عابد علی کی ٹیم کے دروازے پر مسلسل دستک جاری

دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے قومی اسکواڈمیں شامل نہ کیے جانے پرتھوڑی مایوسی ہوئی، بیٹسمین

دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے قومی اسکواڈمیں شامل نہ کیے جانے پرتھوڑی مایوسی ہوئی، بیٹسمین۔ فوٹو: فائل

عابد علی کی قومی ٹیم کے دروازے پر مسلسل دستک جاری ہے۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکوخصوصی انٹرویو میں عابد علی نے کہاکہ دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے اسکواڈ میں جگہ نہ بنانے پر تھوڑی مایوسی ضرور ہوئی تھی لیکن میں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا، میں گزشتہ3سال سے ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کر رہا ہوں،پاکستان ''اے'' کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی اچھی فارم برقرار رکھی،محنت کرنا اور کارکردگی دکھانا میرا کام ہے، میں پُرعزم ہوں کہ موقع ضرور ملے گا۔

عابد علی نے کہا کہ کھیل میں بہتری لانے کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے۔ انضمام الحق اور سچن ٹنڈولکر جیسے عظیم کرکٹرز بھی بیٹنگ میں اپنی خامیوں پر قابو پانے کیلیے محنت کرتے تھے، میں بھی یہی کررہا ہوں۔


اچھی فارم میں ہونے کے باوجود پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں جگہ نہ بنا پانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ میں اس سے قطعی طور پر دلبرداشتہ نہیں ہوا، ہوسکتا ہے کہ صلاحیتوں میں کسی کمی کی وجہ سے فرنچائزز اور کوچز کی توجہ حاصل نہیں کرپایا۔

عابد علی نے کہا کہ اپنی بیٹنگ کو ٹی ٹوئنٹی اور جدید کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے مزید ٹریننگ اور میچ پریکٹس کروں گا، اس بار موقع نہیں ملا، پُرعزم ہوں کہ اپنی پرفارمنس کے بل بوتے پر پی ایس ایل کے اگلے ایونٹ میں شرکت کروں گا۔

انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں محمد یوسف اور انضمام الحق جیسے کئی اسٹائلش بیٹسمین گزرے ہیں، میں سچن ٹنڈولکر کا بڑا پرستار ہوں،دیگر بیٹسمینوں کی ویڈیوز سے بھی سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
Load Next Story