واٹر بورڈ میں قوانین کی خلاف ورزی جاری 40 سے زائد افسران اصل عہدوں سے محروم
مختلف عہدوں پر اوپی ایس کی بنیاد پر کام کرنے والے افسران کی تعیناتی کا حکم نامہ واپس نہیں لیا گیا۔
ادارے میں بااثرافسران کی موجیں،اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑادی گئیں ہیں،ایماندار افسران کی حق تلفیاں فوٹو: فائل
LUCKNOW:
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں ڈی پی سی ون کے تحت ترقی پانے والے 40سے زائد افسران اگلے عہدوں پر تعیناتی سے محروم ہیں۔
ان عہدوں پر اوپی ایس کی بنیاد پر کام کرنے والے افسران کی تعیناتی کا حکم نامہ واپس نہیں لیا گیا ، ترقی حاصل کرنے والے افسران اپنے گریڈ کی مطابقت سے عہدہ حاصل کرنے سے محروم ہیں ، اس صورتحال پر ادارے کے افسران نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایم ڈی واٹربورڈ کو خلاف ضابطہ کام سے روکیں ، باخبر ذرائع نے ایکسپریس کو بتا یا کہ ڈی پی سی ون کے تحت جو افسران ترقی حاصل کرکے بھی اگلے عہدوں پر جانے کے بجائے اپنی سابقہ حیثیت میں کام کررہے ہیں ، ان میں ایگزیکٹیو انجینئرز مسعود احمد کھوڑو ، واحد سومرو ، جاوید بھٹو ، عابد حسین ، کایا لعل ، شاہدالحق ، عبدالمنان ، یوسف امام ، نعمان اختر فریدی ، فرید بیگ ،ظفر حسین ، لطیف احمدصدیقی ، خلیل احمد قریشی ، کلیم اختر اور عمران عبداﷲشامل ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ انجینئرز میں شکیل احمد اور محمد حنیف شامل ہیں، ڈی ایم ڈی آر آر جی کے عہدے پر ترقی پانے والے محمد اسلم کو ان کی کوششوں کے باوجود ایم ڈی واٹربورڈ ادارے میں برداشت کو تیار نہیں ہیں اور وہ ڈپوٹیشن پر کے ایم سی میں کام کرنے پر مجبور ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈی ایم جی آر آر جی کے عہدے پر گریڈ 18کا جونیئر ترین افسر تعینات ہے جس کی تعیناتی کا صرف ایک ہی میرٹ ہے کہ وہ ایم ڈی کے تمام باضا بطہ اور خلاف ضابطہ کام آنکھیں بند کرکے انجام دیتا ہے تاہم ریونیو ڈپارٹمنٹ کے افسران کا کہنا ہے کہ جس ہمت کے ساتھ ڈی ایم ڈی وقار ہاشمی نے دستخط کیے ہیں، اس پر ان کی ہمت کو داد دی جاسکتی ہے کیونکہ مستقبل کے نتا ئج سے ماورا ہوکر ایسا کیا ، ذرائع نے بتایا کہ معراج الدین نامی ایک آفیسر جوکہ اس وقت ڈائریکٹر آئی ٹی کے عہدے پر کام کررہا ہے اس کی ترقی ڈی ایم ڈی فنانس کے عہدے پرکی گئی اگرچہ اس کی ترقی کے حوالے سے پورا واٹربورڈ اس بات پر متفق ہے کہ یہ غلط ہوئی ۔
تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے اس کے خلاف متعدد کرپشن کی تحقیقات فائنل ہوچکی تھیں، اس کو اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کے بجائے اگلے عہدے پر ترقی دیدی گئی جس پر واٹربورڈ میں ایمانداری سے کام کرنے والے بہت سے افسران کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹر آئی ٹی کے عہدے پر عبدالغنی شیخ کی ترقی ہوئی ہے تاہم معراج الدین نے عبدالغنی کو سخت لہجہ ا ختیار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر تم نے یہاں آنے کی کوشش کی تو سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے ،مختار احمد شاہ کو ڈائریکٹر اکاؤنٹس کے عہدے پر ترقی دی گئی تاہم ڈا ئریکٹر اکاؤنٹ کے عہدے پر اس وقت ایم ڈی کے سب سے قریبی آفیسر عمران زیدی تعینات ہیں یہ اپنے شعبہ کے سربراہ ڈی ایم ڈی فنانس کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جن افسران کی واٹربورڈ میں تنزلی کی گئی ہے اس میں عمران زیدی بھی شامل ہیں تاہم اس کے باوجود ان سے ڈائریکٹر اکاؤنٹس کا چارج واپس نہیں لیا گیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران زیدی کے خلاف اینٹی کرپشن اور نیب میں تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور ان کو کسی بھی وقت گرفتارکیا جاسکتا ہے ، ذرائع نے بتایا کہ اعظم خان نامی شخص کو ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے، وہ ابھی بھی تا حال اکاؤنٹ آفیسر کے عہدے پر کام کررہے ہیں ۔
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ میں ڈی پی سی ون کے تحت ترقی پانے والے 40سے زائد افسران اگلے عہدوں پر تعیناتی سے محروم ہیں۔
ان عہدوں پر اوپی ایس کی بنیاد پر کام کرنے والے افسران کی تعیناتی کا حکم نامہ واپس نہیں لیا گیا ، ترقی حاصل کرنے والے افسران اپنے گریڈ کی مطابقت سے عہدہ حاصل کرنے سے محروم ہیں ، اس صورتحال پر ادارے کے افسران نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایم ڈی واٹربورڈ کو خلاف ضابطہ کام سے روکیں ، باخبر ذرائع نے ایکسپریس کو بتا یا کہ ڈی پی سی ون کے تحت جو افسران ترقی حاصل کرکے بھی اگلے عہدوں پر جانے کے بجائے اپنی سابقہ حیثیت میں کام کررہے ہیں ، ان میں ایگزیکٹیو انجینئرز مسعود احمد کھوڑو ، واحد سومرو ، جاوید بھٹو ، عابد حسین ، کایا لعل ، شاہدالحق ، عبدالمنان ، یوسف امام ، نعمان اختر فریدی ، فرید بیگ ،ظفر حسین ، لطیف احمدصدیقی ، خلیل احمد قریشی ، کلیم اختر اور عمران عبداﷲشامل ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ انجینئرز میں شکیل احمد اور محمد حنیف شامل ہیں، ڈی ایم ڈی آر آر جی کے عہدے پر ترقی پانے والے محمد اسلم کو ان کی کوششوں کے باوجود ایم ڈی واٹربورڈ ادارے میں برداشت کو تیار نہیں ہیں اور وہ ڈپوٹیشن پر کے ایم سی میں کام کرنے پر مجبور ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈی ایم جی آر آر جی کے عہدے پر گریڈ 18کا جونیئر ترین افسر تعینات ہے جس کی تعیناتی کا صرف ایک ہی میرٹ ہے کہ وہ ایم ڈی کے تمام باضا بطہ اور خلاف ضابطہ کام آنکھیں بند کرکے انجام دیتا ہے تاہم ریونیو ڈپارٹمنٹ کے افسران کا کہنا ہے کہ جس ہمت کے ساتھ ڈی ایم ڈی وقار ہاشمی نے دستخط کیے ہیں، اس پر ان کی ہمت کو داد دی جاسکتی ہے کیونکہ مستقبل کے نتا ئج سے ماورا ہوکر ایسا کیا ، ذرائع نے بتایا کہ معراج الدین نامی ایک آفیسر جوکہ اس وقت ڈائریکٹر آئی ٹی کے عہدے پر کام کررہا ہے اس کی ترقی ڈی ایم ڈی فنانس کے عہدے پرکی گئی اگرچہ اس کی ترقی کے حوالے سے پورا واٹربورڈ اس بات پر متفق ہے کہ یہ غلط ہوئی ۔
تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے اس کے خلاف متعدد کرپشن کی تحقیقات فائنل ہوچکی تھیں، اس کو اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کے بجائے اگلے عہدے پر ترقی دیدی گئی جس پر واٹربورڈ میں ایمانداری سے کام کرنے والے بہت سے افسران کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹر آئی ٹی کے عہدے پر عبدالغنی شیخ کی ترقی ہوئی ہے تاہم معراج الدین نے عبدالغنی کو سخت لہجہ ا ختیار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر تم نے یہاں آنے کی کوشش کی تو سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے ،مختار احمد شاہ کو ڈائریکٹر اکاؤنٹس کے عہدے پر ترقی دی گئی تاہم ڈا ئریکٹر اکاؤنٹ کے عہدے پر اس وقت ایم ڈی کے سب سے قریبی آفیسر عمران زیدی تعینات ہیں یہ اپنے شعبہ کے سربراہ ڈی ایم ڈی فنانس کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جن افسران کی واٹربورڈ میں تنزلی کی گئی ہے اس میں عمران زیدی بھی شامل ہیں تاہم اس کے باوجود ان سے ڈائریکٹر اکاؤنٹس کا چارج واپس نہیں لیا گیا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران زیدی کے خلاف اینٹی کرپشن اور نیب میں تحقیقات آخری مراحل میں ہیں اور ان کو کسی بھی وقت گرفتارکیا جاسکتا ہے ، ذرائع نے بتایا کہ اعظم خان نامی شخص کو ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے، وہ ابھی بھی تا حال اکاؤنٹ آفیسر کے عہدے پر کام کررہے ہیں ۔