پاکستان کا شام میں خانہ جنگی پر تشویش

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیرنے سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ آگے بڑھ کر شام کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کیلئے اقدامات کرے۔

امریکا کی طرف سے شام کے باغیوں کی مہلک اسلحے سے مدد کی جا رہی ہے تا کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرایا جا سکے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

ISLAMABAD:
پاکستان نے شام کی خانہ جنگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ شامی باغیوں کو بعض بیرونی ممالک سے ہونے والی اسلحے کی ترسیل رکوائی جائے تا کہ وہاں خانہ جنگی کے خاتمے کی صورت پیدا ہو سکے۔ واضح رہے مشرق وسطیٰ میں قدیم ترین تاریخ کے حامل ملک شام میں جاری خانہ جنگی کی شدت میں کمی کے ابھی تک کوئی آثار پیدا نہیں ہوئے جب کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت صورتحال کو اور زیادہ پیچیدہ اور سنگین بنا رہی ہے۔

امریکا کی طرف سے شام کے باغیوں کی مہلک اسلحے سے مدد کی جا رہی ہے تا کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرایا جا سکے کیونکہ اس پورے خطے میں ایران کی کھلم کھلا حمایت کرنے والا شام واحد ملک ہے جب کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے باعث مغربی سامراجی ممالک کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ شام کے باغیوں کے لیے اسلحے کی دھڑا دھڑ فراہمی کی پاکستان نے سخت مخالفت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر شام کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔


مسعود خان نے مشرق وسطی کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس چیمبر میں بیٹھنے کے وقت شام جل رہا ہے اور وہاں پر قتل و غارت جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے مسئلے پر جنیوا کانفرنس کا انعقاد مسلسل تعطل کا شکار ہو رہا ہے۔ کانفرنس کے انعقاد کے لیے پہلے جون پھر جولائی اور اب ستمبر کے مہینے کا وقت دیا گیا ہے کیونکہ ہر فریق چاہتا ہے کہ مذاکرات کے عمل سے قبل اپنی عسکری بالا دستی ثابت کرے۔

مسعود خان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کی حکومت اور حزب اختلاف کے نمایندوں کو جنیوا کانفرنس میں لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں حکومت کی تحلیل سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائیگا۔ پاکستان کے مندوب کا موقف بالکل درست ہے' شام میں کوئی متبادل سسٹم بنائے بغیر حکومت ختم ہوئی تو اس ملک میں خون ریزی پہلے سے بھی بڑھ جائے گی۔ اقوام عالم کا فرض ہے کہ وہ شام کے بحران کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔
Load Next Story