معیشت کا استحکام ناگزیر
ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی کی ضروری ہے
ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی کی ضروری ہے (فوٹو: فائل)
کسی بھی ملک کی ترقی وخوشحالی کا انحصار ملکی معیشت کے استحکام پر ہے، نئی حکومت کو قائم ہوئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں، ڈالرکو پر لگ جانے سے عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے، یہ وہ عمومی تاثر ہے جو عوام میں پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ایف پی سی سی آئی کے ریجنل آفس اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقعے پر تاجر تنظیموں، مختلف ایسوسی ایشنزکے عہدیداروں سے ملاقات کے موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو گئی ہے، نجی شعبہ معاشی قوت ہے تاجربرادری بلاخوف سرمایہ کاری کرے، حکومت تحفظ دے گی۔
ان کے خیالات انتہائی امید افزاء ہیں، ان کے بقول آئی ایم ایف سے بات چیت چل رہی ہے اور کوشش ہے کہ جلد معاہدہ ہو جائے پاکستان کے لیے قرض کا حجم نہیں بلکہ شرائط اہم تھیں، ایسا معاہدہ نہیں چاہتے جو پاکستان کی معیشت اور عوام کے لیے بہتر نہ ہو۔ بالکل درست کہتے ہیں وزیرخزانہ کہ شرائط اہم ہیں۔ یہ تجربے اور مشاہدے کی بات ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے جب جب آئی ایم ایف سے قرض لیا ہے تو شرائط کو پورا کرنے کے لیے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
یقینا آئی ایم سے قرض لینا ہماری حکومت کی مجبوری ہو سکتی ہے لیکن اس میں عوامی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا لازمی ہے تاکہ عوام کے لیے مہنگائی کا کوہ گراں کھڑا نہ ہو جائے۔ وفاقی وزیر خزانہ کی گفتگو کے چند مزید مندرجات کچھ یوں ہیں کہ پہلے سے موجود صنعتی زونز کو فعال بنانے کے لیے کام کیا جائے گا اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے وزیراعظم عمران خان اکتیس جنوری کو سرٹیفکیٹس کا اجرا کریں گے۔ بلاشبہ وفاقی وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم ملک کو معاشی کرائسس سے نکالنے کے لیے محنت سے کام کر رہی ہے۔
لیکن حکومت کو اہم نقطہ نہیں بھولنا چاہیے کہ معیشت میں مینوفیکچرنگ کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے جب کہ اس شعبے پر توجہ نہیں دی جائے گی، تجارتی خسارہ کم نہیں ہو سکتا۔ ایک اور خبرکے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھارت کے ساتھ فوری طور پر تجارت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر عمل درآمد میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
عوام کے لیے فوری ریلیف ممکن نہیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے سے تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیرخزانہ اور مشیر برائے تجارت کے بیانات کو دیکھا جائے تو ہمیں صورتحال کا اندازہ لگانے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے، آنے والے دنوں میں عوام کے لیے ریلیف کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں جو کہ قطعاء حوصلہ افزاء بات نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاحت کے فروغ میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ویزہ پالیسی اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔ پشاورسے ملائیشیاکے لیے فلائٹس جلد شروع کی جائیں گی جس سے بیرون ملک کام کرنے والے لوگوں کو سہولت میسر آئیگی، انھوں نے ان خیالات کا اظہار مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی سے گفتگو میں کیا۔
ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے، حکومت کو چاہیے کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ روزگار اور عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا، جمہوری حکومت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ایف پی سی سی آئی کے ریجنل آفس اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقعے پر تاجر تنظیموں، مختلف ایسوسی ایشنزکے عہدیداروں سے ملاقات کے موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو گئی ہے، نجی شعبہ معاشی قوت ہے تاجربرادری بلاخوف سرمایہ کاری کرے، حکومت تحفظ دے گی۔
ان کے خیالات انتہائی امید افزاء ہیں، ان کے بقول آئی ایم ایف سے بات چیت چل رہی ہے اور کوشش ہے کہ جلد معاہدہ ہو جائے پاکستان کے لیے قرض کا حجم نہیں بلکہ شرائط اہم تھیں، ایسا معاہدہ نہیں چاہتے جو پاکستان کی معیشت اور عوام کے لیے بہتر نہ ہو۔ بالکل درست کہتے ہیں وزیرخزانہ کہ شرائط اہم ہیں۔ یہ تجربے اور مشاہدے کی بات ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے جب جب آئی ایم ایف سے قرض لیا ہے تو شرائط کو پورا کرنے کے لیے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
یقینا آئی ایم سے قرض لینا ہماری حکومت کی مجبوری ہو سکتی ہے لیکن اس میں عوامی مفادات کو بھی مدنظر رکھنا لازمی ہے تاکہ عوام کے لیے مہنگائی کا کوہ گراں کھڑا نہ ہو جائے۔ وفاقی وزیر خزانہ کی گفتگو کے چند مزید مندرجات کچھ یوں ہیں کہ پہلے سے موجود صنعتی زونز کو فعال بنانے کے لیے کام کیا جائے گا اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے وزیراعظم عمران خان اکتیس جنوری کو سرٹیفکیٹس کا اجرا کریں گے۔ بلاشبہ وفاقی وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم ملک کو معاشی کرائسس سے نکالنے کے لیے محنت سے کام کر رہی ہے۔
لیکن حکومت کو اہم نقطہ نہیں بھولنا چاہیے کہ معیشت میں مینوفیکچرنگ کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے جب کہ اس شعبے پر توجہ نہیں دی جائے گی، تجارتی خسارہ کم نہیں ہو سکتا۔ ایک اور خبرکے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھارت کے ساتھ فوری طور پر تجارت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر عمل درآمد میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
عوام کے لیے فوری ریلیف ممکن نہیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے سے تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیرخزانہ اور مشیر برائے تجارت کے بیانات کو دیکھا جائے تو ہمیں صورتحال کا اندازہ لگانے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے، آنے والے دنوں میں عوام کے لیے ریلیف کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں جو کہ قطعاء حوصلہ افزاء بات نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیاحت کے فروغ میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ویزہ پالیسی اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔ پشاورسے ملائیشیاکے لیے فلائٹس جلد شروع کی جائیں گی جس سے بیرون ملک کام کرنے والے لوگوں کو سہولت میسر آئیگی، انھوں نے ان خیالات کا اظہار مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی سے گفتگو میں کیا۔
ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے، حکومت کو چاہیے کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ روزگار اور عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا، جمہوری حکومت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔