ہر فارمیٹ کیلیے الگ ٹیم ہونی چاہیے سلمان بٹ
ٹیسٹ اسکواڈ میں فرسٹ کلاس کرکٹ کے پرفارمرز کو موقع ملنا چاہیے، سابق کپتان
ٹیسٹ اسکواڈ میں فرسٹ کلاس کرکٹ کے پرفارمرز کو موقع ملنا چاہیے، سابق کپتان فوٹو: فائل
سابق قومی کپتان سلمان بٹ نے ٹیسٹ، ون ڈے اورٹوئنٹی20 کی الگ الگ ٹیمیں بنانے کی تجویزدے دی۔
سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں اب تجربوں کی ضرورت ہے، ہمارے بہت سے لڑکے ایسے ہیں جو ٹوئنٹی20 اورایک روزہ کرکٹ کے ذریعے ٹیسٹ ٹیم میںآجاتے ہیں،ہم شاید واحد قوم ہیں جس میں ایک کھلاڑی صرف پاکستان سپر لیگ میں تھوڑی سی پرفارمنس پر دونوں فارمیٹس کی کرکٹ بھی کھیل جاتا ہے، یہ ڈومیسٹک کرکٹ میں غیرمعمولی پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے پلیئرزکے ساتھ زیادتی ہے، جب تک فرسٹ کلاس کے ٹاپ پرفارمر اوربیسٹ پلیئرزکوطویل طرز کے فارمیٹ کی کرکٹ نہیں کھلائیں گے، یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔
وہ ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے۔ 33 ٹیسٹ، 78 ایک روزہ اور 24 ٹوئنٹی20 میچوں میں پاکستان ٹیم کی نمائندگی کرنے والے 34 سالہ سابق کپتان کا کہنا ہے کہ ہم صرف جنوبی افریقہ سے ہی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارے بلکہ نیوزی لینڈ سے بھی اپنے ہوم گرائونڈ میں شکست سے دو چار ہوئے، سری لنکا نے بھی ہمیں زیرکیا، درمیان میں صرف آسٹریلیا سے ضرور جیتے، وہ بھی اس لیے کہ آسٹریلوی ٹیم کا اس وقت بہت برا حال ہے، سمجھتا ہوں کہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں اب تجربوں کی ضرورت ہے،ہمارے بہت سے پلیئرز ایسے ہیں جو ٹوئنٹی20 اورایک روزہ کھیل کر ٹیسٹ ٹیم میں آجاتے ہیں، جب تک فرسٹ کلاس کے ٹاپ پرفارمراور بیسٹ پلیئرزکوٹیسٹ کرکٹ نہیں کھلائیں گے، کرکٹ ٹیم میں اس طرح کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سلمان بٹ نے تینوں طرزکی الگ، الگ ٹیمیں تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اسپشلائزڈ جاب ہے،ساری دنیا کی ٹیموں میں ایسا ہی ہے۔
بھارت اس وقت دنیا کی نمبرون ٹیسٹ ٹیم ہے،ٹوئنٹی 20کے علاوہ وہ ہرطرزکی کرکٹ میں بہت عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ بھی کررہی ہے، اسی طرح انگلینڈ اورجنوبی افریقہ کو بھی دیکھ لیں، جب ساری دنیا یہی پریکٹس کررہی ہے تو پاکستان کو بھی اس طرف دیکھنا چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم شاید واحد قوم ہیں جس میں ایک کھلاڑی صرف پاکستان سپر لیگ میں تھوڑی سی پرفارمنس پردونوں فارمیٹس کی کرکٹ بھی کھیل جاتا ہے، یہ ڈومیسٹک پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے پلیئرز کے ساتھ زیادتی ہے۔قومی ٹیسٹ پلیئر نے کہا کہ میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی شاندار کارکردگی دکھا سکتا ہوں، لیکن ابھی تو صرف یہ دیکھ رہا ہوں کہ جتنا مرضی پرفارم کر لو،چانس نہیں مل رہا، یہ میرے ہی لیے نہیں بلکہ میری طرح کے اور بھی نظر انداز ہونے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے بھی تکلیف دہ بات ہے۔
سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں اب تجربوں کی ضرورت ہے، ہمارے بہت سے لڑکے ایسے ہیں جو ٹوئنٹی20 اورایک روزہ کرکٹ کے ذریعے ٹیسٹ ٹیم میںآجاتے ہیں،ہم شاید واحد قوم ہیں جس میں ایک کھلاڑی صرف پاکستان سپر لیگ میں تھوڑی سی پرفارمنس پر دونوں فارمیٹس کی کرکٹ بھی کھیل جاتا ہے، یہ ڈومیسٹک کرکٹ میں غیرمعمولی پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے پلیئرزکے ساتھ زیادتی ہے، جب تک فرسٹ کلاس کے ٹاپ پرفارمر اوربیسٹ پلیئرزکوطویل طرز کے فارمیٹ کی کرکٹ نہیں کھلائیں گے، یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔
وہ ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے۔ 33 ٹیسٹ، 78 ایک روزہ اور 24 ٹوئنٹی20 میچوں میں پاکستان ٹیم کی نمائندگی کرنے والے 34 سالہ سابق کپتان کا کہنا ہے کہ ہم صرف جنوبی افریقہ سے ہی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارے بلکہ نیوزی لینڈ سے بھی اپنے ہوم گرائونڈ میں شکست سے دو چار ہوئے، سری لنکا نے بھی ہمیں زیرکیا، درمیان میں صرف آسٹریلیا سے ضرور جیتے، وہ بھی اس لیے کہ آسٹریلوی ٹیم کا اس وقت بہت برا حال ہے، سمجھتا ہوں کہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں اب تجربوں کی ضرورت ہے،ہمارے بہت سے پلیئرز ایسے ہیں جو ٹوئنٹی20 اورایک روزہ کھیل کر ٹیسٹ ٹیم میں آجاتے ہیں، جب تک فرسٹ کلاس کے ٹاپ پرفارمراور بیسٹ پلیئرزکوٹیسٹ کرکٹ نہیں کھلائیں گے، کرکٹ ٹیم میں اس طرح کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سلمان بٹ نے تینوں طرزکی الگ، الگ ٹیمیں تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اسپشلائزڈ جاب ہے،ساری دنیا کی ٹیموں میں ایسا ہی ہے۔
بھارت اس وقت دنیا کی نمبرون ٹیسٹ ٹیم ہے،ٹوئنٹی 20کے علاوہ وہ ہرطرزکی کرکٹ میں بہت عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ بھی کررہی ہے، اسی طرح انگلینڈ اورجنوبی افریقہ کو بھی دیکھ لیں، جب ساری دنیا یہی پریکٹس کررہی ہے تو پاکستان کو بھی اس طرف دیکھنا چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم شاید واحد قوم ہیں جس میں ایک کھلاڑی صرف پاکستان سپر لیگ میں تھوڑی سی پرفارمنس پردونوں فارمیٹس کی کرکٹ بھی کھیل جاتا ہے، یہ ڈومیسٹک پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے پلیئرز کے ساتھ زیادتی ہے۔قومی ٹیسٹ پلیئر نے کہا کہ میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی شاندار کارکردگی دکھا سکتا ہوں، لیکن ابھی تو صرف یہ دیکھ رہا ہوں کہ جتنا مرضی پرفارم کر لو،چانس نہیں مل رہا، یہ میرے ہی لیے نہیں بلکہ میری طرح کے اور بھی نظر انداز ہونے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے بھی تکلیف دہ بات ہے۔