سندھ کے محکموں میں انضمام تعداد 47 سے کم کرکے 39 کردی گئی
وزیراعلیٰ نے منظوری دے دی، اس وقت سندھ میں سرکاری محکموں کی تعداد 47 ہے، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ ایک محکمہ ہوگا
بلدیات، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، دیہی ترقیات اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ایک ہی محکمہ ہوگا، محکمہ صحت 2حصوں میں تقسیم کیا جائے گا
حکومت سندھ نے مختلف محکموں کو ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے مختلف محکموں میں کمی کی اصولی منظوری دیدی ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائے گا ۔ سندھ حکومت کے مختلف محکموں کو ضم کرنے کے بعد ان کی تعداد 47 سے کم ہوکر 39 ہوجاے گی ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیات کے ساتھ کئی محکموں کو ضم کیا جائے گا جس کے تحت بلدیات، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، دیہی ترقیات اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ایک ہی محکمہ ہوگا۔ محکمہ زراعت میں سپلائی اینڈ پرائسز کو ضم کیا جائے گا۔ محکمہ جنگلات میں جنگلی حیات اور ماحولیات ضم ہونگے جبکہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات ایک محکمہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم2 حصوں اسکول ایجوکیشن اور ہائر، ٹیکنیکل اور ریسرچ ایجوکیشن پر مشتمل ہوگا جبکہ خصوصی تعلیم کا محکمہ علیحدہ ہوگا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ محکمہ صحت 2حصوں پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ میں تقسیم ہوگا۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور اسپیشل انیشی ایٹوو ضم کیا جاے گا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سروسز اور بین الصوبائی رابطہ ضم ہوگا۔کول انرجی اور توانائی2 علیحدہ محکمے ہوں گے جبکہ متبادل توانائی کا محکمہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیوٹا، تعلیمی بورڈز اور سندھ ریونیو بورڈ وزیراعلی سیکریٹریٹ کے ماتحت ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ ایک محکمہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے مختلف محکموں میں کمی کی اصولی منظوری دیدی ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائے گا ۔ سندھ حکومت کے مختلف محکموں کو ضم کرنے کے بعد ان کی تعداد 47 سے کم ہوکر 39 ہوجاے گی ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیات کے ساتھ کئی محکموں کو ضم کیا جائے گا جس کے تحت بلدیات، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، دیہی ترقیات اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ایک ہی محکمہ ہوگا۔ محکمہ زراعت میں سپلائی اینڈ پرائسز کو ضم کیا جائے گا۔ محکمہ جنگلات میں جنگلی حیات اور ماحولیات ضم ہونگے جبکہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات ایک محکمہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم2 حصوں اسکول ایجوکیشن اور ہائر، ٹیکنیکل اور ریسرچ ایجوکیشن پر مشتمل ہوگا جبکہ خصوصی تعلیم کا محکمہ علیحدہ ہوگا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ محکمہ صحت 2حصوں پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ میں تقسیم ہوگا۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور اسپیشل انیشی ایٹوو ضم کیا جاے گا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سروسز اور بین الصوبائی رابطہ ضم ہوگا۔کول انرجی اور توانائی2 علیحدہ محکمے ہوں گے جبکہ متبادل توانائی کا محکمہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیوٹا، تعلیمی بورڈز اور سندھ ریونیو بورڈ وزیراعلی سیکریٹریٹ کے ماتحت ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ ایک محکمہ ہوگا۔