مسئلہ کشمیرعالمی برادری کی توجہ کا منتظر
خواتین کی پاکستان واپسی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا نیا ایشو سامنے آیا ہے
خواتین کی پاکستان واپسی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا نیا ایشو سامنے آیا ہے۔ فوٹو: فائل
ستر برس بیتنے کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر آج بھی ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے جسے جنگ اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی دوطرفہ کوششیں بار آور نہیں ہو سکیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر اسے حل کرنے کی کبھی کوئی سنجیدہ کوششں نہیں کی گئی ورنہ آج حالات اتنے سنگین نہ ہوتے جس کا سامنا دونوں ممالک کر رہے ہیں۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے تو کشمیر پر جارحانہ اور ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ اپنائے رکھا اور اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہر پیشکش کو مسترد کر دیا۔ پاکستان نے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں کو ایک بار پھر مہمیز کیا ہے تاکہ اس کا کوئی پرامن حل نکل سکے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن روانہ ہو گئے' انھوں نے کہا کہ وہ کانفرنس میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقعے پر نہتے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم اور جبرو استبداد کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے' مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے' کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے'پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
جے یو آئی ف کے زیراہتمام ''قومی مشاورت برائے کشمیر'' کے عنوان سے ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں مختلف رہنماؤں نے اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم پر خاموش رہنے کے بجائے اپنا کردار ادا کرے اور بھارت کو ہر صورت مجبور کیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔ اس موقعے پر سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد بھلائی نہیں جاسکتی،کشمیر ہمارے ڈی این اے میں ہے، ہم کشمیر کو خود سے الگ نہیں کر سکتے،کشمیری بھائیوں کو کبھی نہیں چھوڑیں گے، اختلافات کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلے پر اکٹھی ہیں۔ کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بھرپور مذمت اور تحریک آزادی کو غیر انسانی ہتھکنڈوں سے کچلنے پر عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی پر انتہائی تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پر کشمیریوں نے احتجاج کرتے ہوئے وادی میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کر دی۔بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے شہریوں کو گھروں میں محصور کر کے غیرعلانیہ کرفیو نافذ کر رکھا ہے، گھر سے کسی ضرورت کے تحت باہر نکلنے والے نوجوانوں کو بنا کسی جرم کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔کشمیری عوام کے ممکنہ احتجاج سے خوفزدہ ہو کر سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہیں جس کے باعث وادی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی ہے۔
نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو آئینی طور پر ہندوستان کا حصہ بنانے اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ہر ہتھکنڈا آزمایا لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے' مودی کے دور ہی میں پہلی بار بھارتی فوج نے انسانی حقوق کے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے احتجاج کرنے والے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن سمیت ممنوعہ ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا' پیلٹ گن سے سیکڑوں کشمیری مرد اور خواتین متاثر ہوئے لیکن بھارت کسی بھی طور کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ کشمیریوں نے پوری دنیا پر ثابت کیا کہ ظلم و جبر کا کوئی بھی ہتھکنڈا انھیں ان کے مقصد سے نہیں ہٹا سکتا اور جتنا بھارتی ظلم و جبر میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا کشمیریوں کا جذبہ حریت اتنا ہی تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف شہروں اور قصبوں سے گزشتہ دس سال سے شادی کر کے مقبوضہ کشمیر گئی ہوئی خواتین کی پاکستان واپسی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا نیا ایشو سامنے آیا ہے۔
ان پاکستانی خواتین نے ہفتے کو سری نگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا' وادی میں محصور 300سے زائد ان خواتین کا کہنا تھا کہ وہ واپس اپنے وطن آنا چاہتی ہیں لیکن بھارتی حکومت انھیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دے رہی' ان خواتین نے ہندوستان اور مقبوضہ جموں کشمیر کی حکومتوں سے شہریت کے حقوق دینے یا پھر پاکستان واپس جانے کے لیے سفری دستاویزات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی اور میزائلی قوت بن چکے ہیں اور روز بروز اس صلاحیت میں بہتری آتی چلی جا رہی ہے' یہ طے شدہ امر ہے کہ جنگ کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوئی بھی کوشش انتہائی تباہ کن ثابت ہو گی لہٰذا اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنے کی کوششیں کی جائیں تو یہی دونوں ممالک کے حق میں بہتر ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن روانہ ہو گئے' انھوں نے کہا کہ وہ کانفرنس میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقعے پر نہتے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم اور جبرو استبداد کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے' مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف انتہائی واضح اور دو ٹوک ہے' کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے'پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
جے یو آئی ف کے زیراہتمام ''قومی مشاورت برائے کشمیر'' کے عنوان سے ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں مختلف رہنماؤں نے اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم پر خاموش رہنے کے بجائے اپنا کردار ادا کرے اور بھارت کو ہر صورت مجبور کیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔ اس موقعے پر سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد بھلائی نہیں جاسکتی،کشمیر ہمارے ڈی این اے میں ہے، ہم کشمیر کو خود سے الگ نہیں کر سکتے،کشمیری بھائیوں کو کبھی نہیں چھوڑیں گے، اختلافات کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلے پر اکٹھی ہیں۔ کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بھرپور مذمت اور تحریک آزادی کو غیر انسانی ہتھکنڈوں سے کچلنے پر عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی پر انتہائی تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پر کشمیریوں نے احتجاج کرتے ہوئے وادی میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کر دی۔بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے شہریوں کو گھروں میں محصور کر کے غیرعلانیہ کرفیو نافذ کر رکھا ہے، گھر سے کسی ضرورت کے تحت باہر نکلنے والے نوجوانوں کو بنا کسی جرم کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔کشمیری عوام کے ممکنہ احتجاج سے خوفزدہ ہو کر سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہیں جس کے باعث وادی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی ہے۔
نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو آئینی طور پر ہندوستان کا حصہ بنانے اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ہر ہتھکنڈا آزمایا لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے' مودی کے دور ہی میں پہلی بار بھارتی فوج نے انسانی حقوق کے عالمی قوانین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے احتجاج کرنے والے کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن سمیت ممنوعہ ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا' پیلٹ گن سے سیکڑوں کشمیری مرد اور خواتین متاثر ہوئے لیکن بھارت کسی بھی طور کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ کشمیریوں نے پوری دنیا پر ثابت کیا کہ ظلم و جبر کا کوئی بھی ہتھکنڈا انھیں ان کے مقصد سے نہیں ہٹا سکتا اور جتنا بھارتی ظلم و جبر میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا کشمیریوں کا جذبہ حریت اتنا ہی تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف شہروں اور قصبوں سے گزشتہ دس سال سے شادی کر کے مقبوضہ کشمیر گئی ہوئی خواتین کی پاکستان واپسی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا نیا ایشو سامنے آیا ہے۔
ان پاکستانی خواتین نے ہفتے کو سری نگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا' وادی میں محصور 300سے زائد ان خواتین کا کہنا تھا کہ وہ واپس اپنے وطن آنا چاہتی ہیں لیکن بھارتی حکومت انھیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دے رہی' ان خواتین نے ہندوستان اور مقبوضہ جموں کشمیر کی حکومتوں سے شہریت کے حقوق دینے یا پھر پاکستان واپس جانے کے لیے سفری دستاویزات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی اور میزائلی قوت بن چکے ہیں اور روز بروز اس صلاحیت میں بہتری آتی چلی جا رہی ہے' یہ طے شدہ امر ہے کہ جنگ کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوئی بھی کوشش انتہائی تباہ کن ثابت ہو گی لہٰذا اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنے کی کوششیں کی جائیں تو یہی دونوں ممالک کے حق میں بہتر ہے۔