بجلی منافعواپڈا کے ذمے خیبرپختونخواکے 370 ارب بقایاجات
سالانہ بنیادوںپر 110ارب کی ادائیگی کیوجہ سے تاخیر کے حوالے سے 21.170 ارب روپے کا الگ کیس تیارکیا۔
2006 سے گزشتہ سال تک 260 ارب بقایاجات،مارک اپ اورموجودہ سال کے 50 ارب شامل. فوٹو: اے ایف پی
ISLAMABAD:
بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے مالی سال 2005-06 ء سے موجودہ مالی سال 2012-13 ء تک کے بقایاجات اور مارک اپ کی مد میں خیبرپختونخواکے واپڈاکے ذمے بقایاجات 370 ارب روپے سے زائد ہوگئے جن میں 1991ء سے 2004-05ء تک کے عرصہ کے لیے مارک اپ کی مد میں55 ارب 2005-06 ء سے گزشتہ مالی سال تک کیلیے 260 ارب روپے جبکہ جاری مالی سال کے منافع کے 50 ارب روپے شامل ہیں۔
محکمہ خزانہ نے 370 ارب روپے سے زائدکانیا کیس تیارکرلیا ہے جوبجلی منافع کی سالانہ 6 ارب کی رقم میں اضافہ کاکیس مرکزکوپیش کرتے ہوئے پیش کیاجائیگا، خیبرپختونخواکو ثالثی ٹربیونل کے ذریعے اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق1991 ء سے 2004-05 ء تک کے عرصہ کے لیے انکی جانب سے 495 ارب روپے کے پیش کیے گئے کیس کے برخلاف 110 ارب روپے کی ادائیگی کاحکم دیاگیاتاہم مذکورہ ادائیگی میںتاخیر کے باعث صوبائی حکومت نے ٹربیونل کے فیصلہ کے مطابق 10فیصدسالانہ مارک اپ عائد کرتے ہوئے اس پر 34.273 ارب روپے کا ایک جبکہ 2009 ء میںادائیگی کا عمل شروع ہونے کے باعث سالانہ بنیادوںپر 110ارب کی ادائیگی کیوجہ سے تاخیر کے حوالے سے 21.170 ارب روپے کا الگ کیس تیارکیاجومجموعی طور پر 55.443 ارب روپے بنتے ہیں۔
بجلی کے خالص منافع کے حوالے سے مالی سال 2005-06 ء سے موجودہ مالی سال 2012-13 ء تک کے بقایاجات اور مارک اپ کی مد میں خیبرپختونخواکے واپڈاکے ذمے بقایاجات 370 ارب روپے سے زائد ہوگئے جن میں 1991ء سے 2004-05ء تک کے عرصہ کے لیے مارک اپ کی مد میں55 ارب 2005-06 ء سے گزشتہ مالی سال تک کیلیے 260 ارب روپے جبکہ جاری مالی سال کے منافع کے 50 ارب روپے شامل ہیں۔
محکمہ خزانہ نے 370 ارب روپے سے زائدکانیا کیس تیارکرلیا ہے جوبجلی منافع کی سالانہ 6 ارب کی رقم میں اضافہ کاکیس مرکزکوپیش کرتے ہوئے پیش کیاجائیگا، خیبرپختونخواکو ثالثی ٹربیونل کے ذریعے اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق1991 ء سے 2004-05 ء تک کے عرصہ کے لیے انکی جانب سے 495 ارب روپے کے پیش کیے گئے کیس کے برخلاف 110 ارب روپے کی ادائیگی کاحکم دیاگیاتاہم مذکورہ ادائیگی میںتاخیر کے باعث صوبائی حکومت نے ٹربیونل کے فیصلہ کے مطابق 10فیصدسالانہ مارک اپ عائد کرتے ہوئے اس پر 34.273 ارب روپے کا ایک جبکہ 2009 ء میںادائیگی کا عمل شروع ہونے کے باعث سالانہ بنیادوںپر 110ارب کی ادائیگی کیوجہ سے تاخیر کے حوالے سے 21.170 ارب روپے کا الگ کیس تیارکیاجومجموعی طور پر 55.443 ارب روپے بنتے ہیں۔