کرک المناک ٹریفک حادثہ
بلاشبہ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔
بلاشبہ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ فوٹو : فائل
کرک انڈس ہائی وے پر سپینہ بانڈہ کے قریب مسافرکوچ اور پک اپ میں تصادم کے نتیجے میں 13افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوگئے، مسافرکوچ اوورٹیک کرتے ہوئے مخالف سمت سے آنے والی پک اپ سے ٹکرا گئی ، حادثے کے نتیجے میں کوسٹر کا گیس سلنڈر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اورآگ بھڑک اٹھی، جس سے تمام مسافر بری طرح جھلس گئے۔بلاشبہ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال اوسطاً 17 ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ تعداد 30ہزار کے لگ بھگ ہے، جبکہ سالانہ 40 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوکر عارضی یا مستقل معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
صرف صوبہ پنجاب میں گزشتہ سال 1 لاکھ 67 ہزار حادثات میں 11 ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 9 ہزار کے قریب لوگ معذور ہوئے۔ ٹریفک حادثات اچانک وقوع پذیر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پسِ منظر میں لاپروائی، غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ اورلاقانونیت جیسے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ حادثات کی جو بڑی وجوہات نوٹ کی گئیں۔
ان میں تیزی رفتاری، سڑکوں کی خستہ حالی، ڈرائیوروں کی غفلت ،اوورلوڈنگ، ون وے کی خلاف وزری ، اوورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، موبائل فون کا استعمال، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائروں کا استعمال شامل ہیں ۔
ڈرائیوروں کی بڑی تعداد بغیر لائسنس کے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ تعلیم اور شعور کے فقدان کی وجہ سے ڈرائیورز حضرات افیون ، چرس اور شراب کے نشے میں دھت ہوکرگاڑی چلاتے ہیں جوکئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور اس کے بارے میں عوام میں شعور اجاگرکرکے ہولناک حادثات سے محفوظ رہ جاسکتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال اوسطاً 17 ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ تعداد 30ہزار کے لگ بھگ ہے، جبکہ سالانہ 40 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوکر عارضی یا مستقل معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
صرف صوبہ پنجاب میں گزشتہ سال 1 لاکھ 67 ہزار حادثات میں 11 ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 9 ہزار کے قریب لوگ معذور ہوئے۔ ٹریفک حادثات اچانک وقوع پذیر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پسِ منظر میں لاپروائی، غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ اورلاقانونیت جیسے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ حادثات کی جو بڑی وجوہات نوٹ کی گئیں۔
ان میں تیزی رفتاری، سڑکوں کی خستہ حالی، ڈرائیوروں کی غفلت ،اوورلوڈنگ، ون وے کی خلاف وزری ، اوورٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، موبائل فون کا استعمال، بریک کا فیل ہوجانا اور زائد مدت ٹائروں کا استعمال شامل ہیں ۔
ڈرائیوروں کی بڑی تعداد بغیر لائسنس کے گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ تعلیم اور شعور کے فقدان کی وجہ سے ڈرائیورز حضرات افیون ، چرس اور شراب کے نشے میں دھت ہوکرگاڑی چلاتے ہیں جوکئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور اس کے بارے میں عوام میں شعور اجاگرکرکے ہولناک حادثات سے محفوظ رہ جاسکتا ہے۔