پُرجوش پاکستان پروٹیز کے ہوش اُڑانے کیلیے تیار

سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کن ون ڈے آج ہوگا، اسپنرز کو بھی مدد ملے گی۔

جنوبی افریقہ پربیٹنگ کی ناکامی کا خوف سوار، نئی کنڈیشنز اور نیا چیلنج ہوگا، شعیب ملک۔ فوٹو: فائل

ٹرافی پر قبضہ جمانے کا عزم لیے پرجوش پاکستان پروٹیزکے ہوش اڑانے کیلیے تیار ہے، ون ڈے سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کن میچ آج کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائیگا۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ون ڈے سیریز میں دونوں ٹیموں کی کارکردگی میں عدم تسلسل نے کسی ایک کوبھی واضح برتری حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا، پورٹ الزبتھ میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں گرین شرٹس سے 5 وکٹ سے فتح حاصل کی۔

ڈربن میں پروٹیز اسی مارجن سے سرخرو ہوئے، سنچورین میں پاکستان نے 300 سے زائد رنز بنائے لیکن ڈک ورتھ لوئس میتھڈ پر 13 رنز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، جوہانسبرگ میں چوتھے ون ڈے سے قبل سرفراز احمد کے 4میچز کیلیے معطل ہونے کے بعد پاکستان ٹیم شعیب ملک کی قیادت میں کھیلی اور یکطرفہ مقابلے میں 8 وکٹوں سے کامیابی کے ساتھ سیریز 2-2سے برابر کردی۔

آج دونوں ٹیمیں کیپ ٹاؤن میں کھیلے جانے والے پانچویں، آخری اور فیصلہ کن میچ میں مقابل ہوگی، قیادت ایک بار پھر شعیب ملک کے سپرد ہو گی۔نیولینڈز اسٹیڈیم کی پچ عمومی طور پر فاسٹ بولرز کیلیے سازگار خیال کی جاتی ہے لیکن اچھی لائن اور لینتھ پر گیند کرنے والے اسپنرزکی کامیابی کے مواقع بھی ہیں۔

پاکستان بولنگ میں ہرطرح کے ہتھیاروں سے مزین ہے، شاہین شاہ آفریدی اور عثمان شنواری زبردست فارم میں ہیں۔ محمد عامر کی کارکردگی غیر معمولی تو نہیں لیکن نوجوان پیسرزکا ساتھ دے رہے ہیں، شاداب خان گزشتہ میچز میں اپنی افادیت ثابت کرچکے ہیں، عماد وسیم وکٹیں حاصل نہ کر پائیں تو رنز ضرور روکتے ہیں، اگرچہ گزشتہ دونوں ون ڈے میچز میں پاکستان نے پراعتماد بیٹنگ کا مظاہرہ کیا لیکن کیپ ٹاؤن کی اکثردھوکا دے جانے والی پچ پرثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ایک چیلنج ہوگا۔

امام الحق نے ون ڈے سیریز میں تسلسل کے ساتھ رنز بنائے ہیں، جارح مزاج فخرزمان اپنی شہرت کے برعکس کوئی تہلکہ خیز کارکردگی نہیں دکھا پائے، گزشتہ میچ میں اچھے آغاز کے باوجود غلط اسٹروک پر وکٹ گنوادی، ان کی اچھی اننگز پروٹیز کے حوصلے پست کرسکتی ہے، بابر اعظم اچھی فارم میں ہیں، محمد حفیظ پہلے میچ کے بعد کارکردگی کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پائے۔


قائم مقام کپتان شعیب ملک بھی فارم کے متلاشی ہیں، بیٹسمینوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا تو بولرز پاکستان کو ٹرافی پر قبضہ جمانے کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب ورلڈ کپ سے قبل ٹیم میں توازن لانے کیلیے کوشاں جنوبی افریقہ نے ایک اور تجربہ کرتے ہوئے آل راؤنڈر ویان ملڈرکو اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔

نوجوان کرکٹرز گزشتہ سال دسمبر میں زمبابوے کے خلاف سیریز کے دوران انجری کا شکار ہوئے تھے اور بحالی کے بعد کم بیک کر رہے ہیں، 20سالہ آل راؤنڈر نمبر 7 پر بیٹنگ میں اپنی افادیت ثابت کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب کپتان فاف ڈوپلیسی کہہ چکے ہیں کہ 6بیٹسمینوں کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے ہیں لیکن اگر 3 پیسرز کو شامل کیا گیا تو ایک آل راؤنڈرکی پالیسی بھی اپنائی جاسکتی ہے۔

ابھی تک سیریز میں جنوبی افریقی اچانک لڑکھڑا جانے کی بیماری میں مبتلا رہی ہے،اگرچہ ریسی وان ڈیر ڈوسین، ریزا ہینڈرکس اور ہاشم آملا نے رنز بنائے ہیں، فاف ڈوپلیسی بھی مزاحمت کرتے نظر آئے، تاہم ٹاپ آرڈر اب بھی بداعتمادی کا شکار ہے، ڈیوڈ ملر اپنی روایتی پاورہٹنگ کا مظاہرہ نہیں کر پائے، پہلے دو میچزمیں آرام کرنے والے کوئنٹن ڈی کک بھی ٹیم میں واپسی کے بعد کوئی بڑی اننگزنہیں کھیل سکے،گزشتہ میچ میں تینوں شعبوں میں آؤٹ کلاس ہونے والے پروٹیز اپنی سانسیں بحال کرکے گرین شرٹس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

فیصلہ کن معرکے کیلیے مہمان کرکٹرز نے گزشتہ روز بھرپور پریکٹس سیشن کیا،کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں صلاحیتیں نکھارنے کا سلسلہ جاری رکھا،بیٹسمینوں نے دل کھول کر اسٹروکس کھیلے۔

پریس کانفرنس میں قائم مقام کپتان شعیب ملک نے کہا کہ فیصلہ کن میچ اور سیریز جیتنے کیلیے پرعزم ہیں، دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک کیخلاف کامیابی ورلڈکپ سے قبل پاکستان ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کرے گی، جوہانسبرگ میں فتح سے گرین شرٹس کا مورال بلند ہے لیکن کیپ ٹاؤن میں نیا میچ،نیا میدان، نئی کنڈیشنز اور نیا چیلنج ہوگا، وکٹیں ہاتھ میں رکھتے ہوئے رنز بنانا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹاپ آرڈر میں موجود تینوں بیٹسمینوں کی فارم حوصلہ افزا ہے، امام الحق اوربابراعظم تسلسل کیساتھ رنزبنارہے ہیں، فخرزمان نے گزشتہ میچ میں اچھے آغاز کے بعد وکٹ گنوائی، نوجوان ہیں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے، بولرز میں اتنی صلاحیت ہے کہ پروٹیز کو دباؤ میں لاسکیں۔
Load Next Story