خارجہ پالیسی کی ترجیحات

موجودہ حکومت بدلتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال ظاہر کررہی ہے...

موجودہ حکومت بدلتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال ظاہر کررہی ہے۔ دفتر خارجہ فوٹو فائل

موجودہ حکومت بدلتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال ظاہر کررہی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز دفتر خارجہ کا دورہ کیا۔ جہاں انھیں خارجہ پالیسی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کا یہ دورہ اس امر کا عکاس ہے کہ موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں کے برعکس بدلتے ہوئے حالات کا بہتر ادراک کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی لارہی اور ہمسایہ ممالک سے اختلافات اور رنجشیں ختم کر کے دوستانہ ماحول کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہی ہے۔

پاکستان کے مشرقی جانب بھارت ہے جس سے تعلقات شروع دن ہی سے خراب چلے آ رہے ہیں، بعض اوقات کشیدگی اور تنائو اس قدر بڑھا کہ دونوں میں جنگ کا میدان گرم ہو گیا۔ ان جنگوں سے انھوں نے یہی سبق سیکھا کہ سوائے تباہی اور نقصان کے اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں لہٰذا خطے میں امن کے فروغ کے لیے دونوں ممالک میں بہتر تعلقات کے لیے کبھی بیک ڈورڈپلومیسی کا آغاز ہوا اور کبھی اعلیٰ سطح پر مذاکرات کا دور چلا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے سابق دور حکومت میں بھارت سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے قدم بڑھایا'ان کی انھی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان کے دور ے پر آئے اورلاہور میں مینار پاکستان پر حاضری دی۔ وزیراعظم واجپائی کا سیاسی پس منظر سامنے رکھا جائے تو ان کا مینار پاکستان جانا ، بڑی تبدیلی یا پیش رفت تھی۔لیکن پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

کارگل کے بحران نے امن کے عمل کو روک دیا اور اس کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت ختم کردی گئی۔اب ایک بار پھر وہ اقتدار میں آئے ہیں ۔ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کی راہ میں بہت سی قوتیں حائل ہیں۔ بعض صنعتکاروں کو یہ خدشہ ہے کہ بھارتی صنعتکار اپنے سستے مال کے بل بوتے پر ان سے پاکستانی منڈی چھین لے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر بھارتی صنعتکار اور سرمایہ کار کو بیس کروڑ افراد پر مشتمل پاکستانی منڈی ملے گی تو پاکستانی صنعتکار کو تو اس سے بڑی ایک ارب افراد کی صورت میں بھارتی منڈی ملے گی۔ اب یہ پاکستانی صنعتکار اور سرمایہ کار کی صلاحیت اور کوشش پر منحصر ہے کہ وہ بھارتی منڈی سے کتنا استفادہ حاصل کرتا ہے۔میاں نواز شریف نے ماضی میں بھی بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے حوالے سے انتہا پسندوں کے دبائو کو مسترد کر دیا تھا، اب ایک بار پھر برسراقتدار آتے ہی انھوں نے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب علاقائی سالمیت کے حوالے سے افغانستان کے بگڑتے ہوئے حالات نے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔یہ حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں۔


دہشت گردی کے اس عفریت نے جہاں پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو بگاڑا ہے وہاں معاشی نظام کو بھی کمزور کیا ہے۔ یہاں کا سرمایہ کار دہشت گردی اور معاشی منڈی کی غیر یقینی صورتحال سے گھبرا کر بیرون ملک فرار ہو رہا ہے' ان حالات کو دیکھتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کار نے بھی ادھر کا رخ نہیں کیا جس کا ایک نتیجہ بے روز گاری اور جرائم میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے ان بگڑتے ہوئے حالات کا درست ادارک کرتے ہوئے افغانستان سے دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے خطوط واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے دیں گے نہ کسی کو پاکستان میں مداخلت کی اجازت دیں گے۔ پاکستان' افغانستان میں کسی خاص گروپ کا حامی نہیں' امن کے لیے اسلام آباد وہاں کی حکومت اور عوام کا ساتھ دے گا۔

وزیراعظم نے اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات واضح کردی ہیں۔انھوں نے واضح پیغام دیاہے کہ پاکستان کسی بھی صورت دوسرے ممالک کے مفادات کی بنیاد پر انتہا پسندوں کا ساتھ نہیں دے گا۔ اسلام آباد' نئی دہلی اور کابل سے اپنے تنازعات جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ نئی خارجہ پالیسی میں علاقائی سالمیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ خطے میں معیشت اور تجارت کو فروغ ملنے سے خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو سکے۔ پوری دنیا کو اس حقیقت کا ادراک ہوچکا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ جنگ سے سوائے تباہی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ خوشحالی اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ آپس میں بہتر تعلقات کو فروغ دیا جائے۔ یورپی یونین اس کی واضح مثال ہے۔ سارک تنظیم کا قیام بھی اسی مقصد کے پیش نظر عمل میں لایا گیا تھا مگر یہ تنظیم خطے میں موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ اب وزیراعظم نواز شریف نے علاقائی سالمیت کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کی ترجیحات متعین کی ہیںاور وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ بھارت سے جامع مذاکرات کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے۔

پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ موجودہ حکومت کو بھی توقع ہے کہ پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کی کاوشیں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے کامیاب ہو سکتی ہیں۔ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کا دورہ افغانستان بھی نئی تبدیلی کا پیغام ہے کہ پاکستان خطے میں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے'وہ کسی گروہ کی حمایت نہیں کرے گا بلکہ وہاں کی حکومت اور عوام کے مفادات کو ترجیح دے گا۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اور افغان حکومت سے بہتر تعلقات قائم ہونے سے جہاں خطے میں انتہا پسند گروہ کمزور ہوں گے اور دہشت گردی کا زور ٹوٹے گا وہاں خطے میں معیشت اور تجارت کو فروغ ملنے سے خوشحالی کے دور کا آغاز ہو گا۔ لہٰذا وزیراعظم میاں نواز شریف کا ہمسایہ ممالک اور اقوام عالم کے ساتھ آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی تشکیل کا اقدام قابل ستائش ہے۔
Load Next Story