وزیراعظم کے مشیرشجاعت عظیم کااستعفیٰ دینے کااعلان

فضائیہ کاملازم تھا،بحث کو آگے نہیں بڑھاناچاہتا،مستعفی ہورہاہوں،شجاعت عظیم

منظورشدہ استعفیٰ عدالت کے ریکارڈ پر لے آئیں،سپریم کورٹ کااٹارنی جنرل کوحکم فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے شہری ہوابازی کیلیے وزیراعظم کے مشیرشجاعت عظیم کا استعفیٰ منظور ہونے کا نوٹیفکیشن طلب کرلیا اوراٹارنی جنرل کوہدایت کی ہے کہ منظورشدہ استعفیٰ عدالت کے ریکارڈ پرلے آئیں۔

جمعرات کونیواسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیرمیں بے قاعدگیوں کے مقدے کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منیر اے ملک اور مشیرشہری ہوا بازی پیش ہوئے ۔ اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ کو بتایا کہ شجاعت عظیم نے کینیڈاکی شہریت کا حلف اٹھایاہے لیکن ان کی وفاداری پاکستان کے ساتھ ہے ۔انھوں نے بتایاشجاعت عظیم نے مشیرکے عہدے کیلیے خوددرخواست نہیںدی تھی بلکہ وزیراعظم کی پیشکش پرعہدہ قبول کیا ۔ شجاعت عظیم نے عدالت میں تسلیم کیاکہ جب وہ پاک فضائیہ کے ملازم تھے ان کاکورٹ مارشل ہوا تھالیکن کورٹ مارشل کسی اخلاقی بے راہ روی پرنہیں ہوا۔




ان پرمعمولی نوعیت کے الزامات تھے جس میں سینئر افسران سے اختلافات بھی ایک وجہ تھی، انھوں نے بتایاکہ وہ رائل ایئرپورٹ سروسزکے چیف ایگزیکٹوکے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں لیکن اس بحث کوبڑھانا نہیں چاہتے اوراپنے عہدے سے مستعفی ہورہے ہیں، عدالت نے ان سے استعفیٰ طلب کیا تومشیر ہوابازی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کواپنااستعفیٰ پیش کردیںگے جس پر عدالت نے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔
Load Next Story