توانائی بحران حل ہونا چاہیے

بجلی نہیں ہو گی تو ملک میں سرمایہ کاری بھی نہیں ہو گی، وزیراعظم نواز شریف

بجلی نہیں ہو گی تو ملک میں سرمایہ کاری بھی نہیں ہو گی، وزیراعظم نواز شریف۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بجلی نہیں ہو گی تو ملک میں سرمایہ کاری بھی نہیں ہو گی ۔ دو سو چالیس ارب روپے کی بجلی چوری ہو جاتی ہے، کرپٹ ترین لوگوں کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بڑے عہدوں پر تعینات کیا گیا، بجلی اور گیس چوروں کو سزا ملے گی تو دوسرے عبرت پکڑیں گے۔ سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے ملاقات میں وزیر اعظم نے کہا ہم صرف موجودہ بجلی کا شارٹ فال ختم کرنے میں ہی نہیں لگے ہیں بلکہ آیندہ پچاس ساٹھ سال کے لیے بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دریں اثنا مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبوں کے تحفظات پر نئی توانائی پالیسی کی منظوری ایک ہفتے کے لیے موخر کر دی گئی۔ ن لیگ کی حکومت کے قیام کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کا پہلا اجلاس وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہوا۔

وزیر اعظم نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مہمانوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس سے خطاب میں توانائی پالیسی اور ملک میں بجلی اور گیس کے بحران سمیت دیگر امور پر حکومتی ترجیحات کی تفصیل بتاتے ہوئے جو انکشافات کیے ہیں وہ چشم کشا اور پوری قوم کو بجلی و گیس کی گمبھیر صورتحال سے آگاہی دلانے کا ایک جرات مندانہ اقدام ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک برسوں سے توانائی کے کس قدر سنگین بحران سے گزر رہا ہے جب کہ یہ بحران کسی دشمن خلائی مخلوق یا غیر ملکی دیومالائی ''ہاتھ'' کا بھی پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ اپنوں کا کیا دھرا ہے اور اس داستان غم کا سلسلہ بدقسمتی سے پوری پاور بیوروکریسی اور وزارت پانی و بجلی کے ازکار رفتہ میکانزم اور مایوس کن کارکردگی تک چلا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مسائل اتنے گمبھیر ہیں کہ سمجھتے سمجھتے یہ دن آ گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ واپڈا اور دیگر متعلقہ محکموں کی بد انتظامی اور نا اہلی موجودہ صورتحال کی ذمے دار ہے، یہ سسٹم کو قائم رکھنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اب اس سے آگے وہ اندوہ ناک حقائق ہیں جو وزیر اعظم میاں نواز شریف نے میڈیا اور مشترکہ کونسل کے زعما کے روبرو پیش کیے ہیں۔ پوری دنیا اکیسویں صدی کو سائنس اور ٹیکنالوجی کا شاندار دور کہتی ہے جس میں توانائی کے بغیر ترقی کا کوئی ملک تصور نہیں کر سکتا۔ صورتحال خاصی درد انگیز ہو چکی ہے، لوڈ شیڈنگ نے صنعتی، تجارتی اور کاروباری شعبوں سمیت زندگی کے جملہ معمولات کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ اب اس گرداب سے نکلنے کے لیے بھی تدبر کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تکمیل 45 ارب روپے کی لاگت میں ہونا تھی لیکن اب یہ پراجیکٹ 240 ارب روپے میں مکمل ہوگا۔

تھرکول منصوبے کی تکمیل تین اور پانچ سال کے دوران ممکن ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم کا استفسار بجا ہے کہ اگر بھارت تھرکول سے مستفید ہو رہا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ انھوں نے کہا کہ بھارت تھرکول میں کارخانے لگانے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ امید دلاتے ہیں کہ حکومت گیس کی کمی پر جلد قابو پالے گی۔ نئی انرجی پالیسی میں دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا ٹیرف نہیں بڑھایا جائے گا۔ عدم ادائیگی پر جن کا کنکشن کٹ جائے گا، انھیں پری پیڈ میٹر ملے گا جب کہ تھرکول منصوبے کو پورا ہونے میں وقت لگے گا اور ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اب بھی ایک آپشن ہے۔ ان اطلاعات سے لگ رہا ہے کہ قوم کو ماضی میں درست حقائق سے کتنا بے خبر رکھا گیا۔


ضرورت اس بات کی ہے صوبوں سے صرف کہا نہ جائے کہ وہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کریں بلکہ ایسا شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے کہ تمام صوبوں کی توانائی کی ضروریات ان کے بجلی کے حق پر استدلال، تحفظات اور موقف کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی مفاد میں پالیسیاں طے کی جائیں جن کی روشنی میں صوبے بھی توانائی کے حصول اور دیگر فنی و مالیاتی معاملات پر وفاق کے دوش بدوش چلتے رہیں۔ حکومت کو توانائی پالیسی میں توازن رکھنا ہو گا۔ مشترکہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے صوبوں کا کردار بہت اہم ہے، بجلی کے شعبے کو درپیش بڑے مسائل میں طلب و رسد میں فرق، استطاعت کے فقدان، غیر مستعدی اور بجلی کا ضیاع اور چوری شامل ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے نظام میں اہم تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ پاکستان فرنس آئل سے 45 فیصد بجلی پیدا کر رہا ہے جو بہت مہنگی ہے۔

25 سے 28فیصد ڈسٹری بیوشن نقصانات اور 140 ارب روپے سالانہ کی بجلی چوری بھی ''شارٹ فال'' کی بڑی وجہ ہیں۔ حکومت کثیر الجہتی حکمت عملی کے ذریعے آیندہ تین چار برسوں کے اندر لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ واپڈا اور دیگر متعلقہ محکموں کی بد انتظامی اور نا اہلی موجودہ صورتحال کی ذمے دار ہے، یہ سسٹم کو قائم رکھنے میں بری طرح ناکام رہے اور آج ہماری ڈسٹری بیوشن لائنز بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں، 1400میگاواٹ بجلی صرف نظام کی مناسب دیکھ بھال کر کے ایک سال کے اندر نظام میں لائی جا سکتی ہے۔ انھوں نے گڈانی انرجی کوریڈور کی تعمیر کا اعلان کیا جو توانائی کی پیداوار کے لیے سرمایہ کاروں کو خدمات فراہم کرے گا، اسے بجلی کی پیداوار کا محور ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم آفس میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے حقائق بتائے کہ گزشتہ حکومت کے دوران خیبر پختونخوا میں سیلابوں نے بجلی کی ترسیل کے حوالے سے بہت نقصان پہنچایا ، بجلی جنریشن کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن کے لیے نئی لائنیں بچھانا پڑیں گی یا موجودہ سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا۔ ساڑھے سات ہزار ٹرانسفارمر کے ٹینڈرز ہو چکے ہیں لیکن ان میں کئی جعلی ہیں اور کئی کم وزن ہیں اور ان میں ایک خصوصی ڈیوائس سب اسٹینڈرڈ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی سے معاملات خوشگوار نہیں ہیں، ہم انھیں 650 میگاواٹ بجلی دے رہے ہیں لیکن اس پر بھی ان کے ساتھ قانونی جنگ چل رہی ہے۔ ادھر وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بجلی کے مسئلے کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے ہمیں صرف بجلی پیدا نہیں کرنی اس کو شفاف انداز میں ڈسٹری بیوٹ بھی کرنا ہے۔

حقیقت میں وفاقی و صوبائی سطح کے سرکاری اداروں اور وزارتوں کے ذمے جو بھاری بقایا جات ہیں وہ تو اپنا ڈیفالٹ کسی طرح سے سرکاری سطح پر ہی ایڈجسٹ کرا دیں گے تاہم گھریلو صارفین کو ڈیفالٹ یا بجلی و گیس چوری میں جرمانوں اور سزائوں کے جو کڑے مراحل پیش آئیں گے ان میں کریک ڈائون یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے۔ صارفین کا نقطہ نظر سننا ضروری ہے۔ کئی علاقوں میں بل دینے کا کوئی رواج نہیں۔ کراچی سمیت جہاں بھی کنڈا سسٹم ہے اس کے خاتمہ کے لیے عوامی مہم چلائی جانی چاہیے، اضافی اور اوسط بلنگ کا ناسور ختم ہونا چاہیے۔ پری پیڈ میٹر بھی خوش دلی سے قبول ہوں تو اچھی بات ہو گی۔ بجلی چوری بلاشبہ جرم ہے مگر کنڈا سسٹم کے اسباب کا ازالہ کیا جائے۔ اوور بلنگ بھی صارفین سے زیادتی ہے۔ تاہم صنعتی، تجارتی اور کاروباری اداروں اور مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں میں بجلی اور گیس کی بلنگ کی صورت میں چوری کی حوصلہ شکنی ناگزیر ہے۔ توانائی بحران کا حل حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے ۔ اس کے حل سے ہی اقتصادی پہیہ چلے گا۔
Load Next Story