منی بجٹ کمزور معیشت کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیدیا گیا
حکومتی حلقے اس منی بجٹ کو کینسر زدہ معاشی مریض کے علاج کیلئے درست نسخہ قرار دے رہے ہیں۔
حکومتی حلقے اس منی بجٹ کو کینسر زدہ معاشی مریض کے علاج کیلئے درست نسخہ قرار دے رہے ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کئے جانیوالے دوسرے منی بجٹ پر قومی اسمبلی میں تو بحث شروع نہ ہو سکی جبکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں جلد اس ضمنی ترمیمی فنانس بل پر غور ہونے جا رہا ہے جس میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اس بل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پیش کرے گی البتہ عوامی اسمبلی میں اس بارے خوب لے دے ہو رہی ہے جبکہ وزیر خزانہ اسد عمر ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے دورے کر رہے ہیں۔
حکومتی حلقے اس منی بجٹ کو کینسر زدہ معاشی مریض کے علاج کیلئے درست نسخہ قرار دے رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شکوہ وجواب شکوہ کی صورت مشاعرہ جاری ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔ البتہ صنعتی و کاروباری حلقوں کی جانب سے اس دوسرے ضمنی بجٹ کوتازہ ہوا کا ایک جھونکا قراردیا جا رہا ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ضمنی بجٹ میں مقامی انڈسٹری کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں وہ سستی انڈسٹری کو آکسیجن فراہم کریں گے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان حالات میں جبکہ حکومت اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری کر رہی ہے اور اگلے تین سے چار ماہ میں بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تو اس موقع پر یہ منی بجٹ پیش کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے اور اس منی بجٹ میں بھی زیادہ تر قدامات ایسے ہیں۔
جن کا اطلاق یکم جولائی 2019 سے کیا گیا ہے اور بعض اقدامات کا مارچ 2019 سے اطلاق کیا گیا ہے بہت کم اقدامات ایسے ہیں جن کا اطلاق فروری سے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے یہی وجوہات ہیں کہ حکومت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور سب سے زیادہ تنقید غیر ملکی اثاثہ جات رکھنے والے پاکستانیوں کے سامنے آنے والے اثاثہ جات بارے ٹیکس کے عبوری اسیسمنٹ آرڈر جاری کرنے سے متعلق شامل کی جانیوالی شق پر کئے جا رہے ہیں اور اسے وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کے اثاثہ جات سامنے آنے کے کیس سے جوڑا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اس اقدام کا علیمہ خان کے معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر یہ مکافات عمل سمجھ لیجئے یا تقدیر کا چکر کہ جو بویا جاتا ہے وہ اسی دنیا میں کاٹنا پڑتا ہے۔ اس سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس نازک اقتصادی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سیاسی قوتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
دوسری جانب پاکستان کو دوست ممالک کی جانب سے امداد ملنے کے بعد سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہوئی ہے اس کے بھی یقینی طور پر معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہونگے جبکہ چین کے ساتھ بھی پیکج فائنل ہو چکا ہے اور اگلے چند روز میں اس کے بھی آثار ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی عدم توازن میں کمی لانے کے حوالے سے بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے جس کیلئے اگلے چند روز میں پاکستانی وفد چین جا رہا ہے جس میں چین کے ساتھ چاول، سمیت دیگر مصنوعات کی برآمدات کے حوالے سے ایم او یو ہونگے اس اقدام سے پاکستان کی چین کو ایک سے دو ارب ڈالر کی برآمدات میں اضافہ ہوگا مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ انڈسٹری کیلئے درکار دیگر ضروری لوازمات بھی پورے کئے جائیں گے اور آئی ایم ایف کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے تو اس کیلئے واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے۔
اقتصادی فرنٹ پرکئے جانیوالے ان اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری و برآمدات کو فروغ دینے کیلئے سیاسی عدم استحکام و غیر یقینی کی صورتحال کے اثر کو بھی زائل کرنے کی ضرورت ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے لگ رہا ہے کہ مقتدر حلقوں کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ٹکراؤ و عدم برداشت کو بڑھوتری دینا کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور سیاسی پکڑ دھکڑ اور نیب کی بھی میڈیا میں شہہ سُرخیاں کم ہوتی جا رہی ہیں۔
شائد یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ڈیل کی باتیں بھی چل رہی ہیں اور اسیر سیاسی رہنماوں کی جلد رہائیوں کی باتیں بھی چل رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جلد سیاسی رہنما جیلوں سے باہر ہونگے اور میاں نوازشریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کی صورت میں بیرون ملک علاج کیلئے روانگی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں مگر پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما ان باتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے بیانیہ کو دہراتے ہیںکہ ان کے قائد میاں نوازشریف خود گرفتاری دینے وطن آئے ہیں اور نہ صرف وہ بلکہ ان کا پورا خاندان مقدمات کا سامنا کر رہا ہے، وہ آزمائش کی بھٹی میں جل کر کُندن بن گئے ہیں، اس سب کے باوجود سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی گولہ باری جاری رہے گی لیکن معاملات اب پہلے والے نہیں رہے ہیںحکومت بار بار کہتی رہی ہے کہ ان پر ڈیل یا این آر او کیلئے دباو ہے اور اپوزیشن اس الزام کو نہ صرف مسترد کرتی رہی ہے بلکہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے این آر او کیلئے دباو ڈالنے والوں کے نام سامنے لانے کا مطالبہ کرکے حکومت کو دفاعی پوزیشن لینے پر مجبورکردیتی ہے۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے حکومت کمزور اور اپوزیشن مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور بائیس سال کی محنت وکوشش کے بعد وجود میں آنے والے تحریک انصاف کی حکومت کمزور وکٹ پر ہونے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان حکومت کرنے کی بجائے اپنی حکومت بچانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور شائد اس کی وجہ بھی کمزور حکومت ہی ہے کہ اس سے آگے بات کرنے سے حکومت کے پر بھی جلتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کا حالیہ بیان بھی اسی تناظر میں لیا جا رہا ہے جس میں آصف علی زرداری نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان بے اختیار ہیں عمران خان ان سمیت کسی کو نہیں گھسیٹ سکتے۔
ایک اہم ڈویلپمنٹ قومی اسمبلی کا ماحول خراب کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف ایکشن لینے کے لئے اسپیکر کی سربراہی میں قائم کی جانیوالی کنڈکٹ کمیٹی میں ملک کی تینوں اہم شخصیات وزیراعظم عمران خان، قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کا ایک پلیٹ فارم پر آنا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، آصف علی زرداری سمیت تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کمیٹی کے رکن بنائے گئے ہیں اور اس تیرہ رکنی کمیٹی میں قائد ایوان عمران خان، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پی پی کے صدر آصف زرداری، وزیر ریلوے شیخ رشید، طارق بشیر چیمہ، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، مولانا اسعد محمود، اختر مینگل اور خالد مگسی شامل ہیں اس کے علاوہ غوث بخش مہر، شاہ زین بگٹی اور امیر حیدر خان ہوتی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔کسی بھی رکن کے خراب رویے کے خلاف شکایت ایوان یا اسپیکر کی جانب سے کمیٹی کو بھیجی جائے گی جس پر کمیٹی فیصلہ کرے گی۔
حکومتی حلقے اس منی بجٹ کو کینسر زدہ معاشی مریض کے علاج کیلئے درست نسخہ قرار دے رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شکوہ وجواب شکوہ کی صورت مشاعرہ جاری ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔ البتہ صنعتی و کاروباری حلقوں کی جانب سے اس دوسرے ضمنی بجٹ کوتازہ ہوا کا ایک جھونکا قراردیا جا رہا ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ضمنی بجٹ میں مقامی انڈسٹری کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں وہ سستی انڈسٹری کو آکسیجن فراہم کریں گے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان حالات میں جبکہ حکومت اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری کر رہی ہے اور اگلے تین سے چار ماہ میں بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تو اس موقع پر یہ منی بجٹ پیش کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے اور اس منی بجٹ میں بھی زیادہ تر قدامات ایسے ہیں۔
جن کا اطلاق یکم جولائی 2019 سے کیا گیا ہے اور بعض اقدامات کا مارچ 2019 سے اطلاق کیا گیا ہے بہت کم اقدامات ایسے ہیں جن کا اطلاق فروری سے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے یہی وجوہات ہیں کہ حکومت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور سب سے زیادہ تنقید غیر ملکی اثاثہ جات رکھنے والے پاکستانیوں کے سامنے آنے والے اثاثہ جات بارے ٹیکس کے عبوری اسیسمنٹ آرڈر جاری کرنے سے متعلق شامل کی جانیوالی شق پر کئے جا رہے ہیں اور اسے وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کے اثاثہ جات سامنے آنے کے کیس سے جوڑا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اس اقدام کا علیمہ خان کے معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر یہ مکافات عمل سمجھ لیجئے یا تقدیر کا چکر کہ جو بویا جاتا ہے وہ اسی دنیا میں کاٹنا پڑتا ہے۔ اس سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس نازک اقتصادی صورتحال سے نمٹنے کیلئے سیاسی قوتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
دوسری جانب پاکستان کو دوست ممالک کی جانب سے امداد ملنے کے بعد سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہوئی ہے اس کے بھی یقینی طور پر معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہونگے جبکہ چین کے ساتھ بھی پیکج فائنل ہو چکا ہے اور اگلے چند روز میں اس کے بھی آثار ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی عدم توازن میں کمی لانے کے حوالے سے بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے جس کیلئے اگلے چند روز میں پاکستانی وفد چین جا رہا ہے جس میں چین کے ساتھ چاول، سمیت دیگر مصنوعات کی برآمدات کے حوالے سے ایم او یو ہونگے اس اقدام سے پاکستان کی چین کو ایک سے دو ارب ڈالر کی برآمدات میں اضافہ ہوگا مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ انڈسٹری کیلئے درکار دیگر ضروری لوازمات بھی پورے کئے جائیں گے اور آئی ایم ایف کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے تو اس کیلئے واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے۔
اقتصادی فرنٹ پرکئے جانیوالے ان اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری و برآمدات کو فروغ دینے کیلئے سیاسی عدم استحکام و غیر یقینی کی صورتحال کے اثر کو بھی زائل کرنے کی ضرورت ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے لگ رہا ہے کہ مقتدر حلقوں کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ٹکراؤ و عدم برداشت کو بڑھوتری دینا کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور سیاسی پکڑ دھکڑ اور نیب کی بھی میڈیا میں شہہ سُرخیاں کم ہوتی جا رہی ہیں۔
شائد یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ڈیل کی باتیں بھی چل رہی ہیں اور اسیر سیاسی رہنماوں کی جلد رہائیوں کی باتیں بھی چل رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جلد سیاسی رہنما جیلوں سے باہر ہونگے اور میاں نوازشریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کی صورت میں بیرون ملک علاج کیلئے روانگی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں مگر پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما ان باتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے بیانیہ کو دہراتے ہیںکہ ان کے قائد میاں نوازشریف خود گرفتاری دینے وطن آئے ہیں اور نہ صرف وہ بلکہ ان کا پورا خاندان مقدمات کا سامنا کر رہا ہے، وہ آزمائش کی بھٹی میں جل کر کُندن بن گئے ہیں، اس سب کے باوجود سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی گولہ باری جاری رہے گی لیکن معاملات اب پہلے والے نہیں رہے ہیںحکومت بار بار کہتی رہی ہے کہ ان پر ڈیل یا این آر او کیلئے دباو ہے اور اپوزیشن اس الزام کو نہ صرف مسترد کرتی رہی ہے بلکہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے این آر او کیلئے دباو ڈالنے والوں کے نام سامنے لانے کا مطالبہ کرکے حکومت کو دفاعی پوزیشن لینے پر مجبورکردیتی ہے۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے حکومت کمزور اور اپوزیشن مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور بائیس سال کی محنت وکوشش کے بعد وجود میں آنے والے تحریک انصاف کی حکومت کمزور وکٹ پر ہونے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان حکومت کرنے کی بجائے اپنی حکومت بچانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور شائد اس کی وجہ بھی کمزور حکومت ہی ہے کہ اس سے آگے بات کرنے سے حکومت کے پر بھی جلتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کا حالیہ بیان بھی اسی تناظر میں لیا جا رہا ہے جس میں آصف علی زرداری نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان بے اختیار ہیں عمران خان ان سمیت کسی کو نہیں گھسیٹ سکتے۔
ایک اہم ڈویلپمنٹ قومی اسمبلی کا ماحول خراب کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف ایکشن لینے کے لئے اسپیکر کی سربراہی میں قائم کی جانیوالی کنڈکٹ کمیٹی میں ملک کی تینوں اہم شخصیات وزیراعظم عمران خان، قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کا ایک پلیٹ فارم پر آنا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، آصف علی زرداری سمیت تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کمیٹی کے رکن بنائے گئے ہیں اور اس تیرہ رکنی کمیٹی میں قائد ایوان عمران خان، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پی پی کے صدر آصف زرداری، وزیر ریلوے شیخ رشید، طارق بشیر چیمہ، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، مولانا اسعد محمود، اختر مینگل اور خالد مگسی شامل ہیں اس کے علاوہ غوث بخش مہر، شاہ زین بگٹی اور امیر حیدر خان ہوتی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔کسی بھی رکن کے خراب رویے کے خلاف شکایت ایوان یا اسپیکر کی جانب سے کمیٹی کو بھیجی جائے گی جس پر کمیٹی فیصلہ کرے گی۔