محکمہ پولیس ترقیاں پی ایس پی اور رینکر افسروں میں سرد جنگ شروع

پولیس افسران ایک دوسرے کی کار کردگی کو ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔

محکمہ پولیس میں گزشتہ کئی سال سے جاری پی ایس پی اور رینکر افسران کی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے۔ فوٹو: فائل

SHEFFIELD:
محکمہ پولیس میں پی ایس پی (پولیس سروس پاکستان) اور رینکر افسران میں سرد جنگ شدت اختیار کررہی ہے۔

پولیس افسران ایک دوسرے کی کار کردگی کو ڈرامہ قرار دیتے ہیں، موجودہ ڈی ایس پی راؤ انوار کو ایس پی کے عہدے پر ترقی دینے کے لیے 42 ڈی ایس پیز کو ایس پی کے عہدے پر ترقیاں دینی پڑیں گی، محکمہ پولیس میں گزشتہ کئی سال سے جاری پی ایس پی اور رینکر افسران کی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے، عدالت میں رینکر افسران کے خلاف پی ایس پی افسران کی جانب سے دائر پٹیشن کا فیصلہ آنے کے بعد پی ایس پی افسران میں پھیلی خوشی پر اس وقت پانی پھر گیا۔

جب سندھ حکومت نے چند رینکر افسران کے لیے عدالت سے ایک ماہ کی اجازت مانگ لی اور عدالت سے انھیں اجازت مل گئی،ایک پی ایس پی افسر نے بتایا کہ اگر1982 میں اے ایس آئی بھرتی ہونیوالے موجودہ ڈی ایس پی راؤ انوار کو ترقی دی گئی تو 42 ڈی ایس پیز کو بھی ایس پی کے عہدے پر حکومت کو ترقی دینا پڑے گی۔




ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نیاز کھوسو1976 میں محکمہ پولیس میں بھرتی ہوئے تھے، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ میں ایس ایس پی فاروق اعوان 1982 میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے، ڈی ایس پی راؤ انوار کو اگر ڈپارٹمنٹل پروموشن دی گئی تو ان دونوں افسران کو بھی ترقیاں مل جائیں گی جبکہ سی آئی ڈی کے چوہدری محمد اسلم خان 1984، سی آئی ڈی کے راجہ عمر خطاب اور فیاض خان 1990 میں محکمہ پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔ ان افسران کو ڈپارٹمنٹل ترقیاں دینا مشکل ہو جائیں گی اور اگر ان افسران کو بھی ترقیاں دینے کے بارے میں سوچا گیا تو ان سے پہلے کم از کم 520 افسران کو ایس پی بنانا پڑے گا۔

واضح رہے مبینہ طور پر رشوت لے کر غیر قانونی ترقیاں دینے میں مہارت رکھنے والے سی پی او کے آفس سپرٹنڈنٹ قائم سومرو اور ان کے ماتحت کلرک کا چند روز قبل سکھر تبادلہ کر دیا گیا تاہم آفس سپرٹنڈنٹ سے مبینہ طور پر اور غیر قانونی طریقے سے افسران کو ترقیاں دینے پر کمائی جانے والی رقم کے بارے میں کسی قسم کی باز پرس نہیں کی گئی ہے۔
Load Next Story