بلدیہ عظمیٰ وہیکل ڈپارٹمنٹ کے نام سے غیر قانونی محکمے کا انکشاف
شعبے کے سربراہ کو غیر معمولی اختیارات حاصل، انتظامیہ کی آشیرباد پر ورکشاپ سے گاڑیوں کی مرمت پر پابندی عائد کرادی.
حکومت نے محکمے کی منظوری نہیں دی،غیرقانونی محکمے کی تحقیقات کرائی جائے،ملازمین کا وزیر بلدیات سے مطالبہ. فوٹو: فائل
لاہور:
بلدیہ عظمیٰ میں وہیکل ڈپارٹمنٹ کے نام سے ایک غیرقانونی محکمے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ محکمہ نہ صرف قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے قائم کیا گیا ہے بلکہ اس کے سربراہ کو غیر معمولی اختیارات دیدیے گئے ہیں، اس آفیسر کو بلدیہ عظمیٰ کے بعض اعلیٰ افسران کی کھلی پشت پناہی حاصل ہے ،اس پشت پناہی پر وہیکل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اپنے سینئر افسران کو بھی تبادلہ کرادینے سمیت مختلف نوعیت کی دھمکیاں دیتا ہے، اس صورتحال سے بلدیہ عظمیٰ کے افسران سخت پریشان ہیں، ان افسران نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ میں وہیکل ڈپارٹمنٹ کے نام سے ایک شعبہ کام کررہا ہے جبکہ 2012/13 میں جب بلدیہ عظمیٰ نے اپنا بجٹ منظوری کے لیے سندھ حکومت کو بھیجا تو خاموشی کے ساتھ اس محکمے کی بھی منظوری کرانے کی کوشش کی تھی تاہم سندھ حکومت نے مختلف نوعیت کے اعتراضات عائد کرتے ہوئے اس محکمے کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا مگر اس کے باوجود یہ محکمہ بلدیہ عظمیٰ میں نہ صرف کام کررہا ہے بلکہ اس محکمے کے سربراہ کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں اس محکمے کی ذمے داریوں میں گاڑیوں کی خریداری ، گاڑیوں کی مینٹی ننس ، افسران کو گاڑیوں کی الاٹمنٹ اور فیول کی خریداری اور الاٹمنٹ شامل ہے ،ذرائع نے بتایا کہ اس محکمے کا سربراہ گریڈ 18 کے ایک جونیئر آفیسر سلمان شاکر کو بنایا گیا ہے جس کی ماضی میں دی گئیں ترقیاں بھی مشکوک ہیں اور اب اس کو خلاف ضابطہ گریڈ 19میں ترقی دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ افسران متحرک ہیں اور اپنے ماتحت افسران پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کسی طور پر بھی سلمان شاکر کی گریڈ 19 میں تنخواہ کو ایڈجسٹ کرو بصورت دیگر تمہارے کے خلاف کارروائی کی جائیگی ،ذرائع نے بتایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کی اپنی ورکشاپ موجود ہے جہاں پر عملہ اور گاڑیوں کی مرمت کے حوالے سے تمام ضروری سامان بھی ہے تاہم سلمان شاکر نے وہاں سے گاڑیوں کی مرمت پر پابندی عائد کرادی ہے اور ہدایت کی ہے کہ تمام گاڑیوں کی نجی ورکشاپ میں مرمت کرائی جائے اس کے علاوہ سلمان شاکر کو کیونکہ بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کی مکمل پشت پنائی حاصل ہے جس کے باعث وہ اپنے سینئر افسران کی تضیحک کرتے ہیں تاہم وہ سینئر افسران اس خوف سے کیونکہ سلمان شاکر کو ادارے کی انتظامیہ کی مکمل پشت پنائی حاصل ہے خاموش ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جو ذمے داریاں غیرقانونی وہیکل ڈپارٹمنٹ کو دی گئی ہیں پہلے وہ تمام ذمے داریاں اسٹور ڈپارٹمنٹ کی تھیں یہ اسٹور ڈپارٹمنٹ اب بھی قائم ہے جس میں افسران وعملہ موجود ہے ایس ایل جی او میں اس محکمے کے امور اور ذمے داریاں بھی واضح ہیں مگر اس محکمے کے پاس کوئی کام نہیں ہے جبکہ جس ڈپارٹمنٹ کا ایس ایل جی او میں کوئی ذکر نہیں ہے اس محکمے کو لامحدود اختیارات دیدیے گئے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے صوبائی وزیر بلدیات سے اپیل ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور سلمان شاکر کی ترقیوں کی تحقیقات کرائیں اور بلدیہ عظمیٰ میں خلاف ضابطہ کام کرنے والے محکمے کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرائیں۔
بلدیہ عظمیٰ میں وہیکل ڈپارٹمنٹ کے نام سے ایک غیرقانونی محکمے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ محکمہ نہ صرف قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے قائم کیا گیا ہے بلکہ اس کے سربراہ کو غیر معمولی اختیارات دیدیے گئے ہیں، اس آفیسر کو بلدیہ عظمیٰ کے بعض اعلیٰ افسران کی کھلی پشت پناہی حاصل ہے ،اس پشت پناہی پر وہیکل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اپنے سینئر افسران کو بھی تبادلہ کرادینے سمیت مختلف نوعیت کی دھمکیاں دیتا ہے، اس صورتحال سے بلدیہ عظمیٰ کے افسران سخت پریشان ہیں، ان افسران نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ میں وہیکل ڈپارٹمنٹ کے نام سے ایک شعبہ کام کررہا ہے جبکہ 2012/13 میں جب بلدیہ عظمیٰ نے اپنا بجٹ منظوری کے لیے سندھ حکومت کو بھیجا تو خاموشی کے ساتھ اس محکمے کی بھی منظوری کرانے کی کوشش کی تھی تاہم سندھ حکومت نے مختلف نوعیت کے اعتراضات عائد کرتے ہوئے اس محکمے کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا مگر اس کے باوجود یہ محکمہ بلدیہ عظمیٰ میں نہ صرف کام کررہا ہے بلکہ اس محکمے کے سربراہ کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں اس محکمے کی ذمے داریوں میں گاڑیوں کی خریداری ، گاڑیوں کی مینٹی ننس ، افسران کو گاڑیوں کی الاٹمنٹ اور فیول کی خریداری اور الاٹمنٹ شامل ہے ،ذرائع نے بتایا کہ اس محکمے کا سربراہ گریڈ 18 کے ایک جونیئر آفیسر سلمان شاکر کو بنایا گیا ہے جس کی ماضی میں دی گئیں ترقیاں بھی مشکوک ہیں اور اب اس کو خلاف ضابطہ گریڈ 19میں ترقی دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ افسران متحرک ہیں اور اپنے ماتحت افسران پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کسی طور پر بھی سلمان شاکر کی گریڈ 19 میں تنخواہ کو ایڈجسٹ کرو بصورت دیگر تمہارے کے خلاف کارروائی کی جائیگی ،ذرائع نے بتایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کی اپنی ورکشاپ موجود ہے جہاں پر عملہ اور گاڑیوں کی مرمت کے حوالے سے تمام ضروری سامان بھی ہے تاہم سلمان شاکر نے وہاں سے گاڑیوں کی مرمت پر پابندی عائد کرادی ہے اور ہدایت کی ہے کہ تمام گاڑیوں کی نجی ورکشاپ میں مرمت کرائی جائے اس کے علاوہ سلمان شاکر کو کیونکہ بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کی مکمل پشت پنائی حاصل ہے جس کے باعث وہ اپنے سینئر افسران کی تضیحک کرتے ہیں تاہم وہ سینئر افسران اس خوف سے کیونکہ سلمان شاکر کو ادارے کی انتظامیہ کی مکمل پشت پنائی حاصل ہے خاموش ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جو ذمے داریاں غیرقانونی وہیکل ڈپارٹمنٹ کو دی گئی ہیں پہلے وہ تمام ذمے داریاں اسٹور ڈپارٹمنٹ کی تھیں یہ اسٹور ڈپارٹمنٹ اب بھی قائم ہے جس میں افسران وعملہ موجود ہے ایس ایل جی او میں اس محکمے کے امور اور ذمے داریاں بھی واضح ہیں مگر اس محکمے کے پاس کوئی کام نہیں ہے جبکہ جس ڈپارٹمنٹ کا ایس ایل جی او میں کوئی ذکر نہیں ہے اس محکمے کو لامحدود اختیارات دیدیے گئے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے صوبائی وزیر بلدیات سے اپیل ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور سلمان شاکر کی ترقیوں کی تحقیقات کرائیں اور بلدیہ عظمیٰ میں خلاف ضابطہ کام کرنے والے محکمے کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرائیں۔