مقبوضہ کشمیر بھارتی فوجی مسجد میں گھس گئے جھڑپوں میں 3 خواتین سمیت متعدد زخمی

مختلف علاقوں میں احتجاجی ہڑتال اور مظاہرے، درجنوں افراد گرفتار ، کرفیو کے باعث نمازیوں کو مسجد میں جانے سے روک دیا گیا

سانحہ گول کا عالمی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں نوٹس لیں،عالمی برادری کشمیریوں کو قتل ہونے سے بچائے، حریت رہنما. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

مقبوضہ کشمیر کے جنوبی قصبے میں بھارتی فورسز کی بربریت کے خلاف اتوار کو بھی مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی ہڑتال اور مظاہرے کیے گئے۔

بھارتی فوج کے اہلکار مسجد میں گھس گئے، دروازیں کھڑکیاں توڑ دیں، جھڑپوں میں 3خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے، فورسزنے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا،سرینگر میں بڑی تعداد میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو تعینات کردیا گیااورفورسز نے لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی، نماز مسجد میں بھی نہیں جا سکے۔ ہمہامہ میں لوگوں نے گول واقعے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔اس موقع پر مشتعل نواجوانوں نے پتھراؤ کیا جس کے بعد فورسز نے لاٹھی چارچ اور شلنگ کی۔ صفا کدل، بمنہ، صورہ اور دیگر کئی علاقوں میں بھی پتھراؤ کیا گیا۔ شہر کے مضافاتی علاقہ ایچ ایم ٹی زینہ کوٹ میں فورسز اہلکاروں نے بستیوں میں داخل ہوکرخوف وہراس پھیلایا۔




مقامی لوگوں کے مطابق سی آر پی ایف44بٹالین کے اہلکاروں نے نہ صرف رہائشی مکانوں کی زبردست توڑ پھوڑ اور مکینوں کی شدید مارپیٹ کی بلکہ ایک وسیع آبادی کی بجلی سپلائی بھی کاٹ ڈالی اور خلفائے راشدین مسجد شریف کے کھڑکی دروازوں کی بھی توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں مسجد کے شیشے چکناچور ہوگئے۔ پلہالن اور پٹن کے مختلف علاقوں سے 9 افراد کو گرفتارکرلیا گیا ۔ قاضی پورہ وٹہ پورہ میں 10نوجوانوں کو فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ لتر پلوامہ میں جھڑپوں کے بعد پولیس نے 10نوجوانوں کو حراست میں لے لیا جبکہ کاکہ پورہ میںپولیس نے سانحہ رام بن کے بعد احتجاجی مظاہروں، سنگ بازی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں نصف درجن کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔

حریت رہنما سید علی گیلانی ،حریت چیئر مین میرواعظ عمر فاروق سمیت سرکردہ حریت پسند رہنماوں کو اتوار کو بھی اپنے گھر وں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ لبریشن فرنٹ سربراہ یاسین ملک اور جاوید احمد میر بدستور پولیس اسٹیشن میں نظر بند ہیں۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند قیادت علی گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے سانحہ گول پر حکومتی تحقیقات کرانے کے اعلان کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کوئی تحقیقات ہوگی اور نہ کسی ذمے دار اہلکار کو کسی عدالت میں باز پرس کے لیے حاضر کیا جائے گا،عالمی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں نوٹس لیں، بین الاقوامی برادری مداخلت کر کے کشمیریوں کو قتل ہونے سے بچائے۔
Load Next Story