پولیس اہلکاروں کو ٹک ٹاک پر وڈیو اپ لوڈ کرنا مہنگا پڑگیا
ڈی آئی جی ایڈمن نے وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا
ڈی آئی جی ایڈمن نے وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا (فوٹو : فائل)
شہر قائد میں پولیس کاروں کو اسمارٹ فون ایپ 'ٹک ٹاک' پر ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کرنا مہنگا پڑگیا، ڈی آئی جی ایڈمن نے ویڈیو وائرل ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس کے مطابق کراچی پولیس کے اہل کاروں کی جانب سے غیر قانونی طور پر وڈیوز بنا کرسوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جارہی ہیں، حال ہی میں اہلکاروں نے ایک ویڈیو اسمارٹ فون ایپ 'ٹک ٹاک' پر بنا کر اپ لوڈ کردی جس پر ڈی آئی جی ایڈمنسٹریشن کراچی پولیس عاصم خان نے اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔
اس ضمن میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نعمان صدیقی کو انکوائری افسر نامزد کیا گیا ہے، انکوائری 3 روز میں مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائی جائے گی، پولیس اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ایکسپریس کے مطابق کراچی پولیس کے اہل کاروں کی جانب سے غیر قانونی طور پر وڈیوز بنا کرسوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جارہی ہیں، حال ہی میں اہلکاروں نے ایک ویڈیو اسمارٹ فون ایپ 'ٹک ٹاک' پر بنا کر اپ لوڈ کردی جس پر ڈی آئی جی ایڈمنسٹریشن کراچی پولیس عاصم خان نے اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔
اس ضمن میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نعمان صدیقی کو انکوائری افسر نامزد کیا گیا ہے، انکوائری 3 روز میں مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائی جائے گی، پولیس اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔