سانحہ ساہیوال ایک ٹیسٹ کیس

ذیشان کو حراست میں لے کر تفتیشی حکام دہشت گرد نیٹ ورک کے آخری سرے تک جاسکتے تھے

ذیشان کو حراست میں لے کر تفتیشی حکام دہشت گرد نیٹ ورک کے آخری سرے تک جاسکتے تھے (فوٹو: فائل)

سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ اپنی لرزہ خیز ہولناکی کے ساتھ سامنے آ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والے چاروں افراد کو پوائنٹ بلینک یعنی قریب سے گولیاں لگیں، انتہائی قریب سے گولیاں لگنے کی وجہ سے مختلف حصوں کی جلد جل گئی،اس اندھا دھند فائرنگ سے ڈرائیور ذیشان کو13،خلیل کو11،اریبہ کو 6، نبیلہ کو4گولیاں لگیں۔ ننھی اریبہ کو پشت سے سینے کے دائیں جانب 9 سینٹی میٹرکے ایریا میں چار گولیاں لگیں ،گولیاں لگنے سے اریبہ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

خاتون نبیلہ کو لگنے والی 4گولیوں میں سے ایک سر میں لگی ۔ خلیل کو بھی لگنے والی 11گولیوں میں سے ایک سر میں لگی، خلیل کو دائیں ہاتھ کے قریب سے گولی لگی جس سے جلد جل گئی۔ ڈرائیور ذیشان کو 13گولیاں لگیں، سر میں لگنے والی گولی سے ہڈیاں باہر آگئیں۔ زخمی ہونے والی 6 سالہ منیبہ کے ہاتھ میں شیشہ نہیں بلکہ گولی لگی تھی جو اس کے دائیں ہاتھ میں سامنے سے لگی اور پار ہوگئی۔واقعے میں زخمی ہونے والے ننھے عمیر کو لگنے والی گولی داہنی ران کو چیرتی ہوئی دوسری جانب سے نکل گئی۔

ساہیوال سانحہ کا ایک غیر معمولی اور المناک پہلو واردات کی تفتیش و تحقیقات کی پراسراریت کو جرائم پرگہری نگاہ رکھنے والے ماہرین اور سابق سینئر پولیس افسران سانپ ، سیڑھی کے کھیل سے مشابہت دیتے ہیں، جب کہ عوامی حلقوں میں بھی واقعے کے پیشہ ورانہ ،غیرجانبدارانہ اور شفاف تفتیش کے بارے میں تشکیل شدہ جے آئی ٹی پر بھی سوالیہ نشان اٹھ چکے ہیں، جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش جاری ہے۔

اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتے، جن عینی شاہدین کے پاس شواہد ، ثبوت اور ویڈیوز ہیں وہ دے سکتے ہیں، تاہم جے آئی ٹی ٹیم ابھی تک صرف دو عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ کرسکی ہے، سانحہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کی تعداد 16تھی لیکن ان میں سے صرف 6اہلکاروں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیاہے اور آیندہ ہفتے ان کی شناختی پریڈ کرائی جائے گی، تاحال میڈیا سے ان مبینہ 16اہلکاروں کوبوجوہ چھپایا گیا ہے۔

ادھر سانحہ ساہیوال میں جاں بحق افراد کے ورثا عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں ، متاثرہ خاندانوں کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ورثا کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ وکیل شہبازحیدر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں بھی دھمکی آمیزکال موصول ہوئی ہے۔ وکیل نے کہا کہ انھوں نے جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ کو اس معاملے سے آگاہ کردیا ہے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ صورتحال کی سنگینی اور تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی شعوری یا لاشعوری کوششوں پر قیاس آرائیوں اور شکوک و شبہات کا دھواں بھی تفیش کے ماحول کو مزید پراگندہ اورگمبھیربنا رہا ہے، لہٰذا پیدا شدہ سچویشن میں ایک سینئرتجزیہ کارکا کہنا تھا کہ معاشرتی سطح پر قوم ایک اضطراب سے دوچار ہے، اسے خوف ہے کہ کہیں انصاف کا خون نہ ہوجائے۔


بات سماجی کیفیات اور انصاف کے حصول سے متعلق تصورات اور امکانات میں امید وتوقعات کی ہے، خدشات سر اٹھا رہے ہیں کہ سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ جلد وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور مسند عدالت تک نہیں پہنچی تو ساہیوال سانحہ کا انجام بھی نقیب اللہ کیس سے کچھ مختلف نہیں ہوگا اور ہونا بھی نہیں چاہیے۔اس لیے ماہرین قانون اور اپوزیشن جماعتوں کا حکومت سے سانحہ کی منصفانہ اور آزادانہ تفتیش میں انصاف کے عمل میں انتظامی انحراف سے اجتناب کا مطالبہ بلاجواز نہیں۔ بے انصافی کے ستائے عوام کے سامنے ایک بہیمانہ اور دل گداز قتل کا ہے جس میں بیگناہ افراد کو انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا۔

ادھر تفتیشی حکام کی توجہ کیس کی شفاف تحقیقات سے زیادہ ذیشان کے دہشت گرد ہونے کے تانے بانے کی تلاش وجستجو پر مرکوز ہے، جب کہ ذیشان کو ابھی تک دہشت گرد ثابت بھی نہیں کیا جاسکا۔کیسی دیدہ دلیری ہے کہ ایک شخص ابھی مشکوک ہے لیکن اسے قتل کردیا گیا، ایسا کس نے کیا اور کیوں کیا، اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔لہٰذا متاثرہ خاندان کے اندیشوں اور ان کے شکوک وشبہات کا ازالہ ہر قسم کے دباؤ سے آزاد عدالتی کارروائی کی متقاضی ہے۔

پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہر باشعور شہری چاہتا ہے کہ اس سانحے کے ظاہری اور پس پردہ مجرموں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ یاد رہے کچھ روز قبل جلیل اور ان کے اہلخانہ کی صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ سے مبینہ ملاقات کی خبر چلائی گئی ۔

بدنصیب خاندان کے افراد کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے در دستک تک بھی لایا گیا مگر کسی نے ان سے ان کا دکھ نہیں سنا، تاہم میڈیا کے مطابق سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندانوں کو منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اسلام آباد بلا لیا گیا، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیف سیکریٹری،آئی جی اور ہوم سیکریٹری پنجاب کے علاوہ وفاقی سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان بھی شریک ہوئے۔اس موقعے پر متاثرہ خاندانوں نے المیے پر بیان دیا ۔کمیٹی کے چیئرمین سینٹر رحمان ملک نے گزشتہ روز مقتول خلیل کے بھائی جمیل سے فون پر بات کی تھی۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ سینیٹر رحمان ملک سے گیارہ بجے دن فون پرمتاثرہ خاندان کی ملاقات ہوئی جب کہ ملاقات کرنے والوں کے شناختی کارڈ نمبر مانگے گئے۔ ملاقات کے بعد رحمان ملک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ ساہیوال پر عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

یہ حقیقت بلاشبہ قابل غور ہے کہ سی ٹی ڈی دہشت گردی مخالف ٹیم پر مشتمل ایک اعلیٰ تربیت یافتہ فورس کی نمایندگی کرتی ہے، اس کے کریڈٹ پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی ایک معتبر کارکردگی کا حوالہ بھی ہے تاہم بنیادی سوال روکی گئی کار پر اندھا دھند فائرنگ کا ہے جب کہ کار میں موجود خاتون اور معصوم بچے سوار تھے۔ ان کی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی۔

ذیشان کو حراست میں لے کر اس سے ہونے والی تفتیش سے دہشت گرد نیٹ ورک کے آخری سرے تک تفتیشی حکام جاسکتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون اور لاقانونیت کے مابین فرق پر یہ بحث سامنے آئی کہ جس میں کچھ کرگزرنے کی طاقت ہو وہ کرگزرتا ہے اور اس پر غالب آنے کی صلاحیت سے محروم لوگ صورتحال کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، طاقتورکا اقدام قانون کے مطابق ہو یا اس کے خلاف وہی قانون ہے۔اس کالے قانون کے ازالے کے یقین نے سانحہ ساہیوال کو ایک ٹیسٹ کیس بنا دیا ہے۔
Load Next Story