محکمہ صحت کی 2 حصوں میں تقسیم ملازمین تذبذب کاشکار

محکمہ کے 2 سیکریٹریزکی تعیناتی کے بعددونوں کا عملہ بھی علیحدہ علیحدہ ہوگا۔

ملازمین نے اپنے تحفظات کااظہارکرتے ہوئے ایکسپریس کوبتایا کہ محکمہ کا انتظامی ڈھانچہ ازسرنومرتب کرنا پڑے گا۔ وٹو: فائل

صوبائی محکمہ صحت کی 2حصوں میں تقسیم کے بعد محکمہ کے ہزاروں ملازمین تذبذب کا شکار ہوگئے اوراس فیصلے کوسیاسی فیصلہ قراردے رہے ہیں۔

ملازمین نے اپنے تحفظات کااظہارکرتے ہوئے ایکسپریس کوبتایا کہ محکمہ کا انتظامی ڈھانچہ ازسرنومرتب کرنا پڑے گا جس میں وقت درکار ہوگا، محکمہ کے 2 سیکریٹریزکی تعیناتی کے بعددونوں کا عملہ بھی علیحدہ علیحدہ ہوگا لیکن ڈائریکٹرجنرل صحت ایک ہوگا یا نہیں اس کاکوئی ذکرنہیں کیا گیا،ایک انتظامی افسرکے مطابق دونوں سیکریٹری کے دفاتربھی علیحدہ علیحدہ ہوں گے فرنیچرز سے لیکرگاڑیاں بھی نئی منگوانی پڑیں گی ادھر محکمہ کودو حصوں میں تقسیم کے بعد حکومت سندھ کے اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوجائیگا۔




جبکہ محکمہ کے افسران میں بھی شدید بے چینی پھیل گئی اعلیٰ افسران اس بات پرغورکررہے ہیں کہ محکمہ کاکون ساونگ پرائمری یا سیکنڈری ان کے لیے مفید رہے گا ، محکمہ کو 2حصوں میں تقسیم کیے جانے کے نوٹیفکیشن کے بعد بعض افسران نے من پسند ونگ میں تعیناتیوں کیلیے اثرورسوخ استعمال کرنا شروع کردیا۔

دوسری جانب محکمہ کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے پر سندھ ڈاکٹرزایسوسی ایشن نے بھی شدیدتحفظات کا اظہارکرتے ہوئے اس فیصلے کو مسترد کردیا اورکہا کہ حکومت نے بعض افسران کو نوازنے کیلیے محکمہ کے 2 حصے کیے ہیں ، ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ میمن نے کہاکہ اس فیصلے سے عوام کوبھی مشکلات کا سامنا ہوگا، آج بدھ کوایسوسی ایشن کا غیر معمولی اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے، محکمے میں مجموعی طورپر17ہزار ملازمین کام کررہے ہیں۔
Load Next Story