ٹریفک پولیس کی کارروائیاں مخالف سمت سے آنیوالے 197 ڈرائیور گرفتار
مہم کے دوران ٹریفک پولیس نے کئی گاڑیاں ضبط کرلیں،مقدمات درج
مشیر وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی، گاڑی ضبط نہیں کی گئی، شہری۔ فوٹو: فائل
ٹریفک پولیس کی مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے خلاف مہم جاری ہے تاہم جمعے کے روز 197 ڈرائیوروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ متعدد گاڑیاں بھی ضبط کرلی گئیں۔
شہر بھر میں مخالف سمت (رانگ وے) سے آنیوالی گاڑیوں کیخلاف ٹریفک پولیس کی مہم زورو شور سے جاری ہے ، میٹرو پول ، شارع فیصل ، ناظم آباد ، نارتھ ناظم آباد ، لیاقت آباد ، کریم آباد ، واٹر پمپ ، کلفٹن ، ڈیفنس ،ملیر اورشہرکے مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس اہلکار سڑکوں پر تعینات ہیں اور خصوصی طور پر مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کررہے ہیں۔
جمعے کے روز گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹرز کے سامنے پولیس موبائل کا بھی چالان کردیا گیا ، ہیڈ کوارٹرز کے سامنے پولیس موبائل میںاہلکار سادہ لباس میں سوار تھا اور مخالف سمت سے آرہا تھا ، ٹریفک پولیس اہلکار کے پوچھنے پر وہ اپنا سروس کارڈ اور نہ ہی شناختی کارڈ پیش کرسکا جس کے باعث ٹریفک پولیس اہلکار نے اس کا چالان کردیا۔
علاوہ ازیں ڈی آئی جی ٹریفک جاوید علی مہر کے مطابق جمعے کو شہر بھر میں مجموعی طور پر مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے 197 ڈرائیوروں کو گرفتار کیا گیا جن کے خلاف زیر دفعہ 279 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اس کے علاوہ متعددگاڑیاں بھی ضبط کرلی گئی ہیں،ڈی آئی جی ٹریفک کا مزید کہنا تھا کہ شہری ٹریفک قوانین کی پابند کریں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کی مہم خوش آئند ہے مگر گزشتہ روز مشیر وزیراعلیٰ سندھ بخش مہر کی گاڑی پر لگی غیر قانونی نمبر پلیٹ نکال کر صرف چالان کیا گیا جبکہ غریب شہریوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کرکے گاڑی بھی ضبط کرلی جاتی ہے،شہر میں یہ کھلا تضاد کیوں؟۔
شہر بھر میں مخالف سمت (رانگ وے) سے آنیوالی گاڑیوں کیخلاف ٹریفک پولیس کی مہم زورو شور سے جاری ہے ، میٹرو پول ، شارع فیصل ، ناظم آباد ، نارتھ ناظم آباد ، لیاقت آباد ، کریم آباد ، واٹر پمپ ، کلفٹن ، ڈیفنس ،ملیر اورشہرکے مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس اہلکار سڑکوں پر تعینات ہیں اور خصوصی طور پر مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کررہے ہیں۔
جمعے کے روز گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹرز کے سامنے پولیس موبائل کا بھی چالان کردیا گیا ، ہیڈ کوارٹرز کے سامنے پولیس موبائل میںاہلکار سادہ لباس میں سوار تھا اور مخالف سمت سے آرہا تھا ، ٹریفک پولیس اہلکار کے پوچھنے پر وہ اپنا سروس کارڈ اور نہ ہی شناختی کارڈ پیش کرسکا جس کے باعث ٹریفک پولیس اہلکار نے اس کا چالان کردیا۔
علاوہ ازیں ڈی آئی جی ٹریفک جاوید علی مہر کے مطابق جمعے کو شہر بھر میں مجموعی طور پر مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں کے 197 ڈرائیوروں کو گرفتار کیا گیا جن کے خلاف زیر دفعہ 279 کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اس کے علاوہ متعددگاڑیاں بھی ضبط کرلی گئی ہیں،ڈی آئی جی ٹریفک کا مزید کہنا تھا کہ شہری ٹریفک قوانین کی پابند کریں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کی مہم خوش آئند ہے مگر گزشتہ روز مشیر وزیراعلیٰ سندھ بخش مہر کی گاڑی پر لگی غیر قانونی نمبر پلیٹ نکال کر صرف چالان کیا گیا جبکہ غریب شہریوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کرکے گاڑی بھی ضبط کرلی جاتی ہے،شہر میں یہ کھلا تضاد کیوں؟۔