بلدیہ عظمیٰ کی لا پروائی اربوں روپے کی گاڑیاں اسکریپ میں تبدیل

ان ناکارہ گاڑیوں میں سے متعدد گاڑیوں کے نام پر پٹرول استعمال کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، زرائع

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان ناکارہ گاڑیوں میں سے متعدد گاڑیوں کے نام پر ماہانہ بنیادوں پر پٹرول کے نام پر فراڈ کیا جارہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کی غفلت، لاپروائی اور غیر سنجیدگی کے باعث ادارے کی اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں مختلف مقامات پر کھڑے کھڑے ناکارہ ہوگئی ہیں۔

ان گاڑیوں کے قیمتی پرزے چوری کرلیے گئے ہیں تاہم اس کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ نے اس حوالے سے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں، یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان ناکارہ گاڑیوں میں سے متعدد گاڑیوں کے نام پر ماہانہ بنیادوں پر پٹرول کے نام پر فراڈ کیا جارہا ہے مگر اس کے باوجود ذمے دار افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے،بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے صوبائی وزیربلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور ذمے دار افسران کے خلاف کارروائی کریں ۔

باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کی اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں میوہ شاہ قبرستان کے قریب ڈپو، سٹی وارڈن ہیڈکوارٹرز اور سوک سینٹر سمیت مختلف مقامات پر کھڑی کھڑی ناکارہ ہوکر اسکریپ میں تبدیل ہوچکی ہیں ،ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف تو یہ صورتحال ہے جبکہ دوسری طرف ادارے کی طرف سے تسلسل کے سا تھ نئی گاڑیاں خریدنے کی روایت جاری ہے ، گزشتہ مالیاتی سال میں جراثیم کش ادویات کے اسپرے کیلیے 36 گاڑیاں اور30 ایمبولینس خریدی گئیں ۔




تاہم ان میں سے ایک گاڑی کو بھی استعمال نہیں کیا گیا اور یہ گاڑیاں بھی اب کم و بیش ناکارہ ہوچکی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ سابق ناظم مصطفی کمال کے دور کے آخری دنوں میں9 کروڑ روپے سے9 جدید ترین ایمبولینسیں خریدی گئی تھیں تاہم یہ ایمبولینسیں استعمال ہوئے بغیر اسکریپ میں تبدیل ہوگئی ہیں،ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ گورنر سندھ کے فنڈز سے30 اور مصطفی کمال کی ہدایت پر16مشینی سوئپرز خریدی گئی تھیں جو کہ ماضی میں شہر میں نہ صرف سڑکوں کی صفائی کرتی تھیں بلکہ سڑکوں کی دھلائی بھی کرتی تھیں اب یہ مشینیں مکمل طور پر ناکارہ ہوچکی ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ ورکس اینڈ سروسز کے خریدے گئے 10ڈمپر اور 5 لوڈر پراسرار طور پر غائب ہیں۔



یہ ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ کو دیے گئے تھے جن کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا ہے یہ کہاں پر ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اس کے علاوہ150سے زائد ٹرک، لوڈر، نالے صاف کرنے کی مشینیں، ٹریکٹر سمیت دیگر گاڑیاں مختلف مقامات پر تباہ وبرباد ہوچکی ہیں تاہم بلدیہ عظمیٰ کے سفاک افسران کے کانوں کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ ان ناکارہ گاڑیوں میں سے متعدد گاڑیوں کے نام پر پٹرول استعمال کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب شہر میں صفائی ستھرائی اور کچرا اٹھانے کا عمل مکمل طور پر بند پڑا ہے اگر یہ گاڑیاں کارآمد ہوتیں تو یہ صورتحال نہیں ہوتی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائے خصوصاً ان ناکارہ گاڑیوں کے نام پر پٹرول اور ڈیزل کے استعمال کی چھان بین کی جائے تو اہم انکشافات ہوسکتے ہیں۔
Load Next Story