چور سندھ وائلڈ لائف کے دفتر سے کچھوے کا خشک گوشت لے اڑے
چوری صبح ساڑھے 4 بجے ہوئی، گوشت ڈھائی ماہ قبل قبضے میں لیا گیا تھا جو 16 بوریوں میں رکھا ہوا تھا، ذرائع
کچھوے کے خشک گوشت کی پاکستان میں کوئی طلب نہیں، یہ چین، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک اسمگل کیا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سندھ وائلڈ لائف کے دفتر سے چورکچھوے کا خشک گوشت لے اڑے جب کہ چوری ہونے والا گوشت ڈھائی ماہ قبل قبضے میں لیا گیا تھا۔
سندھ وائلڈ لائف کے دفتر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے 16 بوریوں میں رکھا گیا،کھچوے کا خشک گوشت چوری ہو گیا، چوری ہفتے کی صبح ساڑھے 4بجے کے قریب ہوئی جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈھائی ماہ قبل کچھوے کا گوشت تحویل میں لیا گیا تھا تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے باعث کیس زیرتفتیش تھا۔
کچھوے کا خشک گوشت کیس پراپرٹی تھا جس کی حتمی تفتیش کے بعد کچھوے کے خشک گوشت کوتلف کیا جانا تھا۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ چوری کے واقعے پر پولیس میں رپورٹ درج کروادی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے سندھ وائلڈ لائف کی چھاپہ مارٹیموں کو بھی گوشت کی برآمدگی کے لیے متحرک کردیاگیا ہے۔
واضح رہے کہ کچھوے کے خشک گوشت کی پاکستان میں کوئی طلب نہیں ہے، یہ چین، تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں اسمگل کیا جاتا ہے اور اسی لالچ میں کچھوے کا شکار کرنے والا مافیا اندرون سندھ کے مختلف اضلاع میں بے دریغ کچھوؤں کا شکار کرتے ہیں۔
سندھ وائلڈ لائف کے دفتر سے چورکچھوے کا خشک گوشت لے اڑے جب کہ چوری ہونے والا گوشت ڈھائی ماہ قبل قبضے میں لیا گیا تھا۔
سندھ وائلڈ لائف کے دفتر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے 16 بوریوں میں رکھا گیا،کھچوے کا خشک گوشت چوری ہو گیا، چوری ہفتے کی صبح ساڑھے 4بجے کے قریب ہوئی جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈھائی ماہ قبل کچھوے کا گوشت تحویل میں لیا گیا تھا تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے باعث کیس زیرتفتیش تھا۔
کچھوے کا خشک گوشت کیس پراپرٹی تھا جس کی حتمی تفتیش کے بعد کچھوے کے خشک گوشت کوتلف کیا جانا تھا۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ چوری کے واقعے پر پولیس میں رپورٹ درج کروادی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے سندھ وائلڈ لائف کی چھاپہ مارٹیموں کو بھی گوشت کی برآمدگی کے لیے متحرک کردیاگیا ہے۔
واضح رہے کہ کچھوے کے خشک گوشت کی پاکستان میں کوئی طلب نہیں ہے، یہ چین، تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں اسمگل کیا جاتا ہے اور اسی لالچ میں کچھوے کا شکار کرنے والا مافیا اندرون سندھ کے مختلف اضلاع میں بے دریغ کچھوؤں کا شکار کرتے ہیں۔