سکھر میں آئی ایس آئی دفاتر پر خود کش حملے

غیر ملکی سرمایہ کار بھی امن و امان کی بگڑتی صورتحال دیکھتے ہوئے ادھر کا رخ نہیں کرتا۔

دہشت گرد ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے حساس اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

سکھر میں آئی ایس آئی کے دفاتر پر خود کش حملے میں میجر سمیت4 افراد شہید اور 45 زخمی ہو گئے۔ فورسز کی جوابی فائرنگ سے 3 حملہ آور ہلاک ہو گئے جب کہ ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق افطار کے وقت ایک حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی عمارت کے گیٹ سے ٹکرا دی۔ رینجرز اور پولیس افسران جائے وقوعہ پر پہنچے تو یکے بعد دیگرے 3 مزید دھماکے ہو گئے اور حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کردی' دستی بم بھی پھینکے گئے۔ ذرایع کے مطابق بیراج کالونی میں ڈی آئی جی ہائوس' کمشنر ہائوس اور آئی ایس آئی کے دفاتر کی عمارتوں کا 40 فیصد منہدم ہو گیا ہے۔

جس انداز میں دہشت گردوں نے خفیہ ادارے کے دفاتر کو نشانہ بنایا ہے اس سے یہ امر واضح ہے کہ انھوں نے منصوبہ بندی کے تحت منظم انداز میں کارروائی کی، انھوں نے حملے کے لیے افطاری کا وقت چنا کیونکہ اس وقت روزہ دار یا تو افطاری میں مصروف ہوتے یا نماز کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ انتہائی حساس ہے اور یہاں عام حالات میں بھی سیکیورٹی کے انتظامات سخت ہوتے ہیں حتیٰ کہ عام افراد تک کو داخلے کی اجازت نہیں' علاقے میں بیرئیر لگے ہوئے ہیں اور یہاں آنے والے ہر شخص کی مکمل تلاشی کے بعد اسے داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔ حیرت اس امر پر ہے کہ ان تمام حفاظتی انتظامات کے باوجود خود کش حملہ آور کار میں بارودی مواد اوراسلحہ لے کر حساس ادارے کے دفتر تک کیسے پہنچ گئے' یہ وہ سوال ہے جو سیکیورٹی کے حوالے سے اٹھایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔

دہشت گرد ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے حساس اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ لاہور میں بھی آئی ایس آئی کے دفتر کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ایف آئی اے کی عمارت کا ایک بڑا حصہ تو حملے میں منہدم ہو گیا تھا۔ اس طرح مہران بیس پر بھی حملہ کر کے دہشت گردوں نے پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا پھیلا دی تھی۔ جی ایچ کیو ہیڈ کوارٹر پر حملہ تو بہت بڑا چیلنج بن گیا تھا۔ دہشت گرد ان حملوں سے یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ جب ملک کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی ادارے ان کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں تو عام آدمی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ جب حساس اور سیکیورٹی ادارے مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بننے لگیں تو عام آدمی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں معاشی نمو رک جاتی اور ملکی سرمایہ دار مایوس ہو کر اپنا سرمایہ محفوظ مقام پر منتقل کرنا شروع کر دیتا ہے۔


غیر ملکی سرمایہ کار بھی امن و امان کی بگڑتی صورتحال دیکھتے ہوئے ادھر کا رخ نہیں کرتا۔ اس دہشت گردانہ ماحول میں حکومت معاشی ترقی کے لیے خواہ کتنے ہی منصوبے بنائے وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے کیونکہ معاشی ترقی اور سرمائے کے فروغ کے لیے پہلی شرط پر امن ماحول ہوتا ہے۔ ذرایع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سکھر میں ہونے والے حملے میں دہشت گردوں کا ہدف میجر ذیشان تھے کیونکہ ان کے پاس دہشت گردوں کے متعلق معلومات اور اہم دستاویزات تھیں لہذا ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردوں نے ان کے دفتر میں گھس کر انھیں شہید کر دیا۔ اگرچہ چاروں دہشت گرد مارے گئے ہیںمگر کسی بھی حملے کی کامیابی تب تک ممکن نہیں جب تک اندرون خانہ دہشت گردوں کے ہمدرد موجود نہ ہوں جو انھیں مکمل معلومات فراہم کر کے ان کی معاونت کرتے ہیں۔یہ سوال جواب طلب ہے کہ انتہائی سیکیورٹی کے باوجود دہشت گرد عمارت کے اندر کیسے داخل ہو گئے۔ جب تک ان ہمدردوں کو گرفت میں نہیں لایا جاتا دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانا مشکل امر ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد سکھر کی بیراج کالونی کمپائونڈ میں تلاشی کے دوران 2 خود کش جیکٹس برآمد ہوئی ہیں۔ اگرچہ کراچی' صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں مگر سکھر میں دہشت گردی کی اتنی بڑی کارروائی پہلی بار کی گئی ہے۔ جمعرات کو پشاور میں نا معلوم افراد نے ڈپٹی کمانڈنٹ ایف آر پی کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے ڈپٹی کمانڈنٹ زخمی ان کا گارڈ اور ڈرائیور جاں بحق ہو گئے۔ دہشت گرد سیکیورٹی اداروں پر حملے کر کے کھلی جنگ کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان حملوں سے ان سیاستدانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو کسی بھی انداز میں دہشت گردوں سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ دہشت گرد ملکی سالمیت کو دائو پر لگا چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیکیورٹی ادارے منظم ہو کر مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں' تنہا کوئی بھی ادارہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف جس طرح توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے اجلاس کر رہے ہیں' اسی طرح انھیں ملک میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی انتھک جدوجہد کرنی چاہیے۔ ابھی تک صورت حال یہ ہے کہ نئی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی واضح اور ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی' سکھر میں آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملہ ایک پیغام ہے کہ اگر دہشت گردی پر قابو نہ پایا گیا تو پھر نئی حکومت کی کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو گی' اس کا تعلق خواہ تجارت و سرمایہ کاری سے ہو یا توانائی بحران سے ہو۔ لہٰذا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح میں رکھا جائے۔
Load Next Story