پاکستانی گول کیپرز جاپانی کوچ سے استفادہ کریں گے
7 فروری تک نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں 11 پلیئرز کے شوگر ڈگوچی کے ساتھ سیشنز
7 فروری تک نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں 11 پلیئرز کے شوگر ڈگوچی کے ساتھ سیشنز فوٹو: فائل
جاپانی کوچ شوگر ڈگوچی پاکستانی ہاکی گول کیپرز کی کوچنگ کریں گے کیمپ کا آغاز ہفتے سے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں شروع ہوگیا۔
اس میں 11 گول کیپرز شریک ہیں، منتخب کھلاڑیوں میں وقاص یونس، اویس رشید، منیب رحمان، فیضان ،حیدر، منیب جونیئر، اشرف حماد، زکی حسین ،رحمان اور نورعلی شامل ہیں۔ جاپانی گول کیپنگ کوچ شوگر ڈگوچی کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں، یہاں ان کا قیام 15 فروری تک ہوگا، وہ 2 سے 7 فروری تک لاہور میں پاکستانی 11 گول کیپرزکی کوچنگ کریں گے۔
وہ کچھ روز اسلام آباد میں بھی قیام کریں گے، جاپانی گول کیپنگ کوچ شوگر ڈگوچی نے کہا کے ان کے تربیت یافتہ کئی گول کیپر اب تک جاپان جونیئراور جاپان سینئر ہاکی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ شوگر ڈگوچی نے مذید کہا کہ میری جاپان میں ذاتی ہاکی اکیڈمی ہے، جہاں ہم بچوں کی کوچنگ 13 سال کی عمر سے شروع کرتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، صرف ان کو تسلسل کے ساتھ گراس روٹ لیول پر کام کرنے کی ضرورت ہے ،ہاکی اب ایک سائنس بن چکی ہے، ہر ٹیم کے خلاف کھیلنے سے قبل آپکو اس ٹیم کے منفی اور مثبت پوائنٹس کا جاننا بہت ضروری ہے، ماڈرن ہاکی میں اب پاکستان ہاکی کو سائینٹفک بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔
اس میں 11 گول کیپرز شریک ہیں، منتخب کھلاڑیوں میں وقاص یونس، اویس رشید، منیب رحمان، فیضان ،حیدر، منیب جونیئر، اشرف حماد، زکی حسین ،رحمان اور نورعلی شامل ہیں۔ جاپانی گول کیپنگ کوچ شوگر ڈگوچی کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں، یہاں ان کا قیام 15 فروری تک ہوگا، وہ 2 سے 7 فروری تک لاہور میں پاکستانی 11 گول کیپرزکی کوچنگ کریں گے۔
وہ کچھ روز اسلام آباد میں بھی قیام کریں گے، جاپانی گول کیپنگ کوچ شوگر ڈگوچی نے کہا کے ان کے تربیت یافتہ کئی گول کیپر اب تک جاپان جونیئراور جاپان سینئر ہاکی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ شوگر ڈگوچی نے مذید کہا کہ میری جاپان میں ذاتی ہاکی اکیڈمی ہے، جہاں ہم بچوں کی کوچنگ 13 سال کی عمر سے شروع کرتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، صرف ان کو تسلسل کے ساتھ گراس روٹ لیول پر کام کرنے کی ضرورت ہے ،ہاکی اب ایک سائنس بن چکی ہے، ہر ٹیم کے خلاف کھیلنے سے قبل آپکو اس ٹیم کے منفی اور مثبت پوائنٹس کا جاننا بہت ضروری ہے، ماڈرن ہاکی میں اب پاکستان ہاکی کو سائینٹفک بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔