پاکستان فٹبال اور مسائل کا جال
اختیارات کے لیے رسہ کشی میں کھیل کا نقصان
اختیارات کے لیے رسہ کشی میں کھیل کا نقصان۔ فوٹو: فائل
فٹبال بلا شبہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھیلا اور دیکھا جانے والا کھیل ہے، شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں فٹبال سے لگاؤ رکھنے والوں کی تعداد لاکھوں اور کروڑوں میں نہ ہو۔
بنیادی طور پر کھیل معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیوں کی علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں مگر عہد حاضر نے کھیلوں اور بالخصوص فٹبال کی اہمیت کو اور کئی لحاظ سے بہت اجاگر کیا ہے، یہ کھیل اس قدر اہم سماجی اور کاروباری اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ اس کی سرگرمیوں سے کروڑوں افراد کسی نہ کسی طور وابستہ اور کھربوں ڈالر کا سرمایہ گردش میں آتا ہے، فٹبال کی بے پناہ مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف مواقع پر اس سے عالمی سفارتکاری کا کام بھی لیا گیا ہے۔ گویا فٹبال کی اہمیت ایک کھیل کے طور پر مسلمہ اور معاشرت میں اس کا کردار نمایاں ہے۔
اگر وطن عزیز میں اس کھیل کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، 2015 میں شروع ہونے والا بحران تاحال جاری ہے، پاکستان فٹبال فیڈریشن کے الیکشن میں سید فیصل صالح حیات نے بطور صدر کامیابی حاصل کی تھی جو حکومتی حلقوں کو قابل قبول نہ تھا، فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اس انتخاب کو تسلیم کیا لیکن گزشتہ حکومت کے کرتا دھرتا افراد کے ایما پر سید فیصل صالح حیات کی سربراہی میں باڈی کو پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ہیڈ کوارٹرز سے رخصتی کا پروانہ تھما دیا گیا، اس کشمکش کے نتیجے میں بالآخر فیفا نے پی ایف ایف میں بیرونی مداخلت کی بناپر پاکستان کی رکنیت معطل کر دی، بعد ازاں ایک طویل عدالتی محاذ آرائی کے بعد بالآخر گزشتہ سال مارچ فیصل صالح حیات کو فیڈریشن کا صدر تسلیم کرلیا گیا اور پی ایف ایف ہیڈکوارٹرز کا کنٹرول دوبارہ ان کی سربراہی میں قائم باڈی کو حاصل ہوا، پاکستان کی رکنیت بحال کر دی گئی۔
اس دوران ملک میں فٹبال کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں، سید فیصل صالح حیات بحال ہوئے تو ایک بار پھر میدانوں کی رونقیں بحال ہونے لگیں، فٹبال کے کھلاڑی، ریفریز و کوچز گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے سرگرم ہوئے، قومی مینز اور ویمنز ٹیموں کی انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں شرکت کا سلسلہ بھی چل نکلا، شائقین فٹبال کی امیدوں کا شجر پھر سے ہرا ہونے لگا تھا کہ عدالت نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کردیا۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے الیکشن میں سید فیصل صالح حیات نے شرکت کی، میڈیا کے ساتھ گفتگو میں ان کا موقف تھا کہ ان انتخابات میں پی ایف ایف کے آئین کی پاسداری نہیں کی جارہی، اسی دوران فیفا اور اے ایف سی نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو خطوط میں واضح کیا کہ عالمی برادری اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتی اور اس عمل کو تیسرے فریق کی جانب سے مداخلت تصور کیا جائے گا جس کے نتائج پاکستان کی معطلی کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں انتخابات کے نتیجے میں پی ایف ایف کی جو نئی باڈی تشکیل پائی،اس کو ابھی تک معاملات چلانے کے لیے ناہموار ٹریک میسر آیا ہے، عالمی تنظیموں نے انتخاب مسترد کر دیا اور پاکستان پر فیفا اور اے ایف سی کی جانب سے پابندیوں کی تلوار لٹک رہی ہے، ملکی فٹبال کے ایک مرتبہ پھر عالمی تنہائی کا شکار ہونے کا خدشہ رد نہیں کیا جاسکتا، عالمی باڈیز سے روابط ختم ہو نے کا مطلب صرف پاکستان فٹبال کو ملنے والی گرانٹ کی بندش ہی نہیں بلکہ متاثرہ ملک کی قومی ٹیموں انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت پر پابندی بھی ہے، قومی ایونٹس سے سامنے آنے والا ٹیلنٹ بین الاقوامی سطح پر صلاحیتوں کے جوہر نہیں دکھاپائے گا، اس مرحلے پر ایک پیچیدگی یہ ہے کہ فیفا کی جانب سے سید فیصل صالح حیات کو مارچ 2020ء تک کا مینڈیٹ دیا گیا تھا، اس سے قبل پی ایف ایف کے آئین کا ازسر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی، فیفا کی تسلیم شدہ باڈی کے بغیر یہ کام مکمل نہیں ہوسکتا۔
فٹبال کی موجودہ صورتحال خاصی مایوس کن ہے، فیفا اور اے ایف سی عدالتی احکامات کے تحت ہونے والے الیکشن کو تسلیم نہیں کرتی، نئی باڈی کا دعویٰ ہے کہ وہ عالمی تنظیموں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، فی الحال اس کی کوئی امید نظر نہیں آتی، چند افراد کا خیال ہے کہ فیفا اور اے ایف سی نئی پی ایف ایف باڈی کو تسلیم نہ کریں تب بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، یہ تاثر اس لئے درست نہیں کہ ماضی میں معطل ہونے والے کئی ملکوں کو بالآخر فیفا کا چارٹر تسلیم کرنا پڑا، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملے میں پاکستان کو بالآخر آئی او سی کی بات ماننا پڑ گئی تھی۔
وزیر اعظم عمران خان خود بھی کھیلوں کی دنیا کا بڑا نام ہیں، معاملہ اتنا سادہ نہیں، ایک بڑی پیچیدہ صورتحال ہے جس کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے، بات صرف سید فیصل صالح حیات کے ہونے یا نہ ہونے کی نہیں، پاکستان فٹبال کے مستقبل کی ہے جس کو فیفا سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، عالمی برادری سے کٹ کر پاکستان میں اس کھیل کا فروغ ممکن نہیں۔ یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ فیفا 213ممبر ممالک پر مشتمل عالمی باڈی اور بہر صورت اپنے آئین کی پاسداری پر زور دیتی ہے، ماضی میں فرانس، نائیجیریا اور کویت جیسے طاقتور ملکوں کی رکنیت معطل ہوئی جس کے منفی نتائج بھی سامنے آئے، پاکستان میں فٹبال کے موجودہ حالات کوجوں کا توں نہیں چھوڑا جاسکتا،حکومت کو ہی کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔
بنیادی طور پر کھیل معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیوں کی علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں مگر عہد حاضر نے کھیلوں اور بالخصوص فٹبال کی اہمیت کو اور کئی لحاظ سے بہت اجاگر کیا ہے، یہ کھیل اس قدر اہم سماجی اور کاروباری اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ اس کی سرگرمیوں سے کروڑوں افراد کسی نہ کسی طور وابستہ اور کھربوں ڈالر کا سرمایہ گردش میں آتا ہے، فٹبال کی بے پناہ مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف مواقع پر اس سے عالمی سفارتکاری کا کام بھی لیا گیا ہے۔ گویا فٹبال کی اہمیت ایک کھیل کے طور پر مسلمہ اور معاشرت میں اس کا کردار نمایاں ہے۔
اگر وطن عزیز میں اس کھیل کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، 2015 میں شروع ہونے والا بحران تاحال جاری ہے، پاکستان فٹبال فیڈریشن کے الیکشن میں سید فیصل صالح حیات نے بطور صدر کامیابی حاصل کی تھی جو حکومتی حلقوں کو قابل قبول نہ تھا، فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اس انتخاب کو تسلیم کیا لیکن گزشتہ حکومت کے کرتا دھرتا افراد کے ایما پر سید فیصل صالح حیات کی سربراہی میں باڈی کو پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ہیڈ کوارٹرز سے رخصتی کا پروانہ تھما دیا گیا، اس کشمکش کے نتیجے میں بالآخر فیفا نے پی ایف ایف میں بیرونی مداخلت کی بناپر پاکستان کی رکنیت معطل کر دی، بعد ازاں ایک طویل عدالتی محاذ آرائی کے بعد بالآخر گزشتہ سال مارچ فیصل صالح حیات کو فیڈریشن کا صدر تسلیم کرلیا گیا اور پی ایف ایف ہیڈکوارٹرز کا کنٹرول دوبارہ ان کی سربراہی میں قائم باڈی کو حاصل ہوا، پاکستان کی رکنیت بحال کر دی گئی۔
اس دوران ملک میں فٹبال کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں، سید فیصل صالح حیات بحال ہوئے تو ایک بار پھر میدانوں کی رونقیں بحال ہونے لگیں، فٹبال کے کھلاڑی، ریفریز و کوچز گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے سرگرم ہوئے، قومی مینز اور ویمنز ٹیموں کی انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں شرکت کا سلسلہ بھی چل نکلا، شائقین فٹبال کی امیدوں کا شجر پھر سے ہرا ہونے لگا تھا کہ عدالت نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کردیا۔ گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے الیکشن میں سید فیصل صالح حیات نے شرکت کی، میڈیا کے ساتھ گفتگو میں ان کا موقف تھا کہ ان انتخابات میں پی ایف ایف کے آئین کی پاسداری نہیں کی جارہی، اسی دوران فیفا اور اے ایف سی نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو خطوط میں واضح کیا کہ عالمی برادری اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتی اور اس عمل کو تیسرے فریق کی جانب سے مداخلت تصور کیا جائے گا جس کے نتائج پاکستان کی معطلی کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں انتخابات کے نتیجے میں پی ایف ایف کی جو نئی باڈی تشکیل پائی،اس کو ابھی تک معاملات چلانے کے لیے ناہموار ٹریک میسر آیا ہے، عالمی تنظیموں نے انتخاب مسترد کر دیا اور پاکستان پر فیفا اور اے ایف سی کی جانب سے پابندیوں کی تلوار لٹک رہی ہے، ملکی فٹبال کے ایک مرتبہ پھر عالمی تنہائی کا شکار ہونے کا خدشہ رد نہیں کیا جاسکتا، عالمی باڈیز سے روابط ختم ہو نے کا مطلب صرف پاکستان فٹبال کو ملنے والی گرانٹ کی بندش ہی نہیں بلکہ متاثرہ ملک کی قومی ٹیموں انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت پر پابندی بھی ہے، قومی ایونٹس سے سامنے آنے والا ٹیلنٹ بین الاقوامی سطح پر صلاحیتوں کے جوہر نہیں دکھاپائے گا، اس مرحلے پر ایک پیچیدگی یہ ہے کہ فیفا کی جانب سے سید فیصل صالح حیات کو مارچ 2020ء تک کا مینڈیٹ دیا گیا تھا، اس سے قبل پی ایف ایف کے آئین کا ازسر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی، فیفا کی تسلیم شدہ باڈی کے بغیر یہ کام مکمل نہیں ہوسکتا۔
فٹبال کی موجودہ صورتحال خاصی مایوس کن ہے، فیفا اور اے ایف سی عدالتی احکامات کے تحت ہونے والے الیکشن کو تسلیم نہیں کرتی، نئی باڈی کا دعویٰ ہے کہ وہ عالمی تنظیموں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، فی الحال اس کی کوئی امید نظر نہیں آتی، چند افراد کا خیال ہے کہ فیفا اور اے ایف سی نئی پی ایف ایف باڈی کو تسلیم نہ کریں تب بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، یہ تاثر اس لئے درست نہیں کہ ماضی میں معطل ہونے والے کئی ملکوں کو بالآخر فیفا کا چارٹر تسلیم کرنا پڑا، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملے میں پاکستان کو بالآخر آئی او سی کی بات ماننا پڑ گئی تھی۔
وزیر اعظم عمران خان خود بھی کھیلوں کی دنیا کا بڑا نام ہیں، معاملہ اتنا سادہ نہیں، ایک بڑی پیچیدہ صورتحال ہے جس کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے، بات صرف سید فیصل صالح حیات کے ہونے یا نہ ہونے کی نہیں، پاکستان فٹبال کے مستقبل کی ہے جس کو فیفا سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، عالمی برادری سے کٹ کر پاکستان میں اس کھیل کا فروغ ممکن نہیں۔ یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ فیفا 213ممبر ممالک پر مشتمل عالمی باڈی اور بہر صورت اپنے آئین کی پاسداری پر زور دیتی ہے، ماضی میں فرانس، نائیجیریا اور کویت جیسے طاقتور ملکوں کی رکنیت معطل ہوئی جس کے منفی نتائج بھی سامنے آئے، پاکستان میں فٹبال کے موجودہ حالات کوجوں کا توں نہیں چھوڑا جاسکتا،حکومت کو ہی کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔