حج مہنگا عوامی ریلیف ندارد

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ نئے مالی سال کے سود و زیاں کا حساب ملے جلے اشاریوں کی عکاسی ہے

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ نئے مالی سال کے سود و زیاں کا حساب ملے جلے اشاریوں کی عکاسی ہے۔ فوٹو : فائل

گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے نئے مالی سال کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ۔ پالیسی انکشافات کے مطابق مہنگائی میں اضافے کا خدشہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بدستور بلندی کا عندیہ بھی دیا گیا، اسلام آباد میں ڈپٹی گورنر جمیل احمد، چیف اکانومسٹ ڈاکٹر سعید احمد اور ممبر بورڈ آف گورنرز عالیہ ہاشمی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بلند کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ موجودہ مالی سال کے دوران 13 سے 14 ارب ڈالر رہے گا تاہم پچھلے بارہ ماہ سے اس خسارے میں کمی ہو رہی ہے جب کہ مالیاتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دونوں کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

دسمبر 2018 میں کنزیومر پرائس انڈیکس 8 سے اوپر رہا، رواں مالی سال میں اس کا تخمینہ 6.5 فیصد تا 7.5 فیصد تک لگایا گیا ہے۔مالی سال 2018-19 کی پہلی ششماہی میں مہنگائی 6.0 فیصد پر ہے جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے3.8 فیصد کے مقابلہ میں زیادہ ہے، جی ڈی پی کی نمو کم ہو کر تقریباً 4.0 فیصد پر رہے گی جو سالانہ ہدف 6.2 فیصد اور گزشتہ برس ہونے والی 5.8 فیصد نمو کے مقابلے میں کم ہے۔ مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں 25 بیسز پوائنٹ کا اضافہ کرکے اسے 10اعشاریہ 25فیصد مقررکیا جارہا ہے ۔ نئی شرح سود یکم فروری سے لاگو ہوگی ، معاشی استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات بتدریج ظاہر ہو رہے ہیں۔

معاشی بے یقینی میں کمی کے باعث اعتماد بڑھا ہے ۔جولائی تا نومبر بڑے صنعتی یونٹس میں 0.9 فی صد اضافہ ہوا، رپورٹ کے مطابق روپے کے اوور ویلیو ہونے سے بھی صنعتیں بند ہوتی ہیں، یہ اعتراف بھی کیا کہ ہم نے اپنی صنعت کو نقصان پہنچا رکھا تھا۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ جب آئی ایم ایف پروگرام میں جائیں گے تو دیکھیں گے، کچھ آئی ایم ایف کی مانیں گے کچھ اپنی منوائیں گے، موجودہ مالی سال برآمدات میں اضافے کا امکان ہے ۔

پچھلے بارہ مہینوں کے دوران معاشی استحکام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اہم ماہانہ اشاریے ملکی طلب میں کمی کی نمایاں علامات کے عکاس ہیں۔ نجی شعبے کے لیے قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس قرضے کا نتیجہ مستقبل میں ممکنہ مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔ معاشی استحکام کے اقدامات کے اثرات نان آئل درآمدات پر خاصے نمایاں ہیں جن میں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 4.4فیصد کمی آئی جب کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں اس کی درآمدات 19.1 فیصد بڑھی تھیں، برآمدات میں معمولی اضافے اور ترسیلاتِ زر میں معقول نمو سے جاری حسابات کے خسارے کو محدود رکھنے میں بھی مدد ملی۔ تاہم جاری حسابات کے خسارے کی فنانسنگ دشوار رہی۔


اسٹیٹ بینک کی رپورٹ نئے مالی سال کے سود و زیاں کا حساب ملے جلے اشاریوں کی عکاسی ہے ،تاہم اعداد و شمار کے تکنیکی تناظر سے قطع نظر جو عوام کی سمجھ سے بالاتر ہی رہیں گے حکومت مہنگائی اور غربت کے خاتمے کی جستجو میں ناکام رہی ہے، بے سمتی موجود ہے۔ یاد رہے مشیر تجارت رزاق داؤد پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عوام کو ریلیف دینے کا کوئی امکان نہیں، اسی طرح آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی افسانوی اور طلسماتی کہانی معمہ بنی ہوئی ہے اور حکومت متذبذب نظر آتی ہے کہ اس تھیلی سے باہر نکلے یا نہیں،اس مخمصہ سے اب نکلنے کی ضرورت ہے، حکومتی معاشی پالیسی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ کا بھی کوئی روڈ میپ نہیں دے سکی۔

معاشی ترقی کا پہیہ تیزی سے گھومنے کے بجائے کچھوے کی چال چل رہا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت تاحال ورثے میں ملی اقتصادی صورتحال پر نوحہ گری میں مصروف ہے اور حکومتی اقتصادی منصوبہ بندیوں میں سست روی یا مثبت پیش رفت کے خوشگوار نتائج کے بارے میں بھی متضاد بیانات اور وضاحتوں کے گرداب میں الجھی ہوئی ہے۔اس ذہنی کیفیت کا اظہار وفاقی کابینہ کے جمعرات کو رواں سال حج سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے حج پالیسی 2019 ء کی منظوری سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں حج اخراجات میں ایک لاکھ 56ہزار 975روپے اضافے سے عام شہری کے لیے حج نہ صرف مہنگا ہوگیا بلکہ پالیسی سے عازمین حج کو شدید ذہنی دھچکا لگا ہے۔

اور ہزاروں حجاج کرام روحانی صدمے سے دوچار ہوگئے ہیں، حکومت نے حج سبسڈی ختم کردی اور کہا ہے کہ قربانی کے لیے 19ہزار451روپے الگ ادا کرنا ہونگے، ہر حاجی کے پاس دو ہزار ریال ذاتی استعمال کے لیے لازمی ہونا چاہیئں جب کہ رواں سال ایک لاکھ 84ہزار210پاکستانی فریضہ حج ادا کرینگے۔ وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں حج پالیسی 2019کی منظوری دیدی گئی ہے، تاہم حج پالیسی کو ریویوکرتے ہوئے سہولتوں کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے تحت کوئٹہ سے پہلی بار اور فیصل آباد سے بھی فلائٹ آپریشن ہونگے۔ حج کے لیے دس ہزار سیٹیں سینئر شہریوں کے لیے مختص کی گئی ہیں ۔ بائیومیٹرک کی سہولت دور دراز علاقوں میں میسر ہوگی، 10ہزار بزرگ شہریوںکوحج کوٹہ دیا جائے گا، کم آمدن والے 500 افراد کے لیے حج کوٹہ رکھا گیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو گزارے ہوئے 6 ماہ میں جو عارضی اور جزوی معاشی اہداف حاصل کرنے اور عوام کو ٹریکل ڈاؤن ثمرات دینے کی جاں فزا نوید سنانی چاہیے تھی اس میں کوئی مثبت پیش قدمی نہیںہوئی، سارا زور میڈیا ٹرائل اور بیانات اور الزام تراشیوں میں صرف ہورہا ہے، اسد عمر کی رجائیت پسندی اور بحران سے نکلنے کے دعوے اپنی جگہ مگر ملکی مالیاتی اور اقتصادی صورتحال میں کسی ڈرامائی تبدیلی کا فقدان حکومت کے لیے مزید سبکی اور بے اعتباری کا باعث بن سکتا ہے۔ ادھر اوپن مارکیٹ میں ہر چیز کو پر لگ گئے ہیں، مہنگائی نے غریب آدمی سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔

کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، کاروباری اور تاجر طبقہ خود صورتحال سے پریشان اور میڈیا رپورٹیں عوام کی معاشی بے بسی کی غماز ہیں۔ وزراء تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ ملک میں کوئی مہنگائی نہیں حالانکہ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد اضافے کے احکامات معطل کردیے اورادویہ سازکمپنیوں کو اضافے پر عملدرآمد سے روک دیا ، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کو دواؤں کی قیمتوں میں کمی سے روکتے ہوئے فارما کمپنیوں کے خلاف اقدام سے روک دیا ہے۔ جمعرات کو پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران محکمہ صحت کو ہدایات جاری کیں اور انتباہ کیا کہ صوبائی حکومت کیا کررہی ہے ؟لوگ مررہے ہیں ۔ اگرحکومت یونہی چلتی رہی تو نظام ہینگ ہوجائے گا۔ حکمراں خدارا مسند انصاف پر مامور منصفین اور زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھیں، غربت، مہنگائی، بیروزگاری، مایوسی اور معاشرے میں قانون شکنی اور بہیمانہ جرائم کا سدباب کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں ورنہ عوام کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا تو کف افسوس ملنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔عوام کو ہر قیمت پر ریلیف ملنا چاہیے ۔ لالی پاپ معاشی اقدامات سے کام نہیں چلے گا۔
Load Next Story