تھر کو سرسبز بنانے کیلیے تھر فاؤنڈیشن اور PARC میں معاہدہ
صحرائے تھر میں ہائیڈرو پونکس نظام کے ذریعے فصلیں، سبزیاں، پھل داردرخت اُگائے جائیں گے۔
فصل کو کھاد، مٹی درکار نہیں ہوگی، تھر فاؤنڈیشن 20 ایکڑ زمین، وسائل فراہم کرے گی۔ فوٹو: فائل
تھر کو سرسبز بنانے کیلیے تھر فاؤنڈیشن اور PARC میں معاہدہ طے پا گیا۔
تھر پارکر میں خشک سالی کے خاتمے کے لیے تھر فاؤنڈیشن اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل(PARC) نے ایک معاہد ے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت علاقے میں فصلوں، سبزیوں، پھل داردرختوں اور ترمیم شدہ بیجوں کو جدید آبپاشی نظام کے ذریعے بڑھایا جائے گا۔ علاقے میں کھارا پن کم کرنے اور کثیرجہتی تجارتی مقاصد کے لیے مویشیوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ ہائیڈرو پونکس نظام کے تحت درختوں کی افزائش بھی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ہائیڈروپونکس کے نظام کے تحت لگائے جانے والے درختوں اور فصلوں کو کھاد اور مٹی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ معاہدے پر تھر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مرتضیٰ رضوی اور پارک کے چیئرمین ڈاکٹریوسف ظفر نے دستخط کیے۔
معاہدہ مستقبل کے کسانوں کی ویلیو چین قائم کرنے ، خود مختاری کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانے اور تھر بلاک۔II میں غذائی قلت دور کرنے اور غذائی صلاحیت کو بڑھانے میں ان کسانوں کومدد فراہم کرے گا۔ دونوں ادارے تھر بلاک۔IIمیں کھارے پانی کی وجہ سے زمین کی تباہی کے تجزیے اور اس کی اصلاحات کے اوپر بھی کام کریں گے۔
منصوبوں کی نگرانی کے لیے پارک کے سائنسداں باقاعدہ دورے کرکے آگے بڑھنے کے بارے میں مشورے، نئی اقسام کے پودوں اور فصلوں اور دیگر تکنیکی معاملات پر مشورے فراہم کریں گے۔
اس کے علاوہ پارک تھر فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کیے گئے بایو سلائن منصوبوں کی بھی نگرانی کریگا۔ معاہدے کے تحت مویشیوں کے فضلے کو کھاد اور ایندھن کے طور پر استعمال کرکے گھریلو بایو گیس یونٹس نصف کرنے کے امکانات پر مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
منصوبے کے لیے تھر فاؤنڈیشن کی جانب سے 20ایکڑ زمین فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی، بیج اور پودوں سمیت دیگر ضروری وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔ تھر فاؤنڈیشن معاہدے پرعملدرآمد کویقینی بنانے کے ساتھ منصوبے کیلیے فنڈز کی فراہمی اور نگرانی کو بھی یقینی بنائے گی۔
اس موقع پر پارک کے چیئر مین ڈاکٹر یوسف ظفر نے کہا کہ تھر کے علاقے میں خشک سالی کے خاتمے کے لیے ہمیں تھر فاؤنڈیشن کے ساتھ کی جانے والی شراکت داری پر فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ارڈ زون ریسرچ انسٹیٹیوٹ عمر کوٹ میں کیے جانے والے کامیاب منصوبوں کو تھر پارکر میں دوبارہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔
معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے تھر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مرتضیٰ رضوی نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق تھر پارکر میں زیرِ زمین 80ارب کیوبک فٹ پانی موجود ہے جس کو پمپ کرکے تھر پارکر کو ایک بہترین زرعی علاقے کے طور پر ڈیولپ کیاجاسکتا ہے۔
تھر پارکر میں خشک سالی کے خاتمے کے لیے تھر فاؤنڈیشن اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل(PARC) نے ایک معاہد ے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت علاقے میں فصلوں، سبزیوں، پھل داردرختوں اور ترمیم شدہ بیجوں کو جدید آبپاشی نظام کے ذریعے بڑھایا جائے گا۔ علاقے میں کھارا پن کم کرنے اور کثیرجہتی تجارتی مقاصد کے لیے مویشیوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ ہائیڈرو پونکس نظام کے تحت درختوں کی افزائش بھی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ہائیڈروپونکس کے نظام کے تحت لگائے جانے والے درختوں اور فصلوں کو کھاد اور مٹی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ معاہدے پر تھر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مرتضیٰ رضوی اور پارک کے چیئرمین ڈاکٹریوسف ظفر نے دستخط کیے۔
معاہدہ مستقبل کے کسانوں کی ویلیو چین قائم کرنے ، خود مختاری کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانے اور تھر بلاک۔II میں غذائی قلت دور کرنے اور غذائی صلاحیت کو بڑھانے میں ان کسانوں کومدد فراہم کرے گا۔ دونوں ادارے تھر بلاک۔IIمیں کھارے پانی کی وجہ سے زمین کی تباہی کے تجزیے اور اس کی اصلاحات کے اوپر بھی کام کریں گے۔
منصوبوں کی نگرانی کے لیے پارک کے سائنسداں باقاعدہ دورے کرکے آگے بڑھنے کے بارے میں مشورے، نئی اقسام کے پودوں اور فصلوں اور دیگر تکنیکی معاملات پر مشورے فراہم کریں گے۔
اس کے علاوہ پارک تھر فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کیے گئے بایو سلائن منصوبوں کی بھی نگرانی کریگا۔ معاہدے کے تحت مویشیوں کے فضلے کو کھاد اور ایندھن کے طور پر استعمال کرکے گھریلو بایو گیس یونٹس نصف کرنے کے امکانات پر مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
منصوبے کے لیے تھر فاؤنڈیشن کی جانب سے 20ایکڑ زمین فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی، بیج اور پودوں سمیت دیگر ضروری وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔ تھر فاؤنڈیشن معاہدے پرعملدرآمد کویقینی بنانے کے ساتھ منصوبے کیلیے فنڈز کی فراہمی اور نگرانی کو بھی یقینی بنائے گی۔
اس موقع پر پارک کے چیئر مین ڈاکٹر یوسف ظفر نے کہا کہ تھر کے علاقے میں خشک سالی کے خاتمے کے لیے ہمیں تھر فاؤنڈیشن کے ساتھ کی جانے والی شراکت داری پر فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ارڈ زون ریسرچ انسٹیٹیوٹ عمر کوٹ میں کیے جانے والے کامیاب منصوبوں کو تھر پارکر میں دوبارہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔
معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے تھر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مرتضیٰ رضوی نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق تھر پارکر میں زیرِ زمین 80ارب کیوبک فٹ پانی موجود ہے جس کو پمپ کرکے تھر پارکر کو ایک بہترین زرعی علاقے کے طور پر ڈیولپ کیاجاسکتا ہے۔