نان اسٹاپ کرکٹ غیر مستقل مزاج پر فارمنس کی وجہ قرار
5 ماہ سے کھلاڑی اپنے بستر پر نہیں سوئے، جنوبی افریقہ کے سخت ترین ٹور سے ٹیم مضبوط یونٹ میں ڈھل جائے گی، مکی آرتھر
پروٹیز اٹیک کا سامنے کرنے سے ورلڈ کپ کی بھی اچھی تیاری ہوگئی، ہوم ایڈوانٹیج سے محرومی مایوس کن ہے،کوچ۔ فوٹو ؛ فائل
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے نان اسٹاپ کرکٹ کو غیرمستقل مزاج پرفارمنس کی وجہ قرار دے دیا۔
ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو یقین ہے کہ 2 ماہ طویل دورئہ جنوبی افریقہ کے تینوں فارمیٹس میں شکست کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم کوجو سبق حاصل ہوا وہ اسے بہترین بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ پروٹیز نے حریف کو ٹیسٹ سیریز میں 3-0 سے وائٹ واش کیا، ون ڈے سیریز میں 3-2 اور ٹوئنٹی 20 معرکوں میں 2-1 سے کامیابی حاصل کی۔
سنچورین میں مقامی میڈیا سے بات چیت میں مکی آرتھر نے کہا کہ ہماری ٹیم کو جنوبی افریقی وکٹوں پر کھیل کر جو سیکھنے کو ملا وہ ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مددگار ثابت ہوگا۔ ہیڈ کوچ نے پاکستان ٹیم کی مایوس پرفارمنس کا بڑا سبب نان اسٹاپ کرکٹ کو بھی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ 5 ماہ سے کھلاڑی اپنے بستر پر نہیں سوئے بلکہ اس دوران وہ مسلسل سفر کرتے یا ہوٹلوں میں ٹھہرتے رہے، ہم نے یہاں آنے سے قبل آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلی، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ٹیم جنوبی افریقہ آمد کے مقابلے میں اب زیادہ بہتر بن چکی ہے۔ ہمیں اس سے ورلڈ کپ کی تیاریوں میں بھی مدد ملے گی، مجھے اپنے کھلاڑیوں پر بھی فخر ہے۔
مکی آرتھر نے کہا کہ ہمیں جنوبی افریقی فاسٹ بولنگ اٹیک کا سامنا کرکے قابل قدر معلومات کے ساتھ اعتماد بھی حاصل ہوا، پروٹیز دیس میں کرکٹ کھیلنا آسان نہیں اور ہمیشہ ہی جنوبی ایشیائی ٹیموں کو یہاں مشکل پیش آتی ہے، مگر جس انداز میں ہمارے کھلاڑیوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا میں اس پر کافی خوش ہوں،پلیئرز نے آخری ٹریننگ سیشن میں بھی ویسی محنت اور لگن سے حصہ لیا جیسا یہاں آمد کے بعد پہلے سیشن میں جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا۔
کوچ نے کہاکہ ہوم ایڈوانٹیج کھلاڑیوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا مگر ہم اس سے محروم ہیں، اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ پلیئرز اس صورتحال سے عمدہ انداز میں نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ میں ٹیم سے کافی خوش ہوں، پلیئرزاپنی طرف سے پوری کوشش کرتے اور ناکامیوں کے باوجود مایوس نہیں ہوتے، ان کا مورال کافی بلند اور وہ کافی ڈسپلن ہیں، اگرچہ کرکٹ ان کیلیے ایک سنجیدہ نوعیت کا کام ہے مگر وہ بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں ، وہ سیکھنے کے مشتاق اور کبھی بھی سوال کرنے سے نہیں ہچکچاتے، وہ تنقید کو بھی اسی خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں جس طرح داد و تحسین وصول کرتے ہیں۔
مکی آرتھر نے خاص طور پر ٹیسٹ سیریز میں عمدہ کارکردگی پیش کرنے والی میزبان سائیڈ کو بھی فتح کا مکمل کریڈٹ دیا، انھوں نے کہا کہ پروٹیز نے اس ٹور میں اہم مواقعوں پر بہترین پرفارم کیا، میں ان کی تینوں فارمیٹس میں کارکردگی سے کافی متاثر ہوا ہوں۔
کوچ نے ڈومیسٹک اسٹرکچر کوکافی کمزور اور چیلنجنگ قرار دیدیا
مکی آرتھر نے پاکستان کے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو کافی کمزور اور چیلنجنگ قرار دیا ہے،انھوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کیلیے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ بدستور مضبوط رہے اور ہر وقت بہترین کھلاڑیوں کی دستیابی ممکن ہو، اگرچہ یہ سب کیلیے ہی اہم چیز ہے مگر خاص طور پر پاکستان کیلیے اس لیے بھی چیلنجنگ ہے کہ ہم اس معاملے میں امچیور ہیں، قومی ٹیم کو ٹیلنٹ فراہم کرنے والا ڈومیسٹک اسٹرکچر کافی کمزور ہے۔
آرتھر پی سی بی میں احسان مانی اور وسیم خان کی تقرری پر مسرور
ہیڈ کوچ مکی آرتھر پاکستان کرکٹ بورڈ میں احسان مانی کی بطور چیئرمین تقرری اور وسیم خان کے مینجنگ ڈائریکٹر بننے پر کافی خوش ہیں، انھوں نے کہاکہ دونوں کو دور حاضر کی کرکٹ ضروریات کا اچھی طرح علم ہے، خاص طور پر وہ جانتے ہیں کہ مصروف ترین شیڈول اور فرنچائز کرکٹ لیگز پلیئرز پر کتنا اثر ڈال رہی ہیں۔
پاکستانی میڈیا اور عوام جنوبی افریقی ٹور کے مثبت پہلوئوں پر غورکریں
جنوبی افریقہ میں تمام فارمیٹس میں شکست کے باوجود ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو امید ہے کہ پاکستان واپسی پر ٹیم کا عمدہ استقبال ہوگا، انھوں نے کہاکہ پاکستان کا میڈیا اور عوام اس ٹور کے مثبت پہلوئوں پر غور کریں، میں جمعے کی صبح لاہور میں پریس کانفرنس کررہا ہوں، مجھے یقین ہے کہ صحافی اس بات کو ذہن میں رکھیں گے کہ پاکستان کا جنوبی افریقہ میں فتوحات کا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا ہے، مجھے امید ہے کہ میڈیا اور شائقین دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح بابر اعظم، امام الحق اور ہمارے چند دیگرکھلاڑیوں کے کھیل میں بہتری آرہی ہے، یہی اس ٹور کا سب سے مثبت پہلو ہے۔
آرتھر کا سرفرازکو ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم
مکی آرتھر نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے درست قدم اٹھایا، میں نے چیئرمین سے اسی ہفتے بات کی جس میں قیادت کے حوالے سے ہمارے درمیان طویل گفتگو ہوئی تھی، سرفراز کے بارے میں کافی عرصے سے قیاس آرائیاں کی جاری تھیں، میڈیا نے بھی منفی کردار ادا کیا، جب آپ کی ٹیم جیت نہ رہی ہو تو پھر صورتحال کافی مشکل ہوجاتی ہے، سرفراز احمد بھی کافی دبائو محسوس کررہے تھے مگر ہم اب اپنی پوری توجہ ورلڈ کپ پر مرکوز کرسکتے ہیں۔
ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو یقین ہے کہ 2 ماہ طویل دورئہ جنوبی افریقہ کے تینوں فارمیٹس میں شکست کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم کوجو سبق حاصل ہوا وہ اسے بہترین بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ پروٹیز نے حریف کو ٹیسٹ سیریز میں 3-0 سے وائٹ واش کیا، ون ڈے سیریز میں 3-2 اور ٹوئنٹی 20 معرکوں میں 2-1 سے کامیابی حاصل کی۔
سنچورین میں مقامی میڈیا سے بات چیت میں مکی آرتھر نے کہا کہ ہماری ٹیم کو جنوبی افریقی وکٹوں پر کھیل کر جو سیکھنے کو ملا وہ ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مددگار ثابت ہوگا۔ ہیڈ کوچ نے پاکستان ٹیم کی مایوس پرفارمنس کا بڑا سبب نان اسٹاپ کرکٹ کو بھی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ 5 ماہ سے کھلاڑی اپنے بستر پر نہیں سوئے بلکہ اس دوران وہ مسلسل سفر کرتے یا ہوٹلوں میں ٹھہرتے رہے، ہم نے یہاں آنے سے قبل آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلی، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ٹیم جنوبی افریقہ آمد کے مقابلے میں اب زیادہ بہتر بن چکی ہے۔ ہمیں اس سے ورلڈ کپ کی تیاریوں میں بھی مدد ملے گی، مجھے اپنے کھلاڑیوں پر بھی فخر ہے۔
مکی آرتھر نے کہا کہ ہمیں جنوبی افریقی فاسٹ بولنگ اٹیک کا سامنا کرکے قابل قدر معلومات کے ساتھ اعتماد بھی حاصل ہوا، پروٹیز دیس میں کرکٹ کھیلنا آسان نہیں اور ہمیشہ ہی جنوبی ایشیائی ٹیموں کو یہاں مشکل پیش آتی ہے، مگر جس انداز میں ہمارے کھلاڑیوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا میں اس پر کافی خوش ہوں،پلیئرز نے آخری ٹریننگ سیشن میں بھی ویسی محنت اور لگن سے حصہ لیا جیسا یہاں آمد کے بعد پہلے سیشن میں جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا۔
کوچ نے کہاکہ ہوم ایڈوانٹیج کھلاڑیوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا مگر ہم اس سے محروم ہیں، اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ پلیئرز اس صورتحال سے عمدہ انداز میں نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ میں ٹیم سے کافی خوش ہوں، پلیئرزاپنی طرف سے پوری کوشش کرتے اور ناکامیوں کے باوجود مایوس نہیں ہوتے، ان کا مورال کافی بلند اور وہ کافی ڈسپلن ہیں، اگرچہ کرکٹ ان کیلیے ایک سنجیدہ نوعیت کا کام ہے مگر وہ بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں ، وہ سیکھنے کے مشتاق اور کبھی بھی سوال کرنے سے نہیں ہچکچاتے، وہ تنقید کو بھی اسی خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں جس طرح داد و تحسین وصول کرتے ہیں۔
مکی آرتھر نے خاص طور پر ٹیسٹ سیریز میں عمدہ کارکردگی پیش کرنے والی میزبان سائیڈ کو بھی فتح کا مکمل کریڈٹ دیا، انھوں نے کہا کہ پروٹیز نے اس ٹور میں اہم مواقعوں پر بہترین پرفارم کیا، میں ان کی تینوں فارمیٹس میں کارکردگی سے کافی متاثر ہوا ہوں۔
کوچ نے ڈومیسٹک اسٹرکچر کوکافی کمزور اور چیلنجنگ قرار دیدیا
مکی آرتھر نے پاکستان کے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو کافی کمزور اور چیلنجنگ قرار دیا ہے،انھوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کیلیے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ بدستور مضبوط رہے اور ہر وقت بہترین کھلاڑیوں کی دستیابی ممکن ہو، اگرچہ یہ سب کیلیے ہی اہم چیز ہے مگر خاص طور پر پاکستان کیلیے اس لیے بھی چیلنجنگ ہے کہ ہم اس معاملے میں امچیور ہیں، قومی ٹیم کو ٹیلنٹ فراہم کرنے والا ڈومیسٹک اسٹرکچر کافی کمزور ہے۔
آرتھر پی سی بی میں احسان مانی اور وسیم خان کی تقرری پر مسرور
ہیڈ کوچ مکی آرتھر پاکستان کرکٹ بورڈ میں احسان مانی کی بطور چیئرمین تقرری اور وسیم خان کے مینجنگ ڈائریکٹر بننے پر کافی خوش ہیں، انھوں نے کہاکہ دونوں کو دور حاضر کی کرکٹ ضروریات کا اچھی طرح علم ہے، خاص طور پر وہ جانتے ہیں کہ مصروف ترین شیڈول اور فرنچائز کرکٹ لیگز پلیئرز پر کتنا اثر ڈال رہی ہیں۔
پاکستانی میڈیا اور عوام جنوبی افریقی ٹور کے مثبت پہلوئوں پر غورکریں
جنوبی افریقہ میں تمام فارمیٹس میں شکست کے باوجود ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو امید ہے کہ پاکستان واپسی پر ٹیم کا عمدہ استقبال ہوگا، انھوں نے کہاکہ پاکستان کا میڈیا اور عوام اس ٹور کے مثبت پہلوئوں پر غور کریں، میں جمعے کی صبح لاہور میں پریس کانفرنس کررہا ہوں، مجھے یقین ہے کہ صحافی اس بات کو ذہن میں رکھیں گے کہ پاکستان کا جنوبی افریقہ میں فتوحات کا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا ہے، مجھے امید ہے کہ میڈیا اور شائقین دیکھ رہے ہوں گے کہ کس طرح بابر اعظم، امام الحق اور ہمارے چند دیگرکھلاڑیوں کے کھیل میں بہتری آرہی ہے، یہی اس ٹور کا سب سے مثبت پہلو ہے۔
آرتھر کا سرفرازکو ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم
مکی آرتھر نے سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے درست قدم اٹھایا، میں نے چیئرمین سے اسی ہفتے بات کی جس میں قیادت کے حوالے سے ہمارے درمیان طویل گفتگو ہوئی تھی، سرفراز کے بارے میں کافی عرصے سے قیاس آرائیاں کی جاری تھیں، میڈیا نے بھی منفی کردار ادا کیا، جب آپ کی ٹیم جیت نہ رہی ہو تو پھر صورتحال کافی مشکل ہوجاتی ہے، سرفراز احمد بھی کافی دبائو محسوس کررہے تھے مگر ہم اب اپنی پوری توجہ ورلڈ کپ پر مرکوز کرسکتے ہیں۔