لینڈ مافیا سے قبرستان بھی محفوظ نہیں ملیر میں پلاٹوں کی فروخت شروع

لینڈ مافیا نے قبرستان کیلیے مختص زمین پر قبضہ کرکے پلاٹوں کی فروخت کے اشتہارلگادیے۔

قبرستان کی اراضی کولینڈمافیا سے محفوظ بنانے کے لیے دیواریں بنائی جارہی ہیں، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کاڈپٹی کمشنرکوخط۔ فوٹو:فائل

ڈسٹرکٹ کونسل ملیرکی حدود میں واقع قبرستان کی زمین پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرکے ہاؤسنگ اسکیم بنانا شروع کردی۔

ایک شخص نے ڈسٹرکٹ کو نسل کی حدود میں واقع پلا ٹ نمبر 101سے ے کر 225تک کی اراضی ضلع ملیر میں قبرستان کے لیے وقف کردی تھی جس پر اب قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا ہے اورہاؤسنگ اسکیم بناکرپلاٹ فروخت کرنے کے لیے دیواروں پر چاکنگ اوربینرزبھی لگادیے ہیں علاقہ مکینوں کی جانب سے قبرستان کی اراضی پرقبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں شریک مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرزاورپلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پرقبر ستان پرقبضہ نامنظورکے نعرے درج تھے۔

اس موقع پرمظاہرین نے لینڈ مافیا کے خلاف شدید نعرے لگائے ،مظاہرین نے کہاکہ قبرستان کی جگہ پرلینڈمافیاہاؤسنگ اسکیم بناناچا ہتی ہے جس کے لیے انھوں نے دیواریں بنادی ہیں اورسموںگوٹھ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے جعلی ہاؤسنگ اسکیم متعارف کرادی گئی ہے۔


مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایاکہ یہ قبرستان کی زمین ہے جہاں لینڈ مافیا اوراعلیٰ شخصیات کی ملی بھگت سے رہائشی اسکیم بنائی جارہی ہے جبکہ قبرستان کی حدود میں لینڈ مافیا نے دیو اریں کھڑی کردی ہے اوردیوارپر پلاٹ برائے فروخت کی چاکنگ اوربینرزلگا دیے ہیں جس سے علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پایاجاتاہے۔

مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیاکہ لینڈمافیاکو قبرستان کے لیے مختص اراضی پرقبضہ کرنے سے روکا جائے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین مراد بلوچ نے ڈپٹی کمشنر ملیرکو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قبرستان کی اراضی کو لینڈمافیا سے محفوظ بنانے کے لیے دیواریں بنائی جارہی ہے لہذا لینڈ مافیاسے اس اراضی کو محفوظ بنانے میں ڈسٹرکٹ کو نسل کی مددکی جائے، علاقہ مکین اور ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین کے متضاد موقف کی وجہ سے قبرستان کی اراضی متنا زع بن گئی ہے۔
Load Next Story