افغانستان میں قیام امن کی کوششیں
افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے سموم اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے سموم اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ فوٹو : فائل
افغانستان کے شہر مزار شریف میں پاکستانی قونصلیٹ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے۔دفترخارجہ کے مطابق مزارشریف میں پاکستانی قونصلیٹ پرحملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، اطلاعات کے مطابق ایک افغان خاتون نے اپنے بیگ میں ہینڈ گرینیڈ چھپا کر قونصلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ افغان وزارت خارجہ کو واقعہ سے آگا ہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ افغان حکومت پاکستانی قونصلیٹ کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مزار شریف قونصلیٹ میں اطمینان بخش سیکیورٹی انتظامات ہونے تک ویزا سروس معطل کردی گئی ہے۔ ادھر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ملکی اور غیرملکی میڈیا کے نمایندوں کے ساتھ پشاور' میران شاہ اور غلام خان بارڈر ٹرمینل کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عمل کے ذریعے افغان حکومت میں طالبان کی شمولیت سے استحکام آئے گا' داعش اور تحریک طالبان پاکستان سے مقابلہ کیا جا سکے گا۔
انھوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد حملہ آور ہوتے تھے، اب یہ سلسلہ رک گیا ہے، جو علاقہ ستر برس سے علاقہ غیر کہلاتا تھا اب پاکستان کا حصہ ہے، سرحد کھلی ہونے کی وجہ سے اُس پار سے دو سو، اڑھائی سو دہشت گردوں کا گروپ ہماری چوکیوں یا گاؤں پر حملہ کرتا تھا، اب چونکہ ہمارا علاقہ کلیئر ہو گیا ہے اور ہمارا کنٹرول ہے اور دوسری طرف اتنا کنٹرول نہیں ہے۔
افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے سموم اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں' وہاں ایسے گروہ موجود ہیں جو منفی پروپیگنڈا کے علاوہ پاکستانی اداروں کو بھی نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کرتے رہتے ہیں اور سرحد پار سے دراندازی بھی عام بات تھی۔اب سرحد پر باڑ لگنے سے صورتحال خاصی بہتر ہوجائے گی۔افغانستان کے اندر بھی وہ طبقہ خاصا مضبوط ہے جو پاکستان کے بارے میں نفرت پھیلاتا رہتا ہے۔
مزار شریف میں پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے' ماضی میں بھی کابل میں پاکستانی سفارتخانے اور جلال آباد میں قونصل خانے پر حملے ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے اور دوران ڈیوٹی ان کا پیچھا کرنے کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ مزار شریف افغانستان کا قدرے پرامن شہر سمجھا جاتا ہے اور یہ ازبک کلچر کا حامل ہے۔یہاں پاکستان کے قونصل خانے کو خطرات کی وجوہات جاننا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
ادھر امریکا اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات اس امر کے مظہر ہیں کہ افغانستان میں نہ صرف سیاسی بلکہ انتظامی سطح پر بھی تبدیلی کے نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ اگر کابل میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد غیرملکی فوجیں وہاں سے نکل جاتی ہیں تو پھر افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت ہی اقتدار کے دعوے دار دو بڑے اور طاقتور مدمقابل گروپ رہ جائیں گے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا موجودہ افغان حکومت غیرملکی افواج کے نکل جانے کے بعد اپنے حریف طالبان کا مقابلہ کر پائے گی' کیا ایک بار پھر کابل میں خانہ جنگی شروع ہونے سے حالات خراب ہو جائیں گے' اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر فاتح کون ہو گا؟ کیا طالبان ایک بار پھر اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔
ان حالات کے تناظر میں موجودہ افغان حکومت کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر وہ واویلا مچا رہی ہے اور اُس کی اِس خواہش کا اظہار افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں افغانستان کے لیے غیرملکی فوجیں کی موجودگی ضروری ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے حکومت کے خلاف برسرپیکار طالبان کو براہ راست امن مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا تو افغان عوام کا ساتھ دیں یا پھر دوسرے ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوں۔طالبان امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کابل حکومت کو شریک کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ افغان حکومت کو سب سے زیادہ یہی پریشانی لاحق ہے کہ امریکا اور طالبان براہ راست مذاکرات کر رہے اور افغان حکومت کو اس میں شریک نہ کر کے اہمیت نہیں دے رہے' ان حالات میں اشرف غنی کو مستقبل میں اپنا اقتدار چھینتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان بھی افغانستان کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اس نے افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد روکنے کے لیے سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ جہاں باڑ لگ چکی ہے وہاں سرحد پار سے حملے ختم ہوتے جا رہے ہیں' افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے فائدہ ہے' افغان طالبان سیاسی عمل کا حصہ بن کر حکومت میں آئیں تو استحکام آئے گا' اس طرح داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ حامد کرزئی سے لے کر کابل کی موجودہ حکومت تک کسی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی لیکن اگر طالبان ایک بار پھر حکومت میں آ جاتے ہیں تو امید ہے کہ پاکستان کو امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مژدہ جانفزا ملے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مزار شریف قونصلیٹ میں اطمینان بخش سیکیورٹی انتظامات ہونے تک ویزا سروس معطل کردی گئی ہے۔ ادھر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ملکی اور غیرملکی میڈیا کے نمایندوں کے ساتھ پشاور' میران شاہ اور غلام خان بارڈر ٹرمینل کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عمل کے ذریعے افغان حکومت میں طالبان کی شمولیت سے استحکام آئے گا' داعش اور تحریک طالبان پاکستان سے مقابلہ کیا جا سکے گا۔
انھوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد حملہ آور ہوتے تھے، اب یہ سلسلہ رک گیا ہے، جو علاقہ ستر برس سے علاقہ غیر کہلاتا تھا اب پاکستان کا حصہ ہے، سرحد کھلی ہونے کی وجہ سے اُس پار سے دو سو، اڑھائی سو دہشت گردوں کا گروپ ہماری چوکیوں یا گاؤں پر حملہ کرتا تھا، اب چونکہ ہمارا علاقہ کلیئر ہو گیا ہے اور ہمارا کنٹرول ہے اور دوسری طرف اتنا کنٹرول نہیں ہے۔
افغانستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے سموم اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں' وہاں ایسے گروہ موجود ہیں جو منفی پروپیگنڈا کے علاوہ پاکستانی اداروں کو بھی نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کرتے رہتے ہیں اور سرحد پار سے دراندازی بھی عام بات تھی۔اب سرحد پر باڑ لگنے سے صورتحال خاصی بہتر ہوجائے گی۔افغانستان کے اندر بھی وہ طبقہ خاصا مضبوط ہے جو پاکستان کے بارے میں نفرت پھیلاتا رہتا ہے۔
مزار شریف میں پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے' ماضی میں بھی کابل میں پاکستانی سفارتخانے اور جلال آباد میں قونصل خانے پر حملے ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے اور دوران ڈیوٹی ان کا پیچھا کرنے کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ مزار شریف افغانستان کا قدرے پرامن شہر سمجھا جاتا ہے اور یہ ازبک کلچر کا حامل ہے۔یہاں پاکستان کے قونصل خانے کو خطرات کی وجوہات جاننا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
ادھر امریکا اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات اس امر کے مظہر ہیں کہ افغانستان میں نہ صرف سیاسی بلکہ انتظامی سطح پر بھی تبدیلی کے نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ اگر کابل میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد غیرملکی فوجیں وہاں سے نکل جاتی ہیں تو پھر افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت ہی اقتدار کے دعوے دار دو بڑے اور طاقتور مدمقابل گروپ رہ جائیں گے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا موجودہ افغان حکومت غیرملکی افواج کے نکل جانے کے بعد اپنے حریف طالبان کا مقابلہ کر پائے گی' کیا ایک بار پھر کابل میں خانہ جنگی شروع ہونے سے حالات خراب ہو جائیں گے' اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر فاتح کون ہو گا؟ کیا طالبان ایک بار پھر اقتدار پر قابض ہو جائیں گے۔
ان حالات کے تناظر میں موجودہ افغان حکومت کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر وہ واویلا مچا رہی ہے اور اُس کی اِس خواہش کا اظہار افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں افغانستان کے لیے غیرملکی فوجیں کی موجودگی ضروری ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے حکومت کے خلاف برسرپیکار طالبان کو براہ راست امن مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا تو افغان عوام کا ساتھ دیں یا پھر دوسرے ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوں۔طالبان امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کابل حکومت کو شریک کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ افغان حکومت کو سب سے زیادہ یہی پریشانی لاحق ہے کہ امریکا اور طالبان براہ راست مذاکرات کر رہے اور افغان حکومت کو اس میں شریک نہ کر کے اہمیت نہیں دے رہے' ان حالات میں اشرف غنی کو مستقبل میں اپنا اقتدار چھینتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان بھی افغانستان کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اس نے افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد روکنے کے لیے سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ جہاں باڑ لگ چکی ہے وہاں سرحد پار سے حملے ختم ہوتے جا رہے ہیں' افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے فائدہ ہے' افغان طالبان سیاسی عمل کا حصہ بن کر حکومت میں آئیں تو استحکام آئے گا' اس طرح داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ حامد کرزئی سے لے کر کابل کی موجودہ حکومت تک کسی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی لیکن اگر طالبان ایک بار پھر حکومت میں آ جاتے ہیں تو امید ہے کہ پاکستان کو امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مژدہ جانفزا ملے گا۔