ڈائریکٹر پے رول کے ایم سی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری جواب طلب

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں منیجر(اسٹیٹ)کے عہدے پر کی گئی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا.

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں منیجر (اسٹیٹ) کے عہدے پر کی گئی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے پرائمری اسکول ٹیچرز کی تنخواہیں ادانہ کرنے پر ڈائریکٹرپے رول کے ایم سی اصغر درانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاہے۔

ذوالفقار علی سمیت45درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں 2009اور اس کے بعد کے ایم سی میں ریگولرپرائمری اسکول ٹیچرز کی حیثیت سے تقرری دی گئی تھی، اپریل 2012میں ڈائریکٹراسکولزنے کمشنر کی منظوری سے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر87اساتذہ کی تنخواہیں روک دیں، بعد ازاں 46اساتذہ کے علاوہ دیگر کو تنخواہیں جاری کردی کردی گئیں، اس ضمن میں مذکورہ اساتذہ کو کسی قسم کا نوٹس جاری کیاگیا اور نہ ہی صفائی کاموقع فراہم کیا گیا، فاضل عدالت نے 2مئی کو ڈائریکٹر پے رول کے ایم سی اصغردرانی کو ہدایت کی تھی درخواست گزاروں کے دعویٰ سے متعلق جانچ پڑتال کرکے رپورٹ پیش کی جائے مگر مقررہ مدت گزرجانے کے باوجود رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔




درخواست گزار تاحال اپنی تنخواہوں سے محروم میں ڈائریکٹر پے رول اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں منیجر(اسٹیٹ)کے عہدہ پر سراج الدین کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے،جسٹس منیب اختر پر مشتمل سنگل بینچ نے سابق منیجر (اسٹیٹ)کے پی ٹی راشداکرام کی درخواست کی سماعت کی، درخواست میں وزارت جہاز رانی وبندرگاہ اور سیکریٹری کے پی ٹی کو فریق بناتے ہوئے منیجر (اسٹیٹ)کے عہدہ پرسراج الدین چانڈیو کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کے ایم سی (سابقہ شہری حکومت) میں گریڈ 19میں تعینات ہوئے تھے بعد ازاں 15 اکتوبر 2009 کو ڈپوٹیشن پر کے پی ٹی میں تبادلہ کردیاگیا، درخواست گزارکومنیجر (اسٹیٹ)کے عہدے پر تقرری ملی اور 27 مارچ 2010کو کے پی ٹی میں ضم کرلیا گیا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس دوران درخواست گزار کی کارکردگی بھی اچھی رہی مگر 19جولائی2013کوپورٹ قاسم کے ملازم سراج الدین چانڈیو کوکے پی ٹی میں منیجر (اسٹیٹ) تعینات کردیا گیا جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
Load Next Story