کشمیر کی چشم کشا صورتحال

صدائیں بلند ہوئیں کہ مقبوضہ کشمیرانشاء اللہ جلد بنے گا پاکستان

صدائیں بلند ہوئیں کہ مقبوضہ کشمیرانشاء اللہ جلد بنے گا پاکستان۔ فوٹو : فائل

یوم یکجہتی کشمیر پر مقبوضہ جموں وکشمیر کا فلیش پوائنٹ خطے کی تاریخ میں پہلی بار پوری شدت سے عالمی منظر نامے کا حصہ بنا ہے، دنیا بھارتی ظلم وبربریت سے آگہی کے نئے پیراڈائم سے آشنا ہوئی ہے، سچ کا بول بالا ہورہا ہے اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں دنیا کے کونے کونے سے یکجہتی کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔کل جو ممالک بھارت سے قریبی تجارتی، سیاسی ، اسٹرٹیجک تعلقات اور فوجی معاہدوں کے باعث چپ کا روزہ رکھے ہوئے تھے، آج نئے حقائق کی روشنی میں ان کے ذرایع ابلاغ ، سیاسی جماعتیں اور سفارت کار کشمیر کے مسئلہ کے جلد حل کے لیے عالمی رائے عامہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ پاکستان سمیت کشیری عوام کی زبردست جیت اور سفارتی واخلاقی کامیابی ہے۔ ملکی ذرایع ابلاغ کے مطابق یوم کشمیر پر ملک کا چپہ چپہ فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا، صدائیں بلند ہوئیں کہ مقبوضہ کشمیرانشاء اللہ جلد بنے گا پاکستان۔

یوم یکجہتی کشمیر پر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ بھارت جتنی مرضی کوششیں کرلے کشمیریوں کی خواہش آزادی کودبایا نہیںجا سکتا۔ انھوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کو وہاں جانے کی اجازت اور لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی فراہم کرے۔ صدر مملکت نے نہتے کشمیری عوام پر پیلٹ گنز سمیت تمام قسم کے آتشیں اسلحے کا استعمال بندکرنے ، وہاں رائج جارحانہ اور کالے قوانین ختم کرنے پر بھی زوردیا۔انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی قیادت پر بیرون ملک سفری پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ کشمیری قیادت عالمی برادری کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کرسکے۔

صدر نے عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کے رابطے برقرار رکھنے پر بھی زوردیا تاکہ وہاں کے حالات کی صحیح اور غلط صورتحال کا پتہ چل سکے۔انھوں نے اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال جاننے کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا بھر کے آزادی پسندوں کو کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہیے۔

یوم یکجہتی کشمیر پر چاروں صوبائی اوروفاقی دارالحکومت سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں ہونے والے جلسے، جلوسوں اورتقریبات میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا جب کہ مقبوضہ وادی کے عوام کوحق خودارادیت دلانے کے لیے اخلاقی، سیاسی وسفارتی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پرعزم کشمیری اپنا حق لینے میں کامیاب ہوں گے،یوم یکجہتی کشمیر پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر1948ء سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل کا منتظر ہے، دہائیوں سے قابض بھارتی فوج تحریک آزادی کچلنے میں ناکام ہوگئی۔

وفاقی وزیر اْمورکشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں کی قربانیوں اور پاکستان سے کشمیریوں کی وابستگی کو سلام پیش کیا۔ مظفرآباد میں کوہالہ پل سمیت مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔اسلام آباد، راولپنڈی میں واک ہوئی جس میں کشمیری برادری، اقلیتوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد،سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کے نمایندوں نے شرکت کی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کشمیریوں پر مظالم کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے تحت کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا، راولپنڈی میں جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی جموں کشمیر، مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور جمعیت علماء اسلام نے ریلیاں نکالیں، گلگت میں شہید لالک جان اسٹیڈیم سے شہریوں نے ریلی نکالی، لاہور میں سیاسی، مذہبی و کشمیری جماعتوں کے قائدین، وکلاء، طلباء اور تاجر رہنماؤں نے استنبول چوک سے اسمبلی ہال تک ریلی نکالی اورجلسہ کیا۔


مقررین نے کہا بھارت وہاں سے فوج نکالے، چناب فارمولہ سمیت تقسیم کشمیر کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ادھر مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام سے یک جہتی کے اظہار کے لیے دنیا بھر میں یوم یک جہتی کشمیر منایا گیا۔ سیدعلی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اوریٰسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت کی جانب سے جاری پیغام میں پاکستانی عوام اورقیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کمشیر آمد پر کشمیریوں کی احتجاجی ہڑتال دنیا کو پیغام ہے کہ کشمیری، بھارتی جبری تسلط کو بھرپور طریقے سے مسترد کرتے ہیں ۔بندوقوں کے محاصرے میں مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کو کامیاب ظاہر کرنا مضحکہ خیز ہے۔ یہ دورے کمشیریوں کے لیے درد کے پیغام کے سوا کچھ نہیں، کشمیری منطقی انجام تک پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض افواج کے مظالم کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں 1989ء سے اب تک95 ہزار283 کشمیری شہید ہو چکے ہیں اور بھارتی مظالم کا خوفناک سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اٹلی کے شہر میلان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا۔اسپین کے شہر بارسلونا میں پاکستانی یک زبان نظر آئے، بیلجیئم کے دارالحکومت برسلزمیں کشمیر کونسل نے مظاہرہ کیا اورشمعیں روشن کیں، مظاہرین نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کرکشمیرکے مظلوموں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔کینیڈا کے شہر اوٹاوا اوربرطانوی دارالحکومت لندن میں بھی ریلی نکالی گئی۔ امریکا میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے جب کہ پاکستانی قونصل خانے میں تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ دریں اثناء افغانستان کے دارالحکومت کابل کی سڑکوں پر خواتین نے پہلی بار ریلی نکالی، شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اْٹھا رکھے تھے۔انھوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے لگائے۔ مقررین نے عالمی قوتوں سے بھارتی جارحیت رکوانے اورانسانی بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ برطانوی پارلیمنٹ لندن میں ہونے والی بین الاقوامی کشمیر کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارتی فوج کی پیلٹ گنز سے متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، کیونکہ مسئلہ حل نہ ہونے سے نہ صرف کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا بلکہ یہ معاملہ خطے کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود نے کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کانفرنس رکوانے میں ناکام رہی، مظلوموں کی آہ و بکا برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، جذبہ حریت کو دہشت گردی کا نام دینے کا بھارتی ڈرامہ ناکام ہوگیا۔

وزیراطلاعات فوادچوہدری نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ہر دس کشمیریوں پرایک فوجی تعینات کر رکھا ہے، اس کا نتیجہ نفرت کی صورت میں نکل رہاہے، کشمیریوں کا درد پاکستانی سب سے پہلے محسوس کرتے ہیں، کشمیرمیں جب کوئی تکلیف آتی ہے تو پورا پاکستان محسوس کرتا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر بندوق کے زور پر اپنا تسلط برقرار نہیں رکھ سکتا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہا کہ شہیدوں کا خون رنگ لائے گا، پی پی رہنما خورشید شاہ نے کہا مقبوضہ کشمیر کی آزادی پیپلزپارٹی کی سیاست اور منشور کا حصہ ہے۔ ریلوے تنظیموں کے زیر اہتمام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں، کوئٹہ میں یو م یکجہتی کشمیر پر بھارت کے خلا ف نعرے اور مختلف جماعتوں کی ریلیاں اور مظاہرے ہوئے ۔

یہ حقیقت ہے کہ عالمی برادری کے لیے دیرینہ مسئلہ کشمیر سے بین الاقوامی حمایت ایک چشم کشا تبدیلی ہے، دنیا بھارتی جعلسازیوں اور سفارتکارانہ مکروفریب سے آگاہ ہوچکی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے دنیا کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوجائے ۔ یہی وقت کی للکار بھی ہے۔
Load Next Story