سپریم کورٹ نے مہلت نہ دی تو بلدیاتی الیکشن کرادیں گے قائم علی شاہ
بلدیاتی قانون بہتربنانے کیلیے سیاسی جماعتوں سے رابطہ اوراتفاق رائے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ
کراچی:وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کررہے ہیں ۔ فوٹو : اے پی پی
وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے سندھ خصوصاً کراچی میں امن وامان کوکنٹرول کرنے کیلیے پولیس اور رینجرزکی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ہم نے بلدیاتی قانون کوبہتربنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے اوراتفاق رائے پیداکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس لیے سپریم کورٹ سے 6 ماہ کی مہلت مانگی ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ حکم دیتی توہم کل بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیارہیں۔ وہ پیرکو وزیراعلیٰ ہائوس میں اپنی طرف سے دیے گئے افطارڈنرکے موقع پرصحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔افطارڈنرمیں پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار میاں رضاربانی،صوبائی وزرا منظورحسین وسان، شرجیل انعام میمن، مکیش کمارچاولہ،جام مہتاب ڈاہر، سید مرادعلی شاہ، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید فیصل سبزواری، ارکان سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی اورایم کیوایم کے رہنما سید سردار احمد اور خواجہ اظہارالحسن، اے این پی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید، ن لیگ کے رہنما سلیم ضیا اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں، پیپلزپارٹی کے عہدیداروں اور ممتازشخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سید قائم علی شاہ نے کہاکہ بلدیاتی قانون بہت اہم ہے۔اس پراتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے ہمیں کچھ وقت چاہیے۔ اس کے باوجود اگرسپریم کورٹ نے اصرارکیا اور بلدیاتی انتخابات کی کوئی تاریخ دی تو ہم انتخابات کرادیں گے۔ انھوں نے کہاکہ سندھ کے حالات دیگر صوبوں سے مختلف ہیں۔ اگرچہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں یکساں قانون ہو لیکن سندھ میں تھوڑے مختلف حالات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سازگارماحول میں بلدیاتی انتخابات ہوں۔ وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ اجلاس کے حوالے سے سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ہم نے انھیں امن وامان کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی ہے اورانھوں نے بھی سندھ حکومت کو تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ سندھ میں عوام نے پیپلزپارٹی کومینڈیٹ دیا ہے۔ لہٰذا اسے لوگوں کی خدمت کرنے کا حق ہے۔ مرکز میں ن لیگ کوجو مینڈیٹ دیا گیا ہے، اس کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کیا گیا کہ کیا چوہدری نثارعلی خان کراچی میں روزانہ بے گناہ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ پراطمینان کا اظہارکیا ہے؟ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انسانی ہلاکتوں پر کوئی بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائی کی ہے، اس پر وفاقی وزیرداخلہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس باقر پرحملے کے ملزمان کا پتہ لگالیا گیا ہے۔ اب تک 45 سے زائد دہشت گرد مقابلے میں مارے گئے ہیں اور 100 سے زائد دہشت گردگرفتار ہوچکے ہیں۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ہے۔ اس سوال پر کہ حسنین مرزا اور ڈاکٹر بہادرڈاہری کیوں ناراض ہیں اورانھوں نے کابینہ میں شمولیت سے کیوں انکار کیا؟ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوئی ناراضی نہیں ہے۔
ہم نے بلدیاتی قانون کوبہتربنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے اوراتفاق رائے پیداکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس لیے سپریم کورٹ سے 6 ماہ کی مہلت مانگی ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ حکم دیتی توہم کل بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیارہیں۔ وہ پیرکو وزیراعلیٰ ہائوس میں اپنی طرف سے دیے گئے افطارڈنرکے موقع پرصحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔افطارڈنرمیں پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار میاں رضاربانی،صوبائی وزرا منظورحسین وسان، شرجیل انعام میمن، مکیش کمارچاولہ،جام مہتاب ڈاہر، سید مرادعلی شاہ، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید فیصل سبزواری، ارکان سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی اورایم کیوایم کے رہنما سید سردار احمد اور خواجہ اظہارالحسن، اے این پی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید، ن لیگ کے رہنما سلیم ضیا اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں، پیپلزپارٹی کے عہدیداروں اور ممتازشخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سید قائم علی شاہ نے کہاکہ بلدیاتی قانون بہت اہم ہے۔اس پراتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے ہمیں کچھ وقت چاہیے۔ اس کے باوجود اگرسپریم کورٹ نے اصرارکیا اور بلدیاتی انتخابات کی کوئی تاریخ دی تو ہم انتخابات کرادیں گے۔ انھوں نے کہاکہ سندھ کے حالات دیگر صوبوں سے مختلف ہیں۔ اگرچہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں یکساں قانون ہو لیکن سندھ میں تھوڑے مختلف حالات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سازگارماحول میں بلدیاتی انتخابات ہوں۔ وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ اجلاس کے حوالے سے سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ہم نے انھیں امن وامان کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی ہے اورانھوں نے بھی سندھ حکومت کو تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ سندھ میں عوام نے پیپلزپارٹی کومینڈیٹ دیا ہے۔ لہٰذا اسے لوگوں کی خدمت کرنے کا حق ہے۔ مرکز میں ن لیگ کوجو مینڈیٹ دیا گیا ہے، اس کا بھی احترام کرنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کیا گیا کہ کیا چوہدری نثارعلی خان کراچی میں روزانہ بے گناہ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ پراطمینان کا اظہارکیا ہے؟ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انسانی ہلاکتوں پر کوئی بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائی کی ہے، اس پر وفاقی وزیرداخلہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس باقر پرحملے کے ملزمان کا پتہ لگالیا گیا ہے۔ اب تک 45 سے زائد دہشت گرد مقابلے میں مارے گئے ہیں اور 100 سے زائد دہشت گردگرفتار ہوچکے ہیں۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ہے۔ اس سوال پر کہ حسنین مرزا اور ڈاکٹر بہادرڈاہری کیوں ناراض ہیں اورانھوں نے کابینہ میں شمولیت سے کیوں انکار کیا؟ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوئی ناراضی نہیں ہے۔