اگر الیکشن نہ ہوں تو
ماسوائےالیکشن کےجماعت اسلامی ہرکام بڑےسلیقےاورسبھاؤکےساتھ کرتی ہےلیکن الیکشن کوسامنےدیکھ کرنہ جانےاس کوکیاہوجاتاہے۔۔۔
Abdulqhasan@hotmail.com
ماسوائے الیکشن کے جماعت اسلامی ہر کام بڑے سلیقے اور سبھائو کے ساتھ کرتی ہے لیکن الیکشن کو سامنے دیکھ کر نہ جانے اس کو کیا ہو جاتا ہے کہ اپنے جیسے ایک غریب ملک کے عوام کو قابو نہیں کر سکتی جب کہ خود اس کے ہاں نہ کوئی جاگیردار ہے نہ کوئی سیٹھ ہے اور نہ کوئی کسی اونچے درجے کا بڑا اور خوشحال فرد ہے سب غریب یا متوسط طبقے سے ہیں مگر غریب ان کو اپنی غربت کا مداوا نہیں سمجھتے، وہی بات ہے جو ملک معراج خالد کے ایک مخالف امیدوار نے اپنے ووٹروں سے کہی تھی کہ جس نے خود زندگی بھر کچھ نہیں بنایا وہ آپ لوگوں کو کیا دے گا چنانچہ ملک صاحب یہ الیکشن ہار گئے۔
اسی طرح جماعت اسلامی والوں نے بھی اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں بنایا ممکن ہے اس کے ووٹروں کا بھی یہی خیال ہو کہ جو لوگ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکے وہ ہمارے لیے کیا کریں گے بہر حال جماعت الیکشن کو چھوڑ کر سیاست کا ہر کام نہایت شائستگی اور ڈسپلن میں رہ کر کرتی ہے خود سیاست میں اس جماعت نے مقصدیت متانت اور شائستگی پیدا کی ہے، مجھے یہ سب باتیں ایک ایسی سیاسی افطاری میں شرکت کی وجہ سے یاد آ رہی ہیں جو وقت مقررہ پر احترام رمضان کو سامنے رکھ کر کی گئی اور جماعت کے کارکن وقت سے پہلے افطاری پر نہیں ٹوٹ پڑے، انھوں نے صبر کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ ورنہ ان دنوں ہر افطاری کی خبر کسی افراتفری کی خبر ہوتی ہے کہ روزہ دار بھوک پیاس سے بے تاب ہو کر وقت سے پہلے افطاری پر پل پڑے اور سب کچھ چٹ کر گئے اور بہت سارا نیچے گرا کر ضایع بھی کر دیا لیکن خبر بنا دی کہ عام افطاری کوئی خبر نہیں ہوا کرتی۔
لیاقت بلوچ صاحب کی یہ افطاری بڑی ہی پر تکلف تھی اور اس سے قبل ان کی مہمانوں سے استقبالی تقریر اس کھانے سے زیادہ پر لطف تھی۔ انھوں نے جن سیاسی مسئلوں کا ذکر کیا وہ تو بیان ہوتے ہی رہتے ہیں مثلاً آیندہ صدر اگر بلوچستان سے ہو تو اس صوبے کا مسئلہ بھی ختم ہو سکتا ہے لیکن کوئی مسئلہ ختم ہونا اصل مسئلہ نہیں دوسرے مسائل اور معاملات اہم ہیں۔ لیاقت صاحب نے لاہور میں بارشی سیلاب کا سیاسی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ بعض نوخیز حکمران اس پانی میں کپڑوں جوتوں سمیت اتر گئے جب کہ خود پانی کی یہ عدم نکاسی پنجاب میں ان کے طویل اقتدار کی ناکامی کی ایک مثال ہے انھیں تو اس برساتی پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ اب جماعت کے اس نوجوان سفید ریش لیڈر کو کون بتائے کہ وہ اپنا نیا اقتدار جو ابھی ابھی شروع ہوا ہے کیا برساتی پانی میں ڈوب کر ضایع کر دیں ابھی تو پہلا میک اپ بھی نہیں اترا، ڈوبنے کے لیے ابھی کئی برساتیں پڑی ہیں۔
جماعت والوں کی یہی دقیانوسی ذہنیت ہے جو انھیں الیکشن میں تنگ کرتی ہے، لیاقت صاحب یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے لیکن بعض لوگوں کے ذہن میں جب کوئی نکتہ کلبلاتا ہے تو وہ قابو میں نہیں رہتے۔ جماعتیوں نے پاکستان کی سیاست میں جس نئے طور و اطوار کو متعارف کرایا ہے وہ افسوس کہ اپنی پرانی آن بان کے ساتھ قائم نہیں رہے لیکن انھوں نے سیاست میں شرافت کو رواج دینے میں بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ جماعت کے لاتعداد پبلک جلسوں میں شرکت کر چکا ہوں اور ان کی رپورٹنگ کی ہے۔ یہ تمام جلسے وقت مقررہ پر شروع ہوئے اور کارکنوں نے جلسوں میں امن برقرار رکھا۔
لاہور کے موچی دروازے کے ان بڑے جلسوں کے مقرر مولانا مودودی ہوتے تھے ان کی تقریر وقت مقررہ پر شروع ہوا کرتی تھی اس میں ایک منٹ کی تاخیر بھی روا نہیں رکھی جاتی تھی مولانا نے تقریر کا نیا انداز بھی متعارف کرایا۔ کسی ڈرامہ بازی کا تصوربھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آج سوچتا ہوں تو یہ پورے عالم اسلام کے کسی مقرر کی تقریر ہوا کرتی تھی جو اس دنیا میں اقتدار نہیں اپنے نظریات کو نافذکرنا چاہتا تھا۔ ہم آج اخوان المسلمون کی صورت میں اس جدوجہد کو زندہ دیکھ رہے ہیں۔ یہ آفتاب اب بھی چمکتا ہے اور اس کی دھوپ سے مسلمان نئی حرارت پا رہے ہیں۔ یہ کسی آفتاب کے ساتھ چلی جانے والی دھوپ نہیں ہے۔ اس ابدی دھوپ کی کوئی بھولی سی کرن بھی نہ جانے کہاں کہاں چمک رہی ہے۔
ہم ایک بہت بڑی نظریاتی کشمکش سے گزر رہے ہیں کمیونزم کی عمارت نہ جانے کتنے لاکھوں انسانوں کی لاشوں پر رکھی گئی اور اب ہم امریکی مسلم دشمن نظریاتی جنگ کو اپنے سامنے برپا دیکھ رہے ہیں جو افغانستان عراق کے انسانوں کی زندگیوں سے کھیل کر جاری ہے۔ اس سے قبل اشتراکیت کے مرکز کا نام و نشان مٹ گیا اور وہ انسانیت کے لیے ایک بھیانک یاد بن کر رہ گیا اب امریکا اسی راہ پر چل رہا ہے۔ مودودی نے کمیونزم کے عروج کے زمانے میں کہا تھا کہ وہ وقت دور نہیںجب کمیونزم ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں اوندھے منہ پڑا ہو گا۔ دنیا نے اس سیاسی پیش گوئی کو دیکھ لیا دوسری پیش گوئی کہ سرمایہ داری نظام نیو یارک کی عمارتوں سے ٹکرا ٹکرا کر لہولہان ہو گا۔ معلوم نہیں آج کی نسل اس عبرت ناک منظر کو دیکھ سکے گی یا نہیں لیکن بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے۔ بہر حال انسانوں کے بنائے ہوئے یہ نظام اپنی عبرت انگیز ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں ادھر پاکستان میں خلاف توقع بعض پر امن افطاریاں بھی جاری ہیں اور سڑکوں پر کھڑے دریائوں سے جنگ بھی جاری ہے جو خوبصورت اور حقیقی کپڑوں کو گندا کر رہی ہے۔
اسی طرح جماعت اسلامی والوں نے بھی اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں بنایا ممکن ہے اس کے ووٹروں کا بھی یہی خیال ہو کہ جو لوگ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکے وہ ہمارے لیے کیا کریں گے بہر حال جماعت الیکشن کو چھوڑ کر سیاست کا ہر کام نہایت شائستگی اور ڈسپلن میں رہ کر کرتی ہے خود سیاست میں اس جماعت نے مقصدیت متانت اور شائستگی پیدا کی ہے، مجھے یہ سب باتیں ایک ایسی سیاسی افطاری میں شرکت کی وجہ سے یاد آ رہی ہیں جو وقت مقررہ پر احترام رمضان کو سامنے رکھ کر کی گئی اور جماعت کے کارکن وقت سے پہلے افطاری پر نہیں ٹوٹ پڑے، انھوں نے صبر کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ ورنہ ان دنوں ہر افطاری کی خبر کسی افراتفری کی خبر ہوتی ہے کہ روزہ دار بھوک پیاس سے بے تاب ہو کر وقت سے پہلے افطاری پر پل پڑے اور سب کچھ چٹ کر گئے اور بہت سارا نیچے گرا کر ضایع بھی کر دیا لیکن خبر بنا دی کہ عام افطاری کوئی خبر نہیں ہوا کرتی۔
لیاقت بلوچ صاحب کی یہ افطاری بڑی ہی پر تکلف تھی اور اس سے قبل ان کی مہمانوں سے استقبالی تقریر اس کھانے سے زیادہ پر لطف تھی۔ انھوں نے جن سیاسی مسئلوں کا ذکر کیا وہ تو بیان ہوتے ہی رہتے ہیں مثلاً آیندہ صدر اگر بلوچستان سے ہو تو اس صوبے کا مسئلہ بھی ختم ہو سکتا ہے لیکن کوئی مسئلہ ختم ہونا اصل مسئلہ نہیں دوسرے مسائل اور معاملات اہم ہیں۔ لیاقت صاحب نے لاہور میں بارشی سیلاب کا سیاسی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ بعض نوخیز حکمران اس پانی میں کپڑوں جوتوں سمیت اتر گئے جب کہ خود پانی کی یہ عدم نکاسی پنجاب میں ان کے طویل اقتدار کی ناکامی کی ایک مثال ہے انھیں تو اس برساتی پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ اب جماعت کے اس نوجوان سفید ریش لیڈر کو کون بتائے کہ وہ اپنا نیا اقتدار جو ابھی ابھی شروع ہوا ہے کیا برساتی پانی میں ڈوب کر ضایع کر دیں ابھی تو پہلا میک اپ بھی نہیں اترا، ڈوبنے کے لیے ابھی کئی برساتیں پڑی ہیں۔
جماعت والوں کی یہی دقیانوسی ذہنیت ہے جو انھیں الیکشن میں تنگ کرتی ہے، لیاقت صاحب یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے لیکن بعض لوگوں کے ذہن میں جب کوئی نکتہ کلبلاتا ہے تو وہ قابو میں نہیں رہتے۔ جماعتیوں نے پاکستان کی سیاست میں جس نئے طور و اطوار کو متعارف کرایا ہے وہ افسوس کہ اپنی پرانی آن بان کے ساتھ قائم نہیں رہے لیکن انھوں نے سیاست میں شرافت کو رواج دینے میں بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ جماعت کے لاتعداد پبلک جلسوں میں شرکت کر چکا ہوں اور ان کی رپورٹنگ کی ہے۔ یہ تمام جلسے وقت مقررہ پر شروع ہوئے اور کارکنوں نے جلسوں میں امن برقرار رکھا۔
لاہور کے موچی دروازے کے ان بڑے جلسوں کے مقرر مولانا مودودی ہوتے تھے ان کی تقریر وقت مقررہ پر شروع ہوا کرتی تھی اس میں ایک منٹ کی تاخیر بھی روا نہیں رکھی جاتی تھی مولانا نے تقریر کا نیا انداز بھی متعارف کرایا۔ کسی ڈرامہ بازی کا تصوربھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ آج سوچتا ہوں تو یہ پورے عالم اسلام کے کسی مقرر کی تقریر ہوا کرتی تھی جو اس دنیا میں اقتدار نہیں اپنے نظریات کو نافذکرنا چاہتا تھا۔ ہم آج اخوان المسلمون کی صورت میں اس جدوجہد کو زندہ دیکھ رہے ہیں۔ یہ آفتاب اب بھی چمکتا ہے اور اس کی دھوپ سے مسلمان نئی حرارت پا رہے ہیں۔ یہ کسی آفتاب کے ساتھ چلی جانے والی دھوپ نہیں ہے۔ اس ابدی دھوپ کی کوئی بھولی سی کرن بھی نہ جانے کہاں کہاں چمک رہی ہے۔
ہم ایک بہت بڑی نظریاتی کشمکش سے گزر رہے ہیں کمیونزم کی عمارت نہ جانے کتنے لاکھوں انسانوں کی لاشوں پر رکھی گئی اور اب ہم امریکی مسلم دشمن نظریاتی جنگ کو اپنے سامنے برپا دیکھ رہے ہیں جو افغانستان عراق کے انسانوں کی زندگیوں سے کھیل کر جاری ہے۔ اس سے قبل اشتراکیت کے مرکز کا نام و نشان مٹ گیا اور وہ انسانیت کے لیے ایک بھیانک یاد بن کر رہ گیا اب امریکا اسی راہ پر چل رہا ہے۔ مودودی نے کمیونزم کے عروج کے زمانے میں کہا تھا کہ وہ وقت دور نہیںجب کمیونزم ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں اوندھے منہ پڑا ہو گا۔ دنیا نے اس سیاسی پیش گوئی کو دیکھ لیا دوسری پیش گوئی کہ سرمایہ داری نظام نیو یارک کی عمارتوں سے ٹکرا ٹکرا کر لہولہان ہو گا۔ معلوم نہیں آج کی نسل اس عبرت ناک منظر کو دیکھ سکے گی یا نہیں لیکن بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے۔ بہر حال انسانوں کے بنائے ہوئے یہ نظام اپنی عبرت انگیز ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں ادھر پاکستان میں خلاف توقع بعض پر امن افطاریاں بھی جاری ہیں اور سڑکوں پر کھڑے دریائوں سے جنگ بھی جاری ہے جو خوبصورت اور حقیقی کپڑوں کو گندا کر رہی ہے۔