اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا

چند دنوں پہلے اس کی نبضیں چھوٹ گئی تھیں اور دنیا کے تمام براعظموں میں اس کے لیے شمعیں جلائی جا رہی تھیں، چرچ، مندر۔۔۔

zahedahina@gmail.com

چند دنوں پہلے اس کی نبضیں چھوٹ گئی تھیں اور دنیا کے تمام براعظموں میں اس کے لیے شمعیں جلائی جا رہی تھیں، چرچ، مندر، مسجد میں اس کی زندگی کی دعائیں ہو رہی تھیں۔ وہ زندگی بھر ایک جنگجو رہا۔ اس نے اپنے دشمنوں کے دانت ہر مرحلے پر کھٹے کیے۔ اس مرتبہ اس نے نہایت نازک حالت میں 41 دن اسپتال کے بستر پر گزارے۔ نیم بے ہوشی کے عالم میں وہ جانے کن آسمانوں میں عقاب کی طرح اڑتا رہا اور کسی وھیل مچھلی کی طرح سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا رہا۔

18 جولائی اس کی سالگرہ کا دن تھا۔ اس روز جب ملک کا صدر اس کی عیادت کے لیے اسپتال پہنچا اور اس نے با آواز بلند اسے سالگرہ کی مبارکباد دی تو اس نے آنکھیں کھولیں، مسکرایا اور پھر خوابوں میں کھو گیا۔ یہ خبر اسپتال کے باہر کھڑے اس کے چاہنے والوں تک پہنچی تو ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے پُر جوش انداز میں مبارکبادیاں گائیں۔ ایک اہم تقریب نیویارک میں ہو رہی تھی۔ 2010ء میں اقوام متحدہ نے اس کے جنم دن 18 جولائی کو اس کے نام سے منسوب کر کے عالمی دن قرار دیا تھا اور اس وقت سے آج تک اور آئندہ بھی ساری دنیا میں ہر سال یہ روز 'منڈیلا ڈے' کے عنوان سے یاد کیا جائے گا۔

جمہوریت، عدم تشدد، انصاف اور انسانوں کے لیے مساوی حقوق کے داعی منڈیلا کو میں اپنا پیر و مرشد جانتی ہوں۔ چار دن پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا کی اقوام اس کا جنم دن منا رہی تھیں تو میں نے اس تقریب کی جھلکیاں سی این این پر دیکھیں اور یہی سوچتی رہی کہ وہ شخص جسے ایک زمانے تک دنیا دہشت گرد کہتی تھی وہ کن مرحلوں سے گزرا اور کس طور اس کی قلب ماہیت ہوئی کہ وہ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں عدم تشدد کا پیمبر بن کر ابھرا اور دنیا میں نسلی امتیاز کے لات و منات کو زمیں بوس کرنے کا اعزاز اس کے حصے میں آیا۔

18 جولائی 2013ء کو جب 95 برس کی عمر کے نیلسن منڈیلا پریٹوریا کے اسپتال میں موت سے پنجہ کشی کر رہے تھے اور ان کی اپنی قوم کے ساتھ ہی اقوام عالم ان کی صحت اور درازیٔ عمر کے لیے دعائیہ گیت گا رہی تھیں، عین اس وقت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن یہ کہہ رہے تھے کہ نسلی امتیاز کی سنگلاخ جیل میں جانے والے منڈیلا نے 27 برس بعد جب اس چار دیواری سے باہر قدم رکھا تو وہ ایک عظیم انسان کا روپ دھار چکے تھے۔ منڈیلا سے میری ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ جنوبی افریقا کے صدر تھے۔ جیل کے شب و روز بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ اس کے باوجود ہر نیا دن جدوجہد کا ایک نیا مرحلہ تھا۔ میں نے ان کی آنکھوں میں کئی بار وہ عفریت جھلکتے دیکھے جو ماضی کا معاملہ تھے۔

سابق صدر بل کلنٹن کے علاوہ اس روز سیکریٹری جنرل بان کی مون اور جیل میں ان کے ایک ساتھی قیدی اینڈریو ملانگینی نے بھی منڈیلا کی دیوتائوں جیسی شاندار جدوجہد کو خراج تحسین ادا کیا۔ منڈیلا نے دنیا کے تمام کالے اور گورے انسانوں، عورتوں اور مردوں کے مساوی حقوق اور انصاف کے لیے جس استقامت سے لڑائی لڑی اس پر انھیں بے اندازہ اور بے شمار داد ملی۔ منڈیلا نے اوائل عمر میں ہی حقوق انسانی کے وکیل کے طور پر اپنے حلقے میں شہرت پائی، انھوں نے شہری خدمات انجام دیں۔ سیاست میں آئے تو بدترین نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد میں زندگی کی ہر خوشی اور آسائش تیاگ دی۔ جیل گئے تو وہاں ضمیر کے قیدی ٹھہرے، ظلم اور جبر کے جبڑے سے اپنے لوگوں کے لیے جمہوری آزادیاں چھینیں، آزاد جمہوری افریقا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ جس روز صدارت کی مدت ختم ہوئی اس روز مستعفی ہو کر گھر چلے گئے اور پھر جب تک دم میں دم رہا دنیا کے مختلف تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے۔ جنوبی افریقا وہ کم نصیب ملک ہے جس میں نوجوان نسل پر ایڈز ایسی الم ناک اور اندوہناک بیماری نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ منڈیلا کے قریبی نوجوان رشتے دار اس بیماری کا شکار ہوئے تو انھوں نے یہ بات پوشیدہ نہیں رکھی اور اس بیماری کے خاتمے کے لیے لڑتے رہے۔

جنوبی افریقا کا وہی شہر پریٹوریا جہاں کے ایک اسپتال میں وہ موت سے لڑ رہے ہیں۔ اسی شہر کی عدالت میں انھوں نے 20 اپریل 1964ء کے دن ایک سفید فام جج کے سامنے اپنے دفاع میں ایک طویل بیان دیا تھا۔ ان پر سبوتاژ کا الزام تھا اور انھوں نے اس سے متعلق تمام الزامات کی نفی ایک مدلل اور پُر اثر عدالتی بیان میں کی تھی۔ یہ بیان گھنٹوں پر محیط تھا۔ یہی وہ بیان تھا جس نے سننے اور پڑھنے والوں کو چونکا دیا تھا۔ بڑائی کے طویل سفر کی طرف ایک سیاہ فام نوجوان کا پہلا قدم۔ یہ تقریر بیسویں صدی کی اہم تقریروں میں سے ایک کہی جاتی ہے۔


20 اپریل 1964ء کو لگ بھگ 50 برس پہلے منڈیلا اپنا مقدمہ لڑنے سفید فام جج کے سامنے کھڑے ہوئے، لیکن ذاتی حوالوں کے بجائے انھوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ ہونے والی صدیوں پرانی ناانصافیوں، نسلی امتیاز کی بدترین پستیوں اور بنیادی انسانی حقوق سے اپنے لوگوں کی محرومی کے حوالے دیتے ہوئے جس شاندار انداز میں ان کا مقدمہ لڑا، وہ ایک یاد گار واقعہ تھا۔

نسل پرست جنوبی افریقی حکومت کے سفید فام سیاستدانوں کے بعض برطانوی سیاستدانوں سے گہرے روابط تھے۔ اس حوالے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ منڈیلا برطانوی جمہوریت اور اس کے اداروں کے خلاف زہر اگلتے۔ لیکن اس کے برعکس اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ میگنا کارٹا، پٹیشن آف رائٹس اور بل آف رائٹس ایسی تحریریں ہیں جنھیں ساری دنیا کے جمہوریت پسند قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میں برطانوی سیاسی اداروں کا احترام اور ان کے عدالتی نظام کی قدر کرتا ہوں۔ میں برطانوی پارلیمان کو دنیا کا عظیم جمہوری ادارہ سمجھتا ہوں اور اس کی عدالتوں کی آزادی اور غیر جانبداری مجھے ہمیشہ متاثر کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت، آمدنی اور دیگر تمام شعبوں میں افریقیوں کا حصہ محض زندہ رہنے کی حد تک ہے۔ ہم اپنے وطن کے سفید فام شہریوں کی نسبت غربت کا شکار ہیں۔ ایسے قوانین وضع کیے گئے کہ ہم بے بس ہو گئے اور نسلی حقوق میں توازن پیدا نہیں کر سکے۔ افریقیوں نے جن ذلتوں کو سہا ہے وہ سفید فام برتری کے لیے حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے۔ سفید فام برتری سے مراد افریقی کمتری ہے۔ سفید فام برتری کے تحفظ کے لیے جو قوانین متعارف کرائے گئے وہ اس خیال کی تصدیق کرتے ہیں۔ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے کام عموماً افریقی ہی سر انجام دیتے ہیں۔ جب صفائی یا بار برداری کا کام آن پڑے تو سفید فام کالوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ اسے سر انجام دیں۔ ہمارے بچے بستیوں میں آوارہ پھرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ہم انھیں اسکول نہیں بھیج سکتے۔ ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے والدین گھر پر ہی نہیں ہوتے کیونکہ دونوں میاں بیوی اگر محنت مزدوری نہ کریں تو دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی نہیں کر سکتے۔ اس سے اخلاقی قدریں زوال پذیر ہو گئی ہیں۔

اس روز منڈیلا نے کہا تھا کہ افریقی زندگی کے ہر شعبے میں مناسب اور منصفانہ حصہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم معاشرے میں تحفظ اور مفادات کے حصول کی آرزو رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم مساوی سیاسی حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جن کے بغیر ہم ہمیشہ کے لیے بے دست و پا ہو جائیں گے۔ مجھے اندازہ ہے کہ سفید فام شہریوں کو میری باتوں سے انقلاب کی بُو آئے گی کیونکہ سیاسی عمل میں رائے دہندگان کی اکثریت افریقی ہو گی اور اس سے سفید فاموں پر جمہوریت کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔

منڈیلا نے اگر اس عدالتی بیان کو لکھتے ہوئے قلم توڑ دیا تھا، تو یہ بھی سچ ہے کہ وہ جب عدالت میں اسے پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے خطابت کے جوہر دکھا دیے۔ کمرۂ عدالت جس میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، وہاں موجود افریقی رو رہے تھے اور بہت سے سفید فام بھی گریہ ناک تھے۔ نسل پرست حکومت کے کار پرداز یہ سوچ رہے تھے کہ یہ شخص جس کے سامنے ایک روشن مستقبل کے راستے کھلے ہیں، وہ اپنا مقدمہ لڑنے کے بجائے اپنی مظلوم قوم کا مقدمہ کس درد مندی اور خرد مندی سے لڑ رہا ہے۔ اس روز انھیں منڈیلا سے خوف آیا تھا۔ وہ جان گئے تھے کہ ایک بڑا قوم پرست رہنما ظہور کر رہا ہے۔

اس روز کے بعد منڈیلا نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ اپنے لوگوں کی آزادی کے حصول کے لیے ایک طویل سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اس سفر میں ایسے کئی مرحلے آئے جب وہ نسل پرست حکومت سے خفیہ سمجھوتہ کر سکتے تھے۔ جیل کی سنگلاخ دیواروں سے باہر آ سکتے تھے۔ لیکن منڈیلا اپنے لوگوں کے لیے اور تمام دنیا کے مظلوموں کی لڑائی لڑنے کے لیے نکلے تھے۔ تب ہی آج تمام دنیا ان کی بڑائی کے سامنے سر جھکاتی ہے اور 95 برس کے اس بوڑھے کی سالگرہ پر گیت گاتی ہے۔
Load Next Story