دورہ پاکستان کی دعوت قبول ہے مگر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں کرزئی کی شرط
دورے کا مقصد واضح ہو، دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اور امن مذاکرات اولین ترجیح ہوں تو افغان وفد اسلام آباد جائیگا
نوازشریف کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے دورہ کابل کے موقع پر افغان صدر کو وزیر اعظم کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی فوٹو: فائل
افغانی صدر حامد کرزئی نے دورہ پاکستان کے لیے شرائط عائد کردیں۔
کرزئی کا کہنا ہے کہ دورے کا مقصد واضح ہو اور دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اور امن مذاکرات اولین ترجیح ہوں تو افغان وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ افغان صدر نے اصولی طور پر دورے کی دعوت قبول کرلی ہے ۔ پیر کو کابل میں افغانستان صدارتی آفس سے جاری ایک بیان میں کہاگیا کہ پاکستان کی جانب سے رمضان صدر حامد کرزئی کو دی گئی دورہ پاکستان کی دعوت افغان صدر نے اصولی طور پر قبول کرلی۔صدارتی آفس نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سنجیدہ کوشش اور امن عمل ایجنڈے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تب ہی افغانی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا ۔
یاد رہے کہ 21جولائی کو مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغانستان کے دورے کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی کو وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کا پیغام پہنچانے کے بعد دورہ پاکستان کی باضابطہ دعوت دی تھی ۔
کرزئی کا کہنا ہے کہ دورے کا مقصد واضح ہو اور دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اور امن مذاکرات اولین ترجیح ہوں تو افغان وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ افغان صدر نے اصولی طور پر دورے کی دعوت قبول کرلی ہے ۔ پیر کو کابل میں افغانستان صدارتی آفس سے جاری ایک بیان میں کہاگیا کہ پاکستان کی جانب سے رمضان صدر حامد کرزئی کو دی گئی دورہ پاکستان کی دعوت افغان صدر نے اصولی طور پر قبول کرلی۔صدارتی آفس نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سنجیدہ کوشش اور امن عمل ایجنڈے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تب ہی افغانی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا ۔
یاد رہے کہ 21جولائی کو مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغانستان کے دورے کے موقع پر افغان صدر حامد کرزئی کو وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کا پیغام پہنچانے کے بعد دورہ پاکستان کی باضابطہ دعوت دی تھی ۔