شام کے بحران کا نیا رخ

شام میں جاری خانہ جنگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے‘ متحارب فورسز کی لڑائی میں عالم اسلام کی مقدس اور محترم...

شام میں برسرپیکار فریق مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنائیں،پاکستانی دفتر خارجہ۔ فوٹو: اے ایف پی

شام میں جاری خانہ جنگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے' متحارب فورسز کی لڑائی میں عالم اسلام کی مقدس اور محترم ہستیوں کے مزارات مقدسہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پہلے دمشق میں حضرت سیدہ بی بی زینبؓ کے مزار کو نشانہ بنایا گیا اور اگلے روز حضرت خالد بن ولیدؓ کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد کو شدید نقصان پہنچا۔ شام ایک عرب اور مسلم ملک ہے۔ وہاں جو خانہ جنگی ہو رہی ہے' اس میں ملوث گروہ بھی شامی اور مسلمان ہی ہیں' البتہ مسلک اور عقائد میں اختلافات موجود ہیں۔ ایسے اختلافات کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ سارے مسلم ممالک میں موجود ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شام میں جو لڑائی ہو رہی ہے' اس کے مقاصد اور اہداف سیاسی ہیں' اب اس لڑائی میں مقدس اور محترم ہستیوں کے مزارات کو نشانہ بنا کر اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔


اس قسم کے مظاہرے عراق میں بھی ہوتے رہے ہیں جو ایک خطر ناک رجحان ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس شرانگیزی کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ شام میں برسرپیکار فریق مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنائیں۔ شام کے بحران کا یہ نیا رخ امت مسلمہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی گہری سازش ہو سکتی ہے' ہم انھی سطور میں کہتے آرہے ہیں کہ شام میں قتل و غارت روکنے کے لیے عرب لیگ اور او آئی سی نے متحرک کردار ادا نہیں کیا۔ عالمی طاقتیں اس مسئلے میں دخیل ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں اور وہ انھیں سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات طے کرتی ہیں' مسلمانوں کے مقدس مقامات پر انھیں کوئی تشویش بھی نہیں ہے لہٰذا یہ مسئلہ خالصتاً عالم اسلام سے متعلق ہے اور مسلم ممالک خصوصاً ایران، عرب لیگ اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک کواس مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

شام میں جو فورسز لڑ رہی ہیں' ان کو کمان کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی لڑائی مذہب اور مسلک کی آڑ میں نہ لڑیں بلکہ سیاسی جنگ کو سیاسی طریقے سے لڑیں' مقدس مقامات پر حملے'انھیں بم سے اڑانا یا عبادت گاہوں میں خود کش حملے کرنا بے رحمی تو ہے ہی لیکن یہ پرلے درجے کی مکاری بھی ہے۔ شام کا بحران جس قدر گہرا ہوتا جائے گا' اس کے مضر اثرات پورے عالم اسلام پر مرتب ہوں گے' امریکا اور روس جیسی عالمی طاقتیں بھی اسی بحران کو بڑھانے کی ذمے دار ہیں' اس بحران میں شام کے عوام کا بری طرح نقصان ہو رہا ہے۔ مسلم امہ کا فرض ہے کہ وہ شام میں امن کے قیام کے لیے متحرک کردار ادا کرے۔
Load Next Story