شام کا سنگین ہوتا ہوا بحران
شام میں تاحال امن کے قیام کی کوئی صورت سامنے نہیں آ سکی۔ اس ملک میں عالمی طاقتوں کا کھیل بدستور جاری ہے۔
شام میں تاحال امن کے قیام کی کوئی صورت سامنے نہیں آ سکی۔ اس ملک میں عالمی طاقتوں کا کھیل بدستور جاری ہے۔ فوٹو: رائٹرز
شام میں تاحال امن کے قیام کی کوئی صورت سامنے نہیں آ سکی۔ اس ملک میں عالمی طاقتوں کا کھیل بدستور جاری ہے۔ غیرملکی خبررساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق شام میں سرکاری فوج اور باغیوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں 29 جنگجوؤں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ جھڑپیں شام میں ترکی کی سرحد کے قریب ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 19 کا تعلق النصر فرنٹ نامی جہادی گروپ سے بتایا گیا ہے جب کہ دیگر کُردوں کے مسلح گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ شام میں جاری اس لڑائی کا سب سے زیادہ نقصان وہاں کے عوام کو ہو رہا ہے۔ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجوں کے خلاف جنگ کرنے والوں کو امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے اسلحہ اور مالی امداد دی جا رہی
ہے۔ اس الزام میں حقیقت اس وجہ سے بھی نظر آتی ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اردن میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپوں کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ زطاری مہاجر کیمپ کے دورے کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ شامی مہاجرین کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں مقدس زیارت گاہوں پر گولہ باری اور راکٹ حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس کا الزام سرکاری فوجوں کی طرف سے باغیوں پر جب کہ باغیوں کی طرف سے سرکاری فوج پر عائد کیا گیا ہے۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو اس قسم کی شرانگیزی کا مطلب فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔
امریکا کے شام کی صورت حال میں گہر ے طور پر ملوث ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی کو باقاعدہ طور پر امریکی سینٹر کی امور خارجہ کمیٹی کے روبرو طلب کر کے شام کی صورت حال کے بارے میں بریفنگ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ نیز جنرل ڈیمپسی سے استفسار کیا گیا کہ آخر امریکا کو شام میں فوجی مداخلت کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق جنرل ڈیمپسی نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ امریکی حکومت کے اندرونی حلقے شام پر اچانک حملے کے بارے میں غور کر رہے ہیں تاہم اس پر عمل درآمد کا حتمی فیصلہ صدر اوباما اور حکومت کی منشاء سے ہو گا۔ واضح رہے امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر جان میک کین شام میں امریکا کی فوجی مداخلت کے زبردست حامیوں میں ہیں۔ادھر شام کے ایک اہم باغی کمانڈر کے امریکا کے دورے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ شامی باغیوں کی سپریم ملٹری کونسل کے جنرل سلیم ادریس آئندہ ہفتے امریکا پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کے دفاتر کا دورہ کرنے کے بعد واشنگٹن بھی جائیں گے۔ ان سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کا بحران مزید سنگین ہو گا۔ شام کی صورت حال میں عرب لیگ کا کردار بھی زیادہ فعال نظر نہیں آ رہا۔ او آئی سی بھی زیادہ متحرک نہیں ہے۔ بڑی طاقتیں اپنی اپنی لڑائی شام میں لڑ رہی ہیں۔ روس اور ایران بشار حکومت کی مدد کر رہے ہیں جب کہ امریکا اور مغربی ممالک باغیوں کے حامی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ شام جو ایک مستحکم ملک تھا، اب بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ شامی مہاجرین خوراک کے لیے قطاروں میں لگے نظر آ رہے ہیں۔ یہاں بھی وہی تاریخ دہرانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جو پہلے عراق اور پھر لیبیا میں دہرائی گئی ہے۔
ہے۔ اس الزام میں حقیقت اس وجہ سے بھی نظر آتی ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اردن میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپوں کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ زطاری مہاجر کیمپ کے دورے کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ شامی مہاجرین کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں مقدس زیارت گاہوں پر گولہ باری اور راکٹ حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں جس کا الزام سرکاری فوجوں کی طرف سے باغیوں پر جب کہ باغیوں کی طرف سے سرکاری فوج پر عائد کیا گیا ہے۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو اس قسم کی شرانگیزی کا مطلب فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔
امریکا کے شام کی صورت حال میں گہر ے طور پر ملوث ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی کو باقاعدہ طور پر امریکی سینٹر کی امور خارجہ کمیٹی کے روبرو طلب کر کے شام کی صورت حال کے بارے میں بریفنگ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ نیز جنرل ڈیمپسی سے استفسار کیا گیا کہ آخر امریکا کو شام میں فوجی مداخلت کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق جنرل ڈیمپسی نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ امریکی حکومت کے اندرونی حلقے شام پر اچانک حملے کے بارے میں غور کر رہے ہیں تاہم اس پر عمل درآمد کا حتمی فیصلہ صدر اوباما اور حکومت کی منشاء سے ہو گا۔ واضح رہے امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر جان میک کین شام میں امریکا کی فوجی مداخلت کے زبردست حامیوں میں ہیں۔ادھر شام کے ایک اہم باغی کمانڈر کے امریکا کے دورے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ شامی باغیوں کی سپریم ملٹری کونسل کے جنرل سلیم ادریس آئندہ ہفتے امریکا پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کے دفاتر کا دورہ کرنے کے بعد واشنگٹن بھی جائیں گے۔ ان سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کا بحران مزید سنگین ہو گا۔ شام کی صورت حال میں عرب لیگ کا کردار بھی زیادہ فعال نظر نہیں آ رہا۔ او آئی سی بھی زیادہ متحرک نہیں ہے۔ بڑی طاقتیں اپنی اپنی لڑائی شام میں لڑ رہی ہیں۔ روس اور ایران بشار حکومت کی مدد کر رہے ہیں جب کہ امریکا اور مغربی ممالک باغیوں کے حامی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ شام جو ایک مستحکم ملک تھا، اب بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ شامی مہاجرین خوراک کے لیے قطاروں میں لگے نظر آ رہے ہیں۔ یہاں بھی وہی تاریخ دہرانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جو پہلے عراق اور پھر لیبیا میں دہرائی گئی ہے۔