سندھ میں پولیس افسران کی بیگمات سپاہیوں سے بچوں کے ڈائپر تک تبدیل کرانے لگیں
ایس پی بدین حسن سردار نیازی کے بنگلے پر تعینات سپاہی پھٹ پڑا
ایس پی حسن سردار کی اہلیہ انتہائی ذلت آمیز رویہ اختیار کرتی ہیں، پولیس اہلکار فوٹو: فائل
سندھ پولیس افسران کی بیگمات سپاہیوں سے گھریلو کام کرانے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ڈائپر تک تبدیل کرانے لگیں۔
اعلیٰ پولیس افسران کے علاوہ ان کی بیگمات بنگلے پر تعینات سپاہیوں سے گھریلو کام کے ساتھ ساتھ بچوں کے ڈائپر تک تبدیل کرانے لگیں، ایس پی بدین حسن سردار کے بنگلے پر تعینات کانسٹیبل محمد یونس پھٹ پڑا ، محمد یونس نے ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ کے نام درخواست تحریر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے وہ سیکیورٹی زون میں تعینات تھا ، یہاں سے ایس پی حسن سردار کا تبادلہ بدین ہوگیا جس کے بعد اس کا بھی تبادلہ حسن سردار کے ساتھ ہی بطور اردلی کردیا گیا۔
محمد یونس کا کہنا ہے کہ بنگلے پر تعیناتی کے دوران ایس پی کی اہلیہ نے انتہائی درشت رویہ اپنایا ہوا ہے اور وہ دیگر گھریلو کام کاج کے علاوہ بچوں کے ڈائپر تک تبدیل کرواتی ہیں ، اس سلسلے میں جب صدائے احتجاج بلند کی تو بیگم صاحبہ نے کوارٹر گارڈ کروادیا جبکہ ایک مرتبہ پش اپ (ڈنڈ نکالنا) بھی کروایا جس کی ویڈیو بنا کر انھوں نے اپنے حلقہ احباب کو بھی بھیجی اور بتایا کہ جو ان کا حکم نہ مانے تو وہ اس کے ساتھ کیا کچھ کرسکتی ہیں۔
محمد یونس نے مزید بتایا کہ ایس پی کی اہلیہ انتہائی ذلت آمیز رویہ اختیار کرتی ہیں اور سپاہیوں کو ان کے اصل ناموں کے بجائے خودساختہ ناموں سے پکارتی ہیں ، محمد یونس کا کہنا ہے کہ ایسا ہی رویہ تقریباً تمام اہلکاروں کے ساتھ اپنایا ہوا ہے ، اس تمام تر صورتحال کے باعث میں شدید ذہنی کوفت و اذیت میں مبتلا ہوں ، محمد یونس نے آئی جی سندھ سید کلیم امام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال سے نجات دلائیں ۔
اس سلسلے میں موقف جاننے کے لیے ایس پی بدین حسن سردار نیازی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ سپاہی کئی روز سے بغیر پیشگی اطلاع کے غیر حاضر ہے اور اپنے خلاف کسی بھی کارروائی سے بچنے کے لیے ان پر الزامات عائد کررہا ہے ، یونس کے خلاف سیکیورٹی زون میں بھی مختلف الزامات کے تحت انکوائری چل رہی ہے ۔
اعلیٰ پولیس افسران کے علاوہ ان کی بیگمات بنگلے پر تعینات سپاہیوں سے گھریلو کام کے ساتھ ساتھ بچوں کے ڈائپر تک تبدیل کرانے لگیں، ایس پی بدین حسن سردار کے بنگلے پر تعینات کانسٹیبل محمد یونس پھٹ پڑا ، محمد یونس نے ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ کے نام درخواست تحریر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے وہ سیکیورٹی زون میں تعینات تھا ، یہاں سے ایس پی حسن سردار کا تبادلہ بدین ہوگیا جس کے بعد اس کا بھی تبادلہ حسن سردار کے ساتھ ہی بطور اردلی کردیا گیا۔
محمد یونس کا کہنا ہے کہ بنگلے پر تعیناتی کے دوران ایس پی کی اہلیہ نے انتہائی درشت رویہ اپنایا ہوا ہے اور وہ دیگر گھریلو کام کاج کے علاوہ بچوں کے ڈائپر تک تبدیل کرواتی ہیں ، اس سلسلے میں جب صدائے احتجاج بلند کی تو بیگم صاحبہ نے کوارٹر گارڈ کروادیا جبکہ ایک مرتبہ پش اپ (ڈنڈ نکالنا) بھی کروایا جس کی ویڈیو بنا کر انھوں نے اپنے حلقہ احباب کو بھی بھیجی اور بتایا کہ جو ان کا حکم نہ مانے تو وہ اس کے ساتھ کیا کچھ کرسکتی ہیں۔
محمد یونس نے مزید بتایا کہ ایس پی کی اہلیہ انتہائی ذلت آمیز رویہ اختیار کرتی ہیں اور سپاہیوں کو ان کے اصل ناموں کے بجائے خودساختہ ناموں سے پکارتی ہیں ، محمد یونس کا کہنا ہے کہ ایسا ہی رویہ تقریباً تمام اہلکاروں کے ساتھ اپنایا ہوا ہے ، اس تمام تر صورتحال کے باعث میں شدید ذہنی کوفت و اذیت میں مبتلا ہوں ، محمد یونس نے آئی جی سندھ سید کلیم امام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال سے نجات دلائیں ۔
اس سلسلے میں موقف جاننے کے لیے ایس پی بدین حسن سردار نیازی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ سپاہی کئی روز سے بغیر پیشگی اطلاع کے غیر حاضر ہے اور اپنے خلاف کسی بھی کارروائی سے بچنے کے لیے ان پر الزامات عائد کررہا ہے ، یونس کے خلاف سیکیورٹی زون میں بھی مختلف الزامات کے تحت انکوائری چل رہی ہے ۔