سرد جنگ دوبارہ شروع ہونے کے آثار

دونوں ملکوں کی اس وقت کی قیادت نے دانشمندی سے اس خطرے کو ٹال دیا

دونوں ملکوں کی اس وقت کی قیادت نے دانشمندی سے اس خطرے کو ٹال دیا ۔ فوٹو: فائل

امریکا اور روس کے درمیان سرد جنگ کا سب سے خطرناک اور ہلاکت خیز پہلو یہ تھا کہ دونوں ملک جوہری طاقت تھے اور اس سرد جنگ کے دوران اگر کوئی ایسا موڑ آ گیا جب ان طاقتوں کو اپنی ایٹمی طاقت کا استعمال کرنا پڑا تو یہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے لیکن اچھا ہی ہوا کہ ایسا موقع کبھی نہیں آیا ،یہ الگ بات ہے کہ بعض مواقع پر جوہری جنگ کا خطرہ ، جیسا کہ کیوبا میں ایٹمی میزائلوں کی تنصیب کے بحران کے موقع پر ، نمایاں ہوا لیکن دونوں ملکوں کی اس وقت کی قیادت نے دانشمندی سے اس خطرے کو ٹال دیا۔

سوویت یونین کے انہدام سے یہ خطرہ بڑی حد تک ٹل گیا لیکن اب دونوں عالمی طاقتوں میں ایک بار پھر ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے امریکا نے اعلان کیا کہ وہ درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں پر پابندی کے معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے جو 1987ء میں سوویت یونین کے ساتھ طے کیا گیا تھا کیونکہ ماسکو کی حکومت سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کا خدشہ ہے اور اگر واقعی ایسا ہی ہو گیا تو امریکا صرف چھ مہینے کی مدت میں اس معاہدے کو چھوڑ دے گا۔


جواب میں سوویت روس نے بھی اعلان کیا کہ اگر امریکا اس معاہدے سے دستبردار ہوتا ہے تو روس بھی معاہدے کو ترک کر دے گا۔ بین الاقوامی سیاست میں پھر سے جنگ سے اجتناب کی وہی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے جو چند عشرے پہلے امریکا استعمال کرتا تھا یعنی حالات کو کشیدگی کی اس سطح پر نہ پہنچایا جائے جب جنگ ناگزیر ہو جائے لیکن اب صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے اس خدشے نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے کہ کہیں سرد جنگ کا آغاز نہ ہوجائے۔

لہٰذا ایسی صورت حال میں لازم ہے کہ امریکا اور روس دونوں ممالک کے باشعور حلقے حالات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے آگے آنے میں تاخیر نہ کریں تاکہ دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقتیں کہیں پھر دنیا کو ایٹمی جنگ کے خطرے سے دوچار نہ کردیں۔ ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ایٹمی حملے کی دھمکیاں دینے کے بجائے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کریں۔
Load Next Story