروں کی قربانیاں دی ہیں اور کسی بھی لمحے دفاع وطن پر آنچ نہیں آنے دی ہے ۔

ہمیں اس حقیقت کا مکمل ادراک ہے کہ ملک حالت جنگ میں ہے، چاہے وہ خیبرپختون خوا یا بلوچستان کے شورش زدہ علاقے یا منی پاکستان سب کی پکار امن کی ہے، ہمارا اولین قومی مسئلہ امن وامان کی بحالی ہے،قوموں کی زندگی میں آزمائش کی گھڑیاں آتی ہیں وہ اس میں سرخرو ہوتے ہیں،دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے سامنے سری لنکا کی بہترین مثال موجود ہے جس نے مسلسل تیس برس تک تامل ٹائیگرز کے دہشت گردوں سے جنگ کی ، اور بالآخر فتح سے ہمکنار ہوئے اور ملک میں امن وامان قائم ہوا۔لشکر جھنگوی کے ملزم کی گرفتاری اس امر کا ثبوت ہے کہ کوئی قانون شکن ریاستی طاقت سے بالاتر نہیں۔ پاکستانی قوم نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، نومنتخب حکومت اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اسے عوام کا بھرپور مینڈیٹ ملا ہے۔دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی ربط انتہائی مضبوط اور فعال ہونا چاہیے اور ملزموں کے بارے میں انفارمیشن کا تبادلہ فوری ہونا چاہیے تاکہ کوئی مجرم بچ کرنہ نکل سکے ۔

دوسری طرف دہشت گردوں کا نیٹ ورک زیادہ مضبوط اورفعال نظرآتا ہے وہ جب چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں باآسانی اپنی مذموم کارروائی مکمل کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ڈال دیتے ہیں ۔ پولیس کی نااہلی کا تو یہ عالم ہے کہ کراچی کے عدالتوں میں پیشی کے موقعے پر انتہائی مطلوب دہشت گرد پولیس کی حراست سے فرار ہوچکے ہیں ۔چنانچہ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا اس وقت ملک کی معاشی اور اقتصادی سرگرمیاں بحال نہیں ہوسکتیں اور ہم اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہوسکتے ۔
Load Next Story