وزیرخزانہ بتائیں آئی پی پیز کوادائیگیاں کیسے کیں پیپلزپارٹی
دعوئوں کے برعکس تفصیل کسی ویب سائٹ پر موجود نہیں،فرحت اللہ بابر
دعوئوں کے برعکس تفصیل کسی ویب سائٹ پر موجود نہیں،فرحت اللہ بابر فوٹو: فائل
پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیرخزانہ کو چیلنج کیاہے کہ آئی پی پیزکوسرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے)کی ادائیگی کی تفصیل بتائیں کہ کس طرح 322 ارب روپے کن کمپنیوں کودیے گئے ؟۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اپنے اس دعوے کے مطابق کہ یہ معلومات ویب سائٹ پرموجودہیں عوام کواس ویب سائٹ سے آگاہ کریں۔ وزیرخزانہ نے پیرکوایک انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کوادائیگیاں شفاف طریقے سے کی گئی ہیںجسکی تفصیل ویب سائٹ پردیدی گئی ہے۔
پیر کو پیپلزپارٹی پارٹی کے میڈیاآفس سے جاری بیان میں فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ وزارت خزانہ، وزارت پانی اوربجلی، واپڈا ، پیپکو اوراوگراکی ویب سائٹس پر تلاش کے باوجود کوئی ایسی تفصیل نظر نہیں آئی۔ انھوں نے مزیدکہاکہ اگریہ معلومات ویب سائٹ پر نہیں تو شفافیت اور احتساب کے بارے میں جائز سوالات اٹھتے ہیں کہ یہ معلومات بھی نہیں دی گئی کہ کس آئی پی پی نے کس عرصے میںکس شرح سے کتنی بجلی پیداکی جسکے عوض اسے ادائیگیاں کی گئیں؟ اور یہ بھی کہ کس آئی پی پی کو کتنی ادائیگی کی گئی؟۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اپنے اس دعوے کے مطابق کہ یہ معلومات ویب سائٹ پرموجودہیں عوام کواس ویب سائٹ سے آگاہ کریں۔ وزیرخزانہ نے پیرکوایک انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کوادائیگیاں شفاف طریقے سے کی گئی ہیںجسکی تفصیل ویب سائٹ پردیدی گئی ہے۔
پیر کو پیپلزپارٹی پارٹی کے میڈیاآفس سے جاری بیان میں فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ وزارت خزانہ، وزارت پانی اوربجلی، واپڈا ، پیپکو اوراوگراکی ویب سائٹس پر تلاش کے باوجود کوئی ایسی تفصیل نظر نہیں آئی۔ انھوں نے مزیدکہاکہ اگریہ معلومات ویب سائٹ پر نہیں تو شفافیت اور احتساب کے بارے میں جائز سوالات اٹھتے ہیں کہ یہ معلومات بھی نہیں دی گئی کہ کس آئی پی پی نے کس عرصے میںکس شرح سے کتنی بجلی پیداکی جسکے عوض اسے ادائیگیاں کی گئیں؟ اور یہ بھی کہ کس آئی پی پی کو کتنی ادائیگی کی گئی؟۔