امریکا طالبان مذاکرات میں خوش آیند پیشرفت

17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے ایک ڈرافٹ پر متفق ہوگئے ہیں

17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے ایک ڈرافٹ پر متفق ہوگئے ہیں۔ فوٹو: فائل

امریکا اور طالبان قطر میں چھ روزہ مذاکرات کے بعد افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے ایک ڈرافٹ پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت غیرملکی فوجیں 18 ماہ میں افغانستان سے نکل جائیں گی۔ طالبان افغانستان کی سرزمین القاعدہ یا داعش کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیںگے۔ اس معاہدے کے حوالے سے فریقین نے ابھی کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا، نہ ہی امریکا نے اس کی تصدیق کی ہے۔

امریکی خصوصی نمایندہ زلمے خلیل زاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا ہے کہ افغان امن عمل سے متعلق اہم معاملات پر خاطر خواہ پیشرفت حاصل کرلی ہے لیکن تمام امور پر اتفاق رائے تک کچھ حتمی نہیں ہوگا، حالیہ ملاقاتیں پہلے کی نسبت زیادہ سود مند رہی ہیں۔طالبان ذرایع کا کہنا ہے کہ معاہدے کا بنیادی نکتہ جنگ بندی ہے جس کی ابھی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی۔امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی یہ پیشرفت خوش آیند ہے جس کے خطے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے لیے افغان طالبان کی قیادت ملا عبدالغنی برادر نے کی جنھیں پاکستان میں 8سال تک قید میں رہنے کے بعد گزشتہ سال ہی رہا کیا گیا تھا۔ 11ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا' 17سال سے افغانستان کی سرزمین پر جاری اس جنگ میں جہاں ملا عمر کی قیادت میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا وہاں اسامہ بن لادن سمیت طالبان اور القاعدہ کے اہم رہنما بھی اس جنگ کی نذر ہو گئے' اگرچہ طالبان اور القاعدہ کی کابل پر حکومت ختم ہونے کے بعد انھیں اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا مگر ان کا وجود کسی نہ کسی صورت قائم رہا اور وہ غیرملکی قابض افواج کے خلاف مسلسل گوریلا جنگ لڑتے رہے جس سے افغان اور نیٹو فورسز کو بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔


امریکا نے طالبان کے خاتمے کے لیے ڈرون طیاروں سے لے کر ڈیزی کٹر سمیت ہر قسم کے خوفناک ہتھیار استعمال کر لیے مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس جنگ کے خوفناک اور مہیب اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے جس نے پاکستان کی سلامتی اور امن و امان کی صورت حال کو شدید دھچکا پہنچایا جس کے آفٹر شاکس اب تک جاری ہیں۔ امریکا اور طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ کئی سال سے چل رہا ہے' گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان کی معاونت سے ابوظہبی میں بھی افغان امن مذاکرات ہوئے' ماسکو میں بھی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستان' سعودی عرب' متحدہ عرب امارات' چین اور روس کے علاوہ طالبان کے وفد نے بھی شرکت کی۔

امریکا نے اس جنگ میں کیا حاصل کیا اور اس خطے کو کتنا نقصان پہنچایا ،یہ حقائق بھی جلد منظر عام پر آ جائیں گے مگر اب 17سال سے جاری اس جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی اہم پیشرفت اس امر کی غماز ہے کہ امریکا نے اپنی شکست تسلیم کر لی اور وہ اس طویل تھکا دینے والی جنگ سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ اس جنگ میں امریکا کو بھی بھاری مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا اور افغانستان میں خطیر اخراجات کے باعث اس کی معیشت بھی دباؤ میں رہی۔ طالبان امریکا کے درمیان دوحہ میں بہت سے معاملات طے پائے ہیں لیکن ابھی بہت سے معاملات طے ہونے باقی ہیں مگر یہ بات اب واضح ہے کہ افغانستان میں قیام امن کا راستہ زیادہ دور نہیں' اگر افغانستان سے غیرملکی فوجوں کا مکمل انخلا ہو جاتا ہے تو افغانستان ایک بار پھر امن کے راستے پر چل نکلے گا۔

مختلف خبروں سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے پر افغان طالبان نے موقف اختیار کیا کہ پہلے امریکا اپنے انخلا کی ٹائم لائن دے اور ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بنائے کہ امریکا خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے خطرات پیدا نہیں کرے گا۔ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے خطرات سب سے زیادہ موجودہ افغان حکومت محسوس کر رہی ہے اور اس امر کا بھی امکان ہے کہ وہ اپنی شرائط منوانے کے لیے مزاحمت کرے گی کیونکہ افغان نشریاتی ادارے یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ مذاکرات کا مقصد اصلاحات کا نفاذ ہے نا کہ افغانستان پر طالبان کا مکمل کنٹرول۔ صدر اشرف غنی اور دیگر سیاستدان اس سال جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی نامزدگیوں کا اعلان کر چکے ہیں اس لیے وہ افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اگر 18ماہ میں غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جاتیں اور سیز فائر ہو جاتا ہے تو پھر امن عمل کے باقی معاملات پر بھی کام شروع ہو جائے گا۔بہرحال اب یہ طے ہو چکا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو ایک قوت تسلیم کرتے ہوئے حکومت میں شریک کیا جائے گا۔ افغانستان میں قیام امن سے پاکستان اور پورے خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ بھی ممکن ہونے سے یہاں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو گی اور ترقی کے نئے دور کے باب وا ہوں گے۔
Load Next Story