ماسکو مذاکرات کی کامیابی کا امکان
طالبان کو امریکا کہتا تھا کہ تم افغان حکومت سے بات کرو مگر طالبان کا موقف تھا کہ اصل طاقت تو امریکا کی ہے۔
طالبان کو امریکا کہتا تھا کہ تم افغان حکومت سے بات کرو مگر طالبان کا موقف تھا کہ اصل طاقت تو امریکا کی ہے۔ فوٹو: فائل
افغانستان میں نہ ختم ہونے والے بحران کا حل اب کسی حد تک قریب نظر آنے لگا ہے، روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والے امن مذاکرات میں بہت سے افغان عناصر سمیت طالبان بھی شریک ہو ئے ہیں۔ ویسے تو دوحہ قطر میں بھی امریکا اور طالبان کے طویل عرصہ سے جاری امن مذاکرات کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پائے لیکن اب چونکہ روس بھی افغان بحران کو حل کرنے کے لیے کوششیں کررہا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو ماسکو مذاکرات سے افغان مسئلہ کا حل ممکن نظر آنے لگا ہے کیونکہ مذاکرات میں شریک طالبان نے اگلے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا پر آمادہ ہوگیاہے جو افغان بحران کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ طالبان کا شروع ہی سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ افغان بحران کے حل کے لیے بنیادی شرط امریکا اور دیگر غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا ہے۔
اب تازہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور روس کے ساتھ چین بھی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہے افغانستان میں روسی فوج کی واپسی میں پاکستان نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اس کے بعد وہاں انتشار پیدا ہوگیا اور آخر کار طالبان نے افغانستان پر حکومت قائم کرلی ۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور طالبان کی حکومت ختم کر کے حامد کرزئی کی قیادت میں وہاں ایک حکومت قائم کر دی مگر اس وقت بھی اصل اقتدار امریکا کے پاس ہی رہا۔
خیر حامدکرزئی کے بعد موجودہ صدر اشرف غنی کی حکومت قائم ہوئی مگر اس کی حالت بھی وہی تھی جو کرزئی حکومت کی تھی۔ یہ حکومت بھی طالبان کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ چنانچہ سرکاری افغان فوجوں پر طالبان کے حملے بدستور جاری رہے جن کے نتیجے میں لاتعداد افغانوں کا خون بہتا رہا، اب صدر ٹرمپ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ طالبان کو اقتدار میں شامل کرکے افغانستان سے فوجیں واپس بلا لے،اب دوحہ قطر مذاکرات اور ماسکو مذاکرات کے بعد امکان پیدا ہو گیا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کا راستہ مل جائے گا۔
طالبان کو امریکا کہتا تھا کہ تم افغان حکومت سے بات کرو مگر طالبان کا موقف تھا کہ اصل طاقت تو امریکا کی ہے، ہم اسی سے بات کریں گے، افغان حکومت سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اب جبکہ امریکا کے لیے انخلا کا فیصلہ کرنا ممکن ہو گیا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے اقتدار میں اس کے حامیوں کا حصہ بھی برقرار رہے جبکہ طالبان بھی اپنا حصہ لے کر اقتدار میں شریک ہوجائیں ، اس طریقے سے افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا اور امریکا اور نیٹو کی فوجیں بھی واپس چلی جائیں گی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو ماسکو مذاکرات سے افغان مسئلہ کا حل ممکن نظر آنے لگا ہے کیونکہ مذاکرات میں شریک طالبان نے اگلے روز اعلان کیا ہے کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا پر آمادہ ہوگیاہے جو افغان بحران کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ طالبان کا شروع ہی سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ افغان بحران کے حل کے لیے بنیادی شرط امریکا اور دیگر غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا ہے۔
اب تازہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور روس کے ساتھ چین بھی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہے افغانستان میں روسی فوج کی واپسی میں پاکستان نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اس کے بعد وہاں انتشار پیدا ہوگیا اور آخر کار طالبان نے افغانستان پر حکومت قائم کرلی ۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور طالبان کی حکومت ختم کر کے حامد کرزئی کی قیادت میں وہاں ایک حکومت قائم کر دی مگر اس وقت بھی اصل اقتدار امریکا کے پاس ہی رہا۔
خیر حامدکرزئی کے بعد موجودہ صدر اشرف غنی کی حکومت قائم ہوئی مگر اس کی حالت بھی وہی تھی جو کرزئی حکومت کی تھی۔ یہ حکومت بھی طالبان کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ چنانچہ سرکاری افغان فوجوں پر طالبان کے حملے بدستور جاری رہے جن کے نتیجے میں لاتعداد افغانوں کا خون بہتا رہا، اب صدر ٹرمپ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ طالبان کو اقتدار میں شامل کرکے افغانستان سے فوجیں واپس بلا لے،اب دوحہ قطر مذاکرات اور ماسکو مذاکرات کے بعد امکان پیدا ہو گیا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کا راستہ مل جائے گا۔
طالبان کو امریکا کہتا تھا کہ تم افغان حکومت سے بات کرو مگر طالبان کا موقف تھا کہ اصل طاقت تو امریکا کی ہے، ہم اسی سے بات کریں گے، افغان حکومت سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اب جبکہ امریکا کے لیے انخلا کا فیصلہ کرنا ممکن ہو گیا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے اقتدار میں اس کے حامیوں کا حصہ بھی برقرار رہے جبکہ طالبان بھی اپنا حصہ لے کر اقتدار میں شریک ہوجائیں ، اس طریقے سے افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا اور امریکا اور نیٹو کی فوجیں بھی واپس چلی جائیں گی۔