ضلع ملیر 38 گوٹھوں کی واٹر سپلائی اسکیم میں کرپشن کا انکشاف
فراہمی آب کے منصوبے کے 36 کروڑ روپے بلدیہ ملیر کو منتقل ہونے کے باوجود منصوبے کا 25 فیصد کام ہی مکمل کیا گیا
منصوبے کیلیے دیا گیا فنڈ کاغذات میں خرچ کر دیا گیا، ڈسٹرکٹ کونسل کراچی نے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میںرپورٹ بھی جمع کرائی
ضلع ملیر کی یونین کونسل گھگھر کے 38 گوٹھوں کی واٹر سپلائی اسکیم میں 36 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
36 کروڑ روپے سے مختلف گوٹھوں میں پانی سپلائی کے منصوبے کی پوری رقم بلدیہ ملیر کو منتقل ہونے کے باوجود منصوبے کا 25فیصد کام ہی مکمل کیا گیا جبکہ منصوبے کے لیے دیا گیا فنڈ کاغذات میں خرچ کردیا گیاڈسٹرکٹ کونسل کراچی کی طرف سے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں ایک رپورٹ جمع کرادی گئی، علاقہ مکینوں کی میگا کرپشن میں ملوث ڈی ایم سی ملیر کے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ، تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں چیف منسٹر سندھ کے اسپیشل فنڈ سے یونین کونسل گھگھر کے 38 پسماندہ گوٹھوں کی واٹر سپلائی اسکیم کیلیے 36 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور ہوئی تھی۔
یہ رقم ڈی ایم سی ملیر کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاچکی ہے تاہم 4 سال گزرنے کے بعد مذکورہ منصوبے کا صرف 25فیصد کام ہی مکمل کیا گیا ہے جبکہ منصوبے کے لیے فراہم کی گئی تمام رقم افسران نے مبینہ طور جعل سازی سے ہڑپ کرلی ہے اور اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لیے ملی بھگت کرکے محکمہ پبلک ہیلتھ نے من گھڑت رپورٹ جمع کرائی جس میں منصوبے کا تمام فنڈ اور اخرجات کی بوگس فہرست دی گئی ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران نے ملی بھگت کرکے بوگس رپورٹ جمع کرائی اور تمام فنڈ ہڑپ کرلیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پانی کے منصوبے کے حوالے سے رکن سندھ اسمبلی ساجد جوکھیو نے بلدیہ ملیر کے حکام کو متعدد خطوط لکھے تاہم افسران نے ان کے کسی بھی خط کا جواب دیا اور ناہی منصوبے کے اخراجات اور کام کے بارے میں رکن سندھ اسمبلی سمیت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو تفصیلات فراہم کیں ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی کے منصوبے میں کی جانے والی لوٹ مار کے باعث اسکیم میں شاملِ 75 فیصد ابادی پینے کے پانی سے محروم ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق پانی کے منصوبے میں کی جانے والی کرپشن پر علاقہ مکینوں نے کمشنر کراچی سمیت ارباب اختیار کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا ہے تاہم کسی کی جانب سے تاحال کرپشن کا نوٹس نہیں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق 36کروڑ روپے کے مذکورہ منصوبے کی نگرانی انجنیئر امداد علی سولنگی کررہا تھا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق جب ڈی ایم سی ملیر کے حکام اور سائٹ انجنیئر امداد علی سولنگی سے رابطہ کیا۔ تو ان کا کہنا ہے کہ اسکیم کے لئے رکھی گئی رقم خرچ ہو چکی ہے۔واضح رہے منصوبے میں شامل تمام علاقہ مکینوں کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ علاقہ مکینوں اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماوں نے چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری صاحب، چیف منسٹر سندھ، ڈی جی نیب سندھ، کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر، پارٹی کے تمام منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کروائی جائے۔ اس میگا کرپشن میں ملوث تمام زمیداران کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ کرپشن کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کیا جائے اور اس سے ساری معلومات حاصل کی جائے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یونین کونسل گھگھر اور چنڈپارو نے ضلع ملیر واٹر سپلائی اسکیم کی مد میں منظور ہونے والی رقم بلدیہ ملیر کے کرپٹ افسران کے پیٹ کی آگ بجھانے میں خرچ ہوگئی ہے۔ جعلی رپورٹ دکھاکر عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔
36 کروڑ روپے سے مختلف گوٹھوں میں پانی سپلائی کے منصوبے کی پوری رقم بلدیہ ملیر کو منتقل ہونے کے باوجود منصوبے کا 25فیصد کام ہی مکمل کیا گیا جبکہ منصوبے کے لیے دیا گیا فنڈ کاغذات میں خرچ کردیا گیاڈسٹرکٹ کونسل کراچی کی طرف سے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں ایک رپورٹ جمع کرادی گئی، علاقہ مکینوں کی میگا کرپشن میں ملوث ڈی ایم سی ملیر کے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ، تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں چیف منسٹر سندھ کے اسپیشل فنڈ سے یونین کونسل گھگھر کے 38 پسماندہ گوٹھوں کی واٹر سپلائی اسکیم کیلیے 36 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور ہوئی تھی۔
یہ رقم ڈی ایم سی ملیر کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاچکی ہے تاہم 4 سال گزرنے کے بعد مذکورہ منصوبے کا صرف 25فیصد کام ہی مکمل کیا گیا ہے جبکہ منصوبے کے لیے فراہم کی گئی تمام رقم افسران نے مبینہ طور جعل سازی سے ہڑپ کرلی ہے اور اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لیے ملی بھگت کرکے محکمہ پبلک ہیلتھ نے من گھڑت رپورٹ جمع کرائی جس میں منصوبے کا تمام فنڈ اور اخرجات کی بوگس فہرست دی گئی ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران نے ملی بھگت کرکے بوگس رپورٹ جمع کرائی اور تمام فنڈ ہڑپ کرلیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پانی کے منصوبے کے حوالے سے رکن سندھ اسمبلی ساجد جوکھیو نے بلدیہ ملیر کے حکام کو متعدد خطوط لکھے تاہم افسران نے ان کے کسی بھی خط کا جواب دیا اور ناہی منصوبے کے اخراجات اور کام کے بارے میں رکن سندھ اسمبلی سمیت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو تفصیلات فراہم کیں ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی کے منصوبے میں کی جانے والی لوٹ مار کے باعث اسکیم میں شاملِ 75 فیصد ابادی پینے کے پانی سے محروم ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق پانی کے منصوبے میں کی جانے والی کرپشن پر علاقہ مکینوں نے کمشنر کراچی سمیت ارباب اختیار کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا ہے تاہم کسی کی جانب سے تاحال کرپشن کا نوٹس نہیں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق 36کروڑ روپے کے مذکورہ منصوبے کی نگرانی انجنیئر امداد علی سولنگی کررہا تھا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق جب ڈی ایم سی ملیر کے حکام اور سائٹ انجنیئر امداد علی سولنگی سے رابطہ کیا۔ تو ان کا کہنا ہے کہ اسکیم کے لئے رکھی گئی رقم خرچ ہو چکی ہے۔واضح رہے منصوبے میں شامل تمام علاقہ مکینوں کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ علاقہ مکینوں اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماوں نے چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری صاحب، چیف منسٹر سندھ، ڈی جی نیب سندھ، کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر، پارٹی کے تمام منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کروائی جائے۔ اس میگا کرپشن میں ملوث تمام زمیداران کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ کرپشن کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کیا جائے اور اس سے ساری معلومات حاصل کی جائے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یونین کونسل گھگھر اور چنڈپارو نے ضلع ملیر واٹر سپلائی اسکیم کی مد میں منظور ہونے والی رقم بلدیہ ملیر کے کرپٹ افسران کے پیٹ کی آگ بجھانے میں خرچ ہوگئی ہے۔ جعلی رپورٹ دکھاکر عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔